آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چند ماہ پہلے کی بات ہے موٹر وے پر ایک آئل ٹینکر الٹ گیا تھا۔ بہت سے لوگ تماشا دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے۔ کچھ لوٹ مار میں لگ گئے۔ سینکڑوں اس منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اچانک کسی نے دیا سلائی سلگائی۔ آناََ فاناََ آگ بھڑک گئی اورپھر نہ کوئی تماشہ دیکھنے والازندہ بچا نہ کوئی لوٹنے والا۔ لمحوں میں سب کچھ راکھ ہو گیا، خاک ہو گیا۔
اس بات کو ماننے میں کوئی باک نہیں ہے کہ خادم رضوی نے جڑواں شہروں میں تن تنہا ریاست، حکومت ، سیاست اور جمہوریت کو شکست دی۔ اس کے لئے انہیں کچھ خاص تردد بھی نہیں کرنا پڑا ۔چند سو لوگ اکھٹے کئے ۔ جڑواں شہروں کی شہ رگ والی شاہراہ پر قیام کیا اور سارا نظام مفلوج کر دیا۔ان بیس دنوں میں اس مفلوج نظام سے مخاطب ہوتے ہوئے انکی گفتار سے بہت سے لوگ گھائل ہوئے۔انہوں نے کبھی نواز شریف کو مرتد قرار دیا کبھی عمران خان کو فرنگی ایجنٹ بنا دیا،کبھی پولیس کو کافر کہا ،کبھی احتجاج نہ کرنے والوں کو مرتد ہونے کا طعنہ دیا۔ دشنام کے ایسے باریک باریک نکتوں کامذہب سے اختلاط پہلے کسی نے سوچا بھی نہیں تھا۔ ۔ آٹھ لاکھ لوگ بیس دن تک اذیت میں رہے۔لیکن کسی کی جرات نہیں ہوئی کہ وہ اس دھرنے کے خلاف کوئی بات بھی کر سکے۔ کسی متوقع سانحے کے انتظار میں سارا پاکستان ساکت ،جامد رہا۔ لوگ بھی خاموش تھے سوچ بھی

مفلوج تھی۔ دھرنا ختم ہونے سے پہلے ایک پھسپھسا ساایکشن ہوا جس میں آٹھ ہزار پولیس والوں کے ساتھ عبرت ناک سلوک ہوا۔ اس ایکشن کے دوران کسی کوکچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کمان کہاں ہے اور محاذ کہاں ہے؟اینٹ کس کو پڑ رہی ہے؟شیلنگ کون کر رہا ہے؟ آکسیجن ماسک کس کے پاس ہیں ؟ پتھر کون پھینک رہا ہے ؟ ڈنڈے کون برسا رہا ہے، گالیاں کون کھا رہا ہے؟باقی ماندہ نفری کہاں ہے؟ کمک کے لئے تازہ دستے کہاں ہیں؟ حکم کہاں سے آ رہا ہے؟تعمیل کون کر رہا ہے؟ظالم کون بن رہا ہے ؟ مظلومیت کا قرعہ کس کے نام نکل رہا ہے۔وزیر داخلہ احسن اقبال نے اس ایکشن کی ذمہ داری نہیں لی ۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے ایکشن کس کے کہنے پر ہوا؟ پسپائی کس کے کہنے پر ہوئی؟مغلوب کون قرار پایا اور فتح کس کی ہوئی؟
اس سارے منظر نامے میں سب بے بس نظر آئے۔ حکومت یر غمال رہی۔ شہری عذاب میں مبتلا رہے۔ پولیس مار کھاتی رہی۔ ریاست کا تماشا بنتا رہا۔جس دن ایکشن ہوا اس دن پیمرا کی بے بسی پر بہت رونا آیا۔ ٹی وی چینلوں نے اس معرکے کو معرکہ خیر و شر بنا کر پیش کیا۔ کفار اور مومنین کی جنگ بنا کر پیش کیا ، حق و باطل کے محاذکی صورت میں دکھایا۔ چینل جب ریٹنگ کے لئے مذہب کی فروخت شروع کر دیں تو پھر کچھ بھی بعید نہیں رہتا۔ ایک نجی ٹی وی چینل، جس نے اس معرکہ خیر وشر کی کوریج میں ہر حد پار کر لی تو اس کی نشریات کو پیمرا نے روکنے کی گستاخی کر لی۔ پھرفرشتوں کا حکم آیا کہ اس چینل کو فوری کھولیں ورنہ سب چینل بند کر دیں ۔ اس چینل کو کھولنے سے فساد بپا ہونا تھا۔ نفرت بڑھنی تھی۔ آگ لگنی تھی۔ اس لئے سب چینل بند کر دیئے گئے۔ سوشل میڈیا پر پابندی لگ گئی۔ افواہیں ، خبریں بننے لگیں۔ملک بھر میں ہنگامے شروع ہوئے۔ سیاسی قائدین کے گھروں پر ہلہ بولا گیا۔ سرعام مارپیٹ کی گئی۔ سامان لوٹا گیا۔ سڑکوں پر ٹریفک روک لی گئی۔ ٹائر جلائے گئے،آگ لگا دی گئی۔ ہجوم کو مشتعل کیا گیا۔ایسے میں کچھ ہو جانے کا خوف ساری قوم پر طاری ہونے لگا۔فوج کو طلب کیا گیا مگر انہوں نے معذرت کر لی کہ ہم اپنے لوگوں پر ہاتھ نہیں اٹھا سکتے۔ پھر ایک معاہدہ ہوا۔
اس ہنگامے کے موقوف ہونے کے بعد ہمیں احساس تک نہ ہوا کہ یہ پاکستان اب وہ نہیں رہا جو دھرنے سے پہلے تھا۔ یہ لوگ وہ نہیں رہے۔
یہ دھرتی وہ نہیں رہی۔ یہ سماج بدل گیا ہے ۔ اس ایک دھرنے سے ہماری اقدار بدل گئی ہیں۔ سوچ بدل گئی ہے۔ ذہن بدل گیا ہے۔اب ستانوے فیصد مسلم آبادی والے ملک میں ہر شخص کفر کے فتوے سے خوفزدہ ہے۔اقلیتوں کے تحفظ کا معاملہ تو بہت دور ہے، اب مسلمان مسلمان کی آزمائش کر رہاہے۔اب کچھ بعید نہیں ہر چوک پر آپ سے کلمہ سننے کی فرمائش ہو۔ اب کچھ بعید نہیں ہر جگہ آپ کے ایمان کا امتحان لیاجائے۔ اب کچھ بعید نہیں ہر جگہ آپ کے مسلمان ہونے کی تصدیق کروائی جائے۔ اب دین کا معاملہ بندے اور خدا کے درمیاں نہیں رہا۔ اب اس میں ایک چہرہ بھی ابھر رہا ہے۔ جو کبھی دھرنا دینے والوں کا لگتا ہے تو کبھی مذہبی انتہا پسندوں کا اسے ہم مذہبی جارحیت بھی کہہ سکتے ہیں۔
اب مجھے آج کا سماج ، آج کی ثقافت ، آج کی سیاست اور آج کی جمہوریت انتہا پسندی کے رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔مجھے احسن اقبال کی بے بسی میں مذہبی شدت پسندی مسکراتی نظر آتی ہے۔ مجھے اعتزاز احسن کی خاموشی میں مذہبی جارحیت نظر آتی ہے۔ مجھے رانا ثنا اللہ سے دوبارہ کلمہ سننے کی فرمائش میں انتہا پسندی نظرآتی ہے۔ مجھے زاہد حامد کے استعفیٰ کی عبارت کے ایک ایک لفظ میں مذہبی شدت پسندی نظرآتی ہے۔ مجھے ڈاکٹر اشرف آصف علی جلالی کے جواب الدعویٰ میں خادم حسین ہی نظر آتا ہے۔مجھے ضعیم قادری والی وڈیو میں انتہا پسندی پیر صاحب کے سرہانے مور چھل جھلتی دکھائی دیتی ہے۔مجھے جاوید لطیف کے کان سے بہتے خون میں مذہبی جارحیت دکھائی دیتی ہے۔مجھے پولیس والوں پر برستے ڈنڈوں میں انتہا پسندوں کی قوت ایمانی دکھائی دیتی ہے۔یہی نہیں برسوں سے پنپنے والی اس سوچ کے نتیجے میں اب تومجھے عمران خان کی تقریروں میں بھی شدت پسندی نظر آتی ہے ۔ مجھے رینٹ اے انقلاب والے طاہر القادری کی ہر دلیل میں انتہا پسندی نظر آتی ہے۔ مجھے فیس بک کے اسٹیٹس ، ٹوئٹر کے ٹوئٹس ، ٹاک شوز کی گفتار اور اسمبلی کے ہر اجلاس میں انتہا پسندی نظر آتی ہے۔
گزشتہ چار سالوں میں جمہوریت پر تین دھرنے مسلط کئے گئے۔ تین حملے کئے گئے۔ ہر دھرنے کے منظر اور پس منظر میں لوگ اور مقاصد مختلف تھے۔ تیسرا اور آخری حملہ خود کش نسل کا حملہ تھا۔ اس میں حملہ کروانے والے بھی راکھ ہو جاتے ہیں۔جس نے بھی یہ مذہبی منافرت کی آگ لگائی ہے اب اس کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ اب نواز شریف کو شکست دینے کے لئے ترپ کا پتہ تو چل دیا گیا ۔مسئلہ یہ ہے کہ اب کوئی اور چال باقی نہیں ہے۔ترکش میں موجود آخری تیر اب کمان سے نکل چکا ہے۔اب جمہوریت کے ساتھ ریاست کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا۔ اب اس آگ میں کوئی بھی جل سکتا ہے۔اب نہ کوئی دفتر محفوظ ہے نہ کوئی گھر محفوظ ہے ۔نہ کوئی صاحب علم محفوظ ہے نہ کوئی صاحب خرد محفوظ ہے۔سب سے زیادہ خطرے کی بات یہ ہے کہ اب نہ کوئی منظر محفوظ ہے نہ کوئی پس منظر محفوظ ہے۔
یہ اسی طرح کی صورت حال ہے جیسے چند ماہ پہلے کی بات ہے موٹر وے پر ایک آئل ٹینکر الٹ گیا تھا۔ بہت سے لوگ تماشا دیکھنے کے لئے جمع ہو گئے۔ کچھ لوٹ مار میں لگ گئے۔ سینکڑوں لوگ اس منظر سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اچانک کسی نے دیا سلائی سلگائی۔ آناََ فاناََ آگ بھڑک اٹھی تھی اور پھرنہ کوئی تماشہ دیکھنے والازندہ بچا نہ کوئی لوٹنے والا۔ لمحوں میں سب کچھ راکھ ہو گیا، خاک ہو گیا۔
پاکستان کی اس موجودہ صورت حال پر شعر سنئے
اب تو بارود کا اک ڈھیر بنی ہے دنیا
اب تو باقی ہے فقط ایک دھماکہ ہونا

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں