آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج ہم وہ بات کرنے جارہے ہیں جس بات کی وسیع تجربہ رکھنے والے دانشوروں نے سختی سے ممانعت کی ہوئی ہے۔ ہم کا صیغہ میں نے اپنے لئے استعمال نہیں کیا ہے۔ ویسے بھی مولائی فقیر کبھی بھی خود کو عدد جمع نہیں سمجھتے۔ خاک نشین اکیلے آتے ہیں۔ اکیلے رہتے ہیں اور اکیلے ہی رخصت ہوجاتے ہیں۔ صیغہ ہم سے میری مراد ہے آپ اور میں۔ آپ سمجھ گئے ہونگے کہ آج آپ اور میں ایسی بات کرنے جارہے ہیں جس بات سے ہمارے بڑے بوڑھوں نے ہمیں دور رہنے کی تلقین کی ہوئی ہے۔ آج ہم یعنی آپ اور میں سوچنے جارہے ہیں۔ ہم سوچنے کے لئے کہاں جارہے ہیں؟ یہ میں نہیں جانتا۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ ہم سوچنے جارہے ہیں۔ آپ چلنے کے لئے تیار ہیں نا؟ میرا مطلب ہے کہ آپ سوچنے کے لیے تیار ہیں نا؟ آئیے سوچتے ہیں۔
اگر آپ کو کامل یقین ہے کہ ہمارے ہاں اظہار کی مکمل آزادی ہے تو پھر میں آپ سے اختلاف ِ رائے رکھتا ہوں، مگر آپ کے کامل یقین کا احترام کرتا ہوں۔ اسی طرح میرا کامل یقین ہے کہ ہمارے یہاں اظہار کی آزادی نہیں ہے۔ گھٹن ہے۔ دم گھٹتا ہے۔ اختلافِ رائے رکھنے کے باوجود میں امید کرتا ہوں کہ آپ میرے یقین کامل کا احترام کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے ۔ ہم ہمسائے ہیں۔ ایک دوسرے کے پڑوسی ہیں۔ ایک ہی معاشرے میں رہتے ہیں۔ ایک

دوسرے کو برداشت کرنا ہماری مجبوری ہے۔ ہم آہنگی ہماری ضرورت ہے۔ آپ کبھی بھی سکون کی نیند نہیں سوسکتے جب تک آپ مجھ سے نفرت کرتے رہیں گے۔ میں کبھی بھی سکون کی نیند نہیں سو سکتا جب تک میں آپ سے نفرت کرتا رہوں گا۔ جب ہم رات بھر جاگ جاگ کر ایک دوسرے کو تباہ و برباد کرنے کے منصوبے بناتے رہتے ہیں تب طرح طرح کے نفسیاتی امراض اور نفسیاتی الجھنوںکا شکار ہوجاتے ہیں۔دانشمند ہم پر ہنستے ہیں۔ بچے ہمیں پتھر مارتے ہیں۔ آپ کو چنبیلی اور گلاب کے پھول اچھے لگتے ہیں۔ اچھی بات ہے۔ یہ آپ کی پسند ہے۔ یہ آپ کا ذاتی حق ہے۔ مجھے کیکٹس یعنی تھوہر اچھے لگتے ہیں۔ یہ میری پسند ہے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ یہ میرا ذاتی حق ہے۔ اس سے کسی اور کی حق تلفی نہیں ہوتی۔ ہمارا پرابلم یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ پوری دنیا کے لوگ ہماری طرح سوچیں۔ ایک واقعے کے ایک سو چشم دید گواہ واقعہ کی ایک کہانی نہیں سناتے۔وہ ایک واقعہ کی الگ الگ پیرائے میں ایک سو مختلف کہانیاں سناتے ہیں ۔ جس طرح ہماری شکلیں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔ ڈیل ڈول میں ایک دوسرے سے مشابہت نہیں رکھتے، عین اسی طرح ہم اپنی اپنی سوچ میں ایک دوسرے سے برعکس ہوتے ہیں۔ ہماری پسند ناپسند ایک دوسرے کی پسند ناپسند سے مختلف ہوتی ہے۔ ہمارے ڈر اور خوف مختلف ہوتے ہیں۔ ہمارے وَہم الگ الگ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ ایک ماں کی کوکھ سے جنم لینے والے دو بچے اپنی اپنی شخصیت لیکر اس دنیا میں آتے ہیں۔ انکی سوچ، ان کی پسند ، ان کی ناپسند ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔ دو لوگ، دو آدمی کبھی بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ایک زبان بولنے والے یکمشت نہیں ہوتے۔ ایک ہی عقیدے کے پیروکار ایک نہیں ہوتے۔ کامیاب اور ترقی یافتہ ممالک میں لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ ذاتی نوعیت کے تمام اختلافات کے باوجود وہ ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے۔ ایک دوسر ے کے اختلافِ رائے کا تحفظ کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کیلئے جگہ Space پیدا کرتے ہیں۔ ترقی یافتہ لوگ ہم آہنگی کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ وہ خوش اسلوبی سے جیتے ہیں اور دوسروں کو خوش اسلوبی سے جینے دیتے ہیں۔
پسماندہ معاشرے کے لوگ اس بات پر گرما گرم بحث میں پڑجاتے ہیں کہ گھر کے اندر داخل ہوتے ہوئے پہلے دایاں پیرآگے ہونا چاہئے یا کہ بایاںپیر۔ کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے جھگڑا ہوجاتا ہے۔ الو Owl دانشمندی کی علامت ہے یا کہ بیوقوفی کی علامت ہے؟ یا کہ الو نحوست کی علامت ہے؟اس بات پر تلواریں میان سے نکل آتی ہیں۔ ایک شخص کہتا ہے کہ میں مانتا ہوں کہ دنیا چوکور نہیں ہے، دنیا گول ہے۔ دوسرا شخص کہتا ہے کہ میں قبول کرتا ہوں کہ دنیا گول ہے، چوکور نہیں ہے۔ الفاظ کے چنائوپر وہ آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔
ایک دوسرے کو مرنےمارنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔دونوں اشخاص مانتے ہیں کہ دنیا چوکور نہیں ہے، دنیا گول ہے۔ پس ماندہ معاشروں میں لوگ بلاوجہ ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے۔ جب ہم ایک دوسرے کو ناپسند کرتے ہیں تب ایک دوسرے کی نیت پر شک کرتے ہیں۔ دونوں اشخاص الفاظ کے چنائو پر آپس میں الجھ پڑتے ہیں۔ ایک نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ دنیا گول ہے۔ دوسرے نے کہا کہ میں قبول کرتا ہوں کہ دنیا گول ہے۔ دو الفاظ ماننا اور قبول کرنا ان دونوں کے درمیان وجہ اختلاف بن جاتی ہے۔ اور بات جنگ و جدل تک جا پہنچتی ہے۔ کوہ ہمالیہ اونچائی، چوڑائی اور لمبائی میں دنیا کا سب سے بڑا پہاڑی سلسلہ ہے۔ ایسے میں اگر کوئی یہ کہہ دے کہ منگھو پیر کا پہاڑی سلسلہ دنیا کا سب بڑا پہاڑی سلسلہ ہے تو کیا اس دعویٰ سے کوہ ہمالیہ چھوٹا ہوجائے گا؟ اگر آپ کے پاس یہ ثابت کرنے کے لئے ٹھوس ثبوت نہیں اور آپ نے سنی سنائی باتوں پر یقین کرتے ہوئے مان لیا ہے کہ کوہ ہمالیہ دنیا کا سب سے بڑا پہاڑی سلسلہ ہے تو پھر آپ منگھو پیر کے پہاڑی سلسلے کا موازنہ کوہ ہمالیہ سے سن کر آپے سے باہر ہوجائیں گے۔ ثابت کرنے کے لئے چونکہ آپ کے پاس کچھ نہیں ہے، آپ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ آپ کا جارحانہ رویّہ آپ کے اندر ڈگمگاتے ہوئے یقین کی چغلی کھاتا ہے اور اگر کوہ ہمالیہ کے بارے میں آپ کا مطالعہ مستند ہے تو پھر کوہ ہمالیہ کے منگھو پیر کی پہاڑیوں سے موازنے کی احمقانہ باتیں سن کر آپ ہنس پڑیں گے ۔ آپ کو غصّہ نہیں آئے گا۔ یہاں، اگر آپ اندر سے کھوکھلے ہیں۔ آپ کی معلومات معتبر نہیں ہے تو پھر آپ کا آگ بگولہ ہونا لازمی ہے۔ یقین کی عمارت کمزور بنیادوں پر کھڑی نہیں کی جاتی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں