آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعد الحریری کا استعفیٰ جہاں لبنان کے لئے ایک دھماکہ خیز خبر تھی وہیں پر پوری دنیا اس کے اثرات کا جائزہ لینے کے لئے بیتاب دکھائی دیتی ہے۔ سعد الحریری کے استعفیٰ سے عالم عرب میں ایک اور بھونچال آ گیا تھا اور مذہبی رشتوں کے سبب سے پاکستان بھی مستقبل میں اس صورتحال سے متاثر ہو سکتا ہے تھا۔ سعد الحریری کے استعفیٰ میں چھپی عالم عرب کی لبنان کے حوالے سے بے اطمینانی صاف نظر آ رہی تھی۔ اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ عالم عرب اس کیفیت سے کیا حاصل کرنا چاہتا تھا اور اس کو کیا حاصل ہو سکتا ہے۔ رفیق الحریری کے قتل کے بعد عالم عرب نے سعد الحریری کی کھل کر حمایت کی تھی۔ برسوں مالی اور سیاسی حمایت کو سعد الحریری کے ساتھ ساتھ رکھا اور سعد الحریری مسند اقتدار پر براجمان ہو گئے۔ مگر اس کے بعد سعد الحریری اس قابلیت کا مظاہرہ نہ کر سکے کہ جس قابلیت کا مظاہرہ کرنے کے لئے ان کی حمایت اور مدد کی گئی تھی۔ عالم عرب میں یہ تصور روز بروز مضبوط ہوتا جا رہا تھا کہ وہ نیشنل یونٹی گورنمنٹ کی تشکیل کے وقت مشعل عون اور حزب اللہ سے معاملات کو درست طریقے سے طے نہیں کر سکے اور نتیجتاً حزب اللہ جہاں عسکری محاظ پر عراق اور شام میں فعال ہوتی چلی گئی، وہیں پر یمن کے حوثی قبائل سے بھی اس کے روابط مزید مضبوط ہوتے چلے گئے۔ حکومت کا حصہ ہونے کے سبب سے

سیاسی حیثیت بھی مسلمہ ہو گئی اور مغرب کے لئے حزب اللہ ایک ایسا وجود بن گئی کہ جس کے خلاف براہ راست کارروائی مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی گئی۔عالم عرب حزب اللہ سے سیاسی حیثیت کو چھین لینا چاہتا ہے اور سعد الحریری کی موجودہ حکومت کے برقرار رہتے ہوئے یہ تقریباً نا ممکن ہو چکا تھا۔ ایک برادر اسلامی ملک میں سعد الحریری کو ایک طرف رکھتے ہوئے ان کی سیاسی حمایت کو ان کے سب سے بڑے بھائی بہاالحریری کے پلڑے میں ڈال دینا ضرورت تصور کیا جا رہا ہے۔ بہا الحریری مقتول رفیق الحریری کے سب سے بڑے بیٹے اور ڈالروں میں ارب پتی شخصیت ہیں۔ مگر حزب اللہ کے حوالے سے سخت گیر مئوقف ان کی پہچان ہے۔ لیکن بہا الحریری کی اقتدار کی طرف پیش قدمی اس امر سے مشروط ہے کہ
حریری خاندان اور ان کے سیاسی حامی اس اقدام کو قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ ابھی تک لبنان کی صورتحال دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ بہا الحریری کو آگے لانے کے فیصلے میں حریری خاندان یا دیگر رہنمائوں سے مشاورت نہیں کی گئی۔ اور یہ معاملہ از خود ہی طے کر لیا گیا ہے۔ اس لئے ابھی تک حریری خاندان یا ان کے حمامیوں کی طرف سے نئے رہنما کی تعیناتی کی طرف کوئی جھکائو نظر نہیں آتا ہے۔ پھر اس بات کی حیثیت بھی تسلیم شدہ ہے کہ سعد الحریری یکدم اپنے آپ کو پچھلی نشستوں پر قبول نہیں کرینگے۔ سعد الحریری نے لبنان کے ایک ٹیلی ویثرن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک برادر عرب ملک کے عمومی موقف کہ حزب اللہ مکمل طور پر غیر مئوثر ہو جائے کی بجائے یہ مطالبہ کیا کہ حزب اللہ یمن کے حوثیوں کی حمایت سے دستبردار ہو جائے۔ یہ مطالبہ درحقیقت ایک عرب ملک کی طرف سے وہ سرخ لکیر ہے کہ جو اس نے حزب اللہ کے حوالے سے طے کر رکھی ہے۔ سعد الحریری کی گفتگو میں شام اور عراق میں حزب اللہ کے کردار کے خاتمے کی بجائے صرف یمن میں ایسا کرنے کے مطالبے سے یہ واضح ہے کہ وہ حزب اللہ سے اس حد تک بات کرنے کے لئے راضی ہے اور اپنی عالم عرب حمایت کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یمن کا تنازعہ ایک ایسا مسئلہ بن چکا ہے ۔ اس صورت میں شام میں بشارالاسد کی کامیابی اور یمن میں حوثیوں کی کامیابی ۔ خطہ عرب کے داخلی استحکام کے لئے بھی ایک گھمبیر مسئلہ بن جائے گی۔ کیونکہ ایسی صورت کمزوری پر دلالت کرتی ہے۔ اس کے بعد حالات نے پلٹا کھایا اور سعد الحریری نے لبنان جا کر اپنا استعفیٰ واپس لے لیا۔ اب وہ مشعل عون اور حزب اللہ سے نئی سیاسی گفتگو کا آغاز بھی کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو حزب اللہ شریک اقتدار رہی گئی اور یہ واضح ہو جائیگا کہ لبنان کی سیاست پر عالم عرب کی گرفت نسبتاً کمزور ہو گئی ہے اور عالم عرب ایسی کیفیت کو کسی صورت قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اگر لبنان میں صورتحال جوں کی توں رہتی ہے تو ممکن ہے کہ قطر کی مانند اقتصادی پابندیاں لبنان پر بھی لگا دی جائیں۔ مگر اس کا یہ منفی اثر ہو گا کہ حزب اللہ کے مخالف لبنانی عناصر بھی ان پابندیوں سے متاثر ہونگے اور نتیجتاً عالم عرب کے لئے حمایت ان طبقات میں بھی کم ہو جائے گی۔عالم عرب کو بظاہر ان معاملات میں ٹرمپ انتظامیہ کی مکمل حمایت حاصل دکھائی دیتی ہے۔ اس لئے ہی وہاں جوہری نوعیت کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی یہ حمایت خطہ عرب کے اہم ممالک کو مزید تنازعات میں الجھانے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہو تا کہ وہ داخلی تنازعات کا شکار ہو جائیں یا کلی طور پر امریکہ کی حمایت پر بھروسہ کرنے لگیں۔ اگر لبنان میں معاملات کو خوش اسلوبی سے نہ نبٹایا گیا تو یہ مسائل مزید کمزوری کی وجہ ہونگے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں