آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل نکلسن نے ایک بار پھر پاکستان پر بے بنیاد اور گھسے پٹے الزامات لگاکر پاکستانی قیادت سے ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ خطے میں ہندوستان کو مرکزی کردار دینا چاہتا ہے مگر چین اور پاکستان جنوبی ایشیا میں بھارتی بالادستی کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرنا چاہتے۔ خطے میں بھارت کے مرکزی کردار کی حمایت سے امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب ہوگیا ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔ 27نومبر کو بھی حریت قیادت کی اپیل پر پورے جموں وکشمیر میں بھارتی ظلم وبربریت کیخلاف مکمل ہڑتال کی گئی۔ کشمیری رہنمائوں سیدعلی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یٰسین ملک نے مطالبہ کیا ہے کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کے ریاستی مظالم کا فوری نوٹس لے۔ اب تو نوبت یہاں تک آن پہنچی ہے کہ بھارتی فوج وادی کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہی ہے۔ دو روز قبل پلوامہ کے علاقہ میں ہندو غاصب فوج نے 4مکانوں پر کیمیائی مواد سے حملہ کیا۔ یہ ایک انتہائی تشویشناک اور قابل مذمت امر ہے۔
پاکستان تصفیہ طلب مسائل کے حل کیلئے تمام ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات کا خواہاں ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے جنوبی ایشیا میں کھیلے

جانیوالے گھنائونے کھیل سے امن و امان تباہ و برباد ہوجائیگا۔ امریکہ بھارت کی پشت پناہی کرتے ہوئے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے امریکی ڈومور کے مطالبے پر صاف اور دوٹوک انداز میں ’’نومور‘‘ کہا جانا چاہئے۔ امریکی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کے عوام نے برداشت کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت ہندوستان اور امریکہ کے ساتھ دوٹوک انداز میں بات کرے۔ پاکستان ایک آزاد، خودمختار ریاست ہے کسی کی ذیلی ریاست نہیں۔ ہمیں اپنی داخلہ و خارجہ پالیسیوں کو پاکستان کے مفاد میں از سرنو تشکیل دینا چاہئے۔ دنیا کو پاکستان کی بے مثال اور لازوال قربانیوں کا اعتراف کرنا ہوگا۔ افغانستان میں بھارت کا کردار درحقیقت پاکستان کے خلاف منظم سازش ہے۔ ہندوستان کے افغانستان میں پاکستانی سرحدوں کے قریب درجن سے زائد سفارتخانے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کو سپورٹ کررہے ہیں۔ دنیا کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ ہندوستان امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ مل کر اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کرنا چاہتا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں 100سے زائد خواتین کے بال کاٹنے جیسے واقعات نے انڈین فوج کے شرمناک اور گھنائونے چہرے کو بے نقاب کردیا ہے۔ پاکستان کے21کروڑ عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ آئے روز بھارت کی جانب سے پاکستان کی سرحدوں کی خلاف ورزی ایک معمول بن چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہندوستان کو اسی کی زبان میں جواب دیا جائے۔ سیاسی و عسکری قیادت اس حوالے سے عوامی جذبات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے پالیسیاں مرتب کرے۔ بھارت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بلوچستان کے حالات خراب کرکے پاک چین اقتصادی راہداری کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور اس سازش میں بھارت کوامریکی اشیر باد حاصل ہے۔ کل بھوشن کی بلوچستان سے گرفتاری اس بات کا واضح ثبوت ہے۔ بیرونی دشمنوں کی سازشوں کوناکام بنانے کے لئے ہمیں ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہوگا۔ پاکستان کو اس وقت اندرونی وبیرونی کئی چیلنجوں کا سامنا ہے۔ لاپتہ افراد کا معاملہ بھی ایک سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔ گزشتہ دنوں لاپتہ افراد کا مسئلہ حل نہ ہونے پر سینٹ میں احتجاج لمحہ فکریہ اور حکمرانوں کی مایوس کن کارکردگی کا مظہر ہے۔ حکومت پاکستان اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے۔ پاکستانیوں کے بعد غیر ملکیوں کو بھی اٹھایا جا رہا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ملک میں ماورائے آئین و قانون متنازعہ اقدام سوالیہ نشان ہیں۔ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی رپورٹس کے مطابق 12سو سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔ سول اور عسکری قیادت نے جس طرح کینیڈین جوڑے کو بازیاب کرایا ہے اسی طرح ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت تمام لاپتہ افراد کو بھی بازیاب کرایا جائے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جرم ثابت کئے بغیر امریکی عدالت نے 86سال قیدکی ظالمانہ سزا سنائی تھی۔ حکومت پاکستان ابھی تک قوم کی بیٹی کو امریکی قید سے چھڑا کر وطن واپس نہیں لاسکی۔ یہ حکمرانوں کیلئے شرمناک امر ہے۔ امریکہ اگر ریمنڈ ڈیوس، ایمل کانسی اور یوسف رمزی کو پاکستان سے لے جا سکتا ہے تو پھر ڈاکٹر عافیہ صدیقی آخر کیوں امریکہ سے پاکستان نہیں آسکتی؟ وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی اور آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کو اس قومی مطالبے پر فوری عمل کرنا چاہئے۔ اگر کسی نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کرکے قانون کے مطابق سزا دلوائی جانی چاہئے۔ محض شک کی بنیاد پر اغوا کرکے برسوں عقوبت خانوں میں ڈالنا اور تشدد کرنا درست نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں کوئی قانون اور عدالتیں موجود نہیں ہیں۔ ریاستی اداروں کو کوئی بھی کام ماورائے آئین و قانون نہیں کرنا چاہئے۔ بنیادی انسانی حقوق کو غصب کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ عوامی استحصال کایہ سلسلہ بند ہونا چاہئے۔ سول حکومت کو بھی پولیس اور دیگر اداروں پر سیاسی دبائو نہیں ڈالنا چاہئے۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ملک میں لاقانونیت کی انتہا ہوچکی ہے۔ امیر طبقے کیلئے الگ قانون ہے اور غریب کے لئے الگ۔ لاپتہ افراد کا ایشو سالہا سال سے چل رہا ہے اور دنیا میں پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہا ہے۔ عالمی برادری میں ملک کے بہتر امیج کیلئے ضروری ہے کہ سیکورٹی نظام کو مزید بہتر اور جدید سائنسی بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ فی الفور بند کیا جانا چاہئے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اپنے اقتدار کے سوا چار سال گزار چکی ہے مگر اس نے جو بلند بانگ دعوے کئے تھے کہیں بھی پورے ہوتے ہوئے نظر نہیں آرہے۔ لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ابھی تک برقرار ہے، مہنگائی اور بیروزگاری دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ کرپشن کے بڑے بڑے اسکینڈل سامنے آرہے ہیں، قرض پہ قرض لئے جارہے ہیں اور نئے نئے ٹیکس لگا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔ مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ عوام آئندہ الیکشن میں محب وطن، باکردار، پڑھی لکھی اور کرپشن سے پاک بے داغ قیادت کو اقتدار کے ایوانوں میں بٹھائیں۔ اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے متعین امور حکومت سرانجام دینے چاہئیں۔ اداروں کا ٹکرائو اور مخاصمانہ رویہ غیرجمہوری قوتوں کی راہ ہموار کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ ملک میں آئین کی بالادستی کیلئے جمہوری عمل جاری رہنا چاہئے۔ مارشل لاکی خواہش ملکی آئین و قانون سے غداری کے مترادف ہے۔ پاکستان نے اپنی 70سالہ تاریخ میں ڈکٹیٹروں اور جمہوریت پسند شخصی آمروں کا مقابلہ کیا ہے۔ یہ ملک وقوم کا المیہ رہاہے کہ ہمارے بعد آزاد ہونے والے ممالک دنیا میں ترقی کی منازل تیزی سے طے کررہے ہیں اور پاکستان ایٹمی قوت ہونے کے باوجود مسائل کی دلدل میں دھنستا ہی چلا جارہا ہے۔ پاکستان کو عالمی برادری میں ایک باوقار جمہوری ملک بنانے کیلئے موجودہ پالیسیوں کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے سب کو مل کر مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ ملک دشمن بیرونی قوتوں کی سازش ہے کہ وہ پاکستان کو اندر سے کمزور کریں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں