آپ آف لائن ہیں
بدھ7؍رمضان المبارک 1439ھ 23؍مئی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بوسنیا میں ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام اور جنگی جرائم میں ملوث کروشیا کے سابق کمانڈر سلوبودان پرالجیک نے جنگی جرائم کی عالمی عدالت کے جج کی جانب سے 20 سالہ سزا برقرار رکھنے کے فیصلے کے بعد کمرہ عدالت میں زہرپی لیا ، وہ بعد ازاں دوران علاج اسپتال میں چل بسے ۔

کروشیا کی نیوز ایجنسی کے مطابق 72 سالہ سلوبودان پرالجیک نے دی ہیگ میں جنگی جرائم کی عالمی عدالت میں اپیل کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں زہریلا مواد پی لیا تھا جنھیں اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔

x
Advertisement

اقوام متحدہ کے ججز بوسنیا میں 1990 میں قتل عام کے جرم میں سزاپانے والے بوسنیا اور کروشیا سے تعلق رکھنے والے 6 سابق فوجی جنرلز اور سیاست دانوں کی جانب سے دائر کی گئی اپیلوں کی سماعت کررہے تھے۔

رپورٹ کے مطابق عدالت کی جانب سے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھنے کا اعلان سنتے ہی سیکنڈز میں انھوں نے غصے سے چلایا کہ ʼپرالجیک جرائم پیشہ نہیں، میں تمھ ا ر ے فیصلے کو مسترد کرتا ہوںجس کے بعد انھوں نے ایک بوتل نکالی اور سماعت کے دوران زہر کی بوتل پی لی ۔

یہ غیرمعمولی اقدام دیکھ کر جج نے دوسرے مجرم بوسنیا کروٹ کے سابق وزیراعظم جیڈرانکو پرلیس کی 25 سال قید اور سابق وزیر دفاع برونو اسٹوجیک کی 20 سالہ سزا سنانے کے فیصلے کو موخر کردیا۔

پرالجیک کے وکیل نے بھی اس موقع پر چلاتے ہوئے کہا کہ ʼمیرے موکل کا کہنا ہے کہ انھوں نے زہر پی لیا ہے۔

بعد ازاں انکشاف ہوا کہ سابق جنرل دواؤں کا استعمال کررہے تھے۔

سابق جنرل کی جانب سے مذکورہ اقدام کے فوری بعد عدالت کے عملے نے پرالجیک کو گھیر لیا اور جج نے سماعت معطل کردی اور کمرہ عدالت کو عوام کے لیے بند کردیا گیا۔

 

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں