آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ختم نبوتؐ کے معاملے پر 21روزہ قومی بحران خطرناک حدوں کو چھوتا ہوا بالآخر ختم ہو گیا۔ بیرون ملک آباد پاکستانیوں نے بھی اس طرح سکون کا سانس لیا ہے جس طرح دھرنے کے ہاتھوں مصیبت زدہ پاکستانی شہریوں نے پاکستان میں اطمینان محسوس کیا ہے لیکن پاکستان کا یہ بحران قومی اور عالمی سطح پر نہ صرف بہت سے سوالات کو جنم دے گیا ہے بلکہ پاکستان کے امیج کو بھی منفی انداز میں متاثر کر گیا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ دھرنا دینے والے قائدین تو اپنی سیاسی قوت اور کامیاب دھرنوں کے زعم میں گلوبلائزیشن کے اس دور میں اپنے دھرنوں کے منفی اثرات میں نظر ڈالنے کی فرصت نہیں ملتی۔ اسی طرح حکومتی اداروں کے درمیان چپقلش اور عدم تعاون، سویلین حکومت کی کمزور رٹ ،تاخیری ،فیصلے، پولیس اور سیکورٹی اداروں کی ان مقامی اور قومی بحرانوں میں غیر موثر کارکردگی کو دیکھنے والی دنیا میں آپ کی مخالف قوتوں کے ہاتھ کتنے مضبوط کرتی ہے۔ اسکی فکر بھی بیرون ملک پاکستانیوں کو زیادہ رہتی ہے۔ اس تمام صورتحال کا نتیجہ یہ ہے کہ اکیسویں صدی کے عالمی اور مقامی ماحول میں خود ہی اپنے اثاثے ،توانائیاں انسانی جانیں اور معیشت کو اپنے ہی فیصلوں اور اقدامات کے ہاتھوں تباہ بھی کر رہے ہیں اور عالمی سطح پر بھی اپنے امیج کو قابل ہمدردی اور بہتر بنانے کے بجائے مزید منفی

رنگ دے رہے ہیں۔ پاکستان کے آئین میں طے شدہ امور کو اپنی شعوری یا لاشعوری حماقت سے از سر نو متنازع روپ میں لانے سے ملکی معیشت،سیاست ،معاشرت پر جو منفی اثرات مرتب ہوئےہیں وہ اپنی جگہ لیکن عالمی سطح پر ہمارےقومی امیج کے بارے میں جن سوالات کو جنم دیا ہے وہ بھی کچھ یوں ہیں (1) پاکستان میں حکومتی اداروں کے فیصلے اور اقدامات کتنے بروقت اور موثر ہیں؟ (2) جس ملک کے انٹیلی جنس ادارے کسی مذہبی جماعت یا گروہ کے دھرنے سے پیدا ہونے والے بحران کی نشاندہی اور حل تجویز کرنے میں غیر موثر رول ادا کریں وہ گلوبلائزیشن ،نیوکلیئر سیکورٹی، دہشت گردی کے امور میں عالمی ذمہ داریاں کیسے پوری کرے گا؟ (3) بحرانی حالت میں فیصلے اور اقدامات کرنے والے حکومتی اہلکاروں نے پاکستانی میڈیا کی نشریات کو 24گھنٹوں کے لئے بندکر کے اکیسویں صدی میں جس قدر ’’بیک ورڈ؟‘‘ اور آمرانہ سوچ کا مظاہرہ کیا ہے وہ تو اب افریقہ کے کسی پسماندہ ملک میں بھی دیکھنے میںکم آتی ہے۔ پاکستانی میڈیا کے اچانک اور اس طرح بند کرنے سے بیرونی دنیا میںپاکستان کے بارے میں افواہوں، منفی پروپیگنڈہ کو چند گھنٹوں میں جنم دیا اس سے بیرونی ممالک میں آباد پاکستانیوں کو اذیت، بے خبری اور پریشانی سے دوچار کیا گیا۔ مذکورہ اہلکاروں سے اس کا حساب لینے کی بھی ضرورت ہے۔ بعض حلقوں نے تو ایٹمی پاکستان کے حوالے سے بھی افواہیں پھیلانے کی کوشش کی۔ پھر پاکستان کے میڈیا کے آزاد امیج اور کردار کو پیمرا کے اس ’’بلیک آئو ٹ‘‘آرڈر کا تابع کر کے جس طرح روندا گیا وہ بڑا شرمناک قدم تھا۔ بیرونی ممالک میں پاکستانیوں کے اعتماد کو دھچکا لگایا۔ غیر ملکی حکومتوں کو تشویش میں مبتلا کیا گیا اور پاکستانی میڈیا کے حکومت پر اعتماد اور عالمی ساکھ کو مجروح کیا گیا۔ملک میں فوج کی نقل و حرکت، مارشل لاء اور دیگر افواہوں کو جنم دینے کی ایسی کوشش کوئی دوست نہیں بلکہ دشمن ہی انجام دینے کی کوشش کر سکتا ہے۔ ایک مثال ملاحظہ ہو پاکستانی کے انہی ’’ میڈیا بلیک آئو ٹ‘‘لمحات کے دوران ایک بھارتی خبر رساں ادارے نے ’’ بریکنگ نیوز ‘‘ کچھ یوں جاری کیں۔ ’’پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر کے علاقوں میں پاکستان کے خلاف کشمیریوں کے مظاہرے اسی طرح بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کو ’’پاکستانی ایجنٹوں کی سازش قرار دینے کی خبر جاری کی۔ ان دونوں خبروں کی تردید یا جواب دینے والا پاکستانی میڈیا خود اپنے ہی پیمرا کے ہاتھوں پابندیوں کا شکار تھا ۔
گوکہ دھرنا کے اختتام اور معاہدہ کے اعلان کے بعد وزیراعظم اور آرمی چیف کا اکٹھے سعودی عرب روانگی کا اعلان ایک مثبت خبر ہے لیکن ساتھ ہی علاقائی صورتحال اور امریکہ سعودی عرب تعلقات کی نئی سمت کے تناظر میں بعض سوالات کو بھی جنم دیتا ہے کہ کیا سعودی روابط کے ذریعے پنٹاگان سے بھی امریکی وزیر دفاع کے دورہ اسلام آباد بارے کوئی مذاکرات تو نہیں ہورہے ہیں؟ بہرحال جلد ہی اس بات سے بھی آگاہی کا امکان ہے۔
دھرنے کے سلسلے میں سویلین حکومت کا جو موقف ’’جیو‘‘ کے محترم سلیم صافی سے انٹرویو میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے پیش کیا ہے اس میں بیان کئے گئے چند حقائق پر توجہ دینا ضروری ہے۔ پاکستان کو داخلی عدم استحکام اور عالمی دبائو میں لانے کی سازش کوئی حکومتی پروپیگنڈا نہیں بلکہ واضح حقیقت ہے۔ اور ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو اس بارے میں احتیاط اور الرٹ کی ضرورت ہے کہ وہ اسے محض حکومتی عذر تصور نہ کریں بلکہ اس بات کا خیال اور احتیاط رکھیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی جب قانون کا نفاذ کرنے والے ادارے کوئی آپریشن شروع کرتے ہیں تو میڈیا کو فرنٹ لائن پر آکر لائیو نشریات کی بجائے طے شدہ ضوابط کے تحت کوریج کی اجازت دی جاتی ہے۔ اکثر پولیس کے ترجمان کی بریفننگ اور پھر اس کے ساتھ میڈیا کی اپنی تحقیقاتی رپورٹوں کو نشر کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان میں جب شروع ہی سے آزادانہ اور لائیو کوریج کی روایات کو اپنایا گیا ہے تو پھر اب پیمرا کی جانب سے نشریات کا بٹن اچانک ’’آف‘‘ کرنے کے آمرانہ انداز اختیار کرنا درست نہیں ہے۔اسی طرح اگر متعلقہ مسودہ کی تیاری اور منظوری میں حکمراں پارٹی کے ساتھ ساتھ دیگر پارٹیوں کا رول بھی تھا تو پھر اجتماعی ذمہ داری کی اس حقیقت کو حکومتی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر سنجیدگی اور حقیقت کے طور پر سامنے لایا جائے۔
مجھے اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ موجودہ حکومت کی رٹ کمزور ہے اور انتشار کی کیفیت میں ہے۔ میرے گزشتہ کالم کا موضوع بھی یہی تھا لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ملک میں تمام سیاسی اور مذہبی قوتیں ’’بلیم گیم‘‘ یعنی الزامی سیاست کا کھیل کھیل رہی ہیں دوسروں پر الزام اور خود کو قانون سے بالاتر ہوکر اپنی قوت کا استعمال کرنے میں مصروف ہیںجبکہ مملکت پاکستان اندرونی انتشار اور خارجی دبائو اور سازش کا شکار ہے۔ اگلے انتخابات میں اپنی کامیابی اور اقتدار میں آنے کی امید لگائے سیاسی جماعتوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ان کے اقتدار کی امید پاکستان کے دم قدم سے ہی ہے۔ ایٹمی پاکستان موجود ہے تو اگلے الیکشن اور ان کے بعد اقتدار ملنے کا امکان بھی ہے۔ خدانخواستہ اگر پاکستان کے خلاف بیرونی عزائم و عناصر کو کامیابی ہوگئی تو پھر 2018ء کے انتخابی معرکہ جیتنے والوں کی حکومت نہ صرف آج کی حکومت سے ہزار گنا بدتر اور کمزور حیثیت کی حامل ہوگی بلکہ اس کا کنٹرول بھی دوسروں کے ہاتھ میں ہوگا۔ پاکستان کے دم قدم سے ہی اقتدار و اختیار کے سنہرے خوابوں کی تعبیر ممکن ہے ورنہ جنوبی ایشیا میں نظر دوڑالیں بھوٹان ، نیپال ، بنگلہ دیش ہمارے سامنے بطور حقیقت موجود ہیں۔ تاریخ نے اقتدار کے حریصوں اور بیرونی عناصر کے حامیوں کو کبھی معاف نہیں کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں