آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے آلودہ پانی کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا ہے کہ ’’سندھ کی صورتحال پر افسوس ہے ۔حکومت نے یہاں کے لوگوں کی زندگیاں خراب کر دی ہیں ہم اس صورتحال کو بدلنا چاہتے ہیں۔‘‘
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے شہر قائد میں صاف پانی کی عدم فراہمی اور نکاسی آب سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران یہ کہا ۔ عدالت کے طلب کرنے پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال بھی پیش ہوئے اس دوران درخواست گزار شہاب اوستو کی جانب سے کمرہ عدالت میں آلودہ پانی سے متعلق دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ’’سندھ میں انسانی فضلہ دانستہ طور پر پینے کے پانی میں شامل کیا جا رہا ہے‘‘۔کراچی میں ایک مدت سے پینے کے صاف پانی کا مسئلہ چلا آ رہا ہے۔ پی پی کی حکومت نے دعوے تو بہت کئے مگر عملاً کچھ نہ ہوا۔ایک مدت سے سندھ میں پی پی کی حکومت ہے مگر ترقیاتی کام نہ ہونے کے برابر ہیں۔
عزیز قارئین !کراچی میں ڈیفنس کا شمار مہنگے ترین رہائشی علاقوں میں ہوتاہے وہاں کون سا گھر جو پینے کے لئے ،کھانا پکانے اور نہانے کے لئے پانی نہیں خریدتا۔پھر کراچی میں روز بروز پانی مافیا مضبوط سےمضبوط

ہوتا جا رہا ہے یہ پانی سپلائی کرنے والے ٹینکر مافیا آئے دن پانی کی قیمتیں بڑھا دیتےہیں، ہڑتالیں کر دیتے ہیں اور یہ بالکل حقیقت ہے کہ ان ٹینکرز کے ذریعے جو پانی گھروں میں سپلائی کیا جا رہا ہے وہ بغیر فلٹر کئے پینے کے بالکل قابل نہیں۔ پورے سندھ اور خصوصاً کراچی میں پیٹ کی بیماریاں اور ہیپا ٹائٹس بہت زیادہ ہوچکا ہے۔ پانی خریدنے کے باوجود ہر گھر کو فلٹریشن پلانٹ سے پانی صاف کرنا پڑتا ہے پھر کہیں جاکر تھوڑا بہت پینے کے قابل ہوتا ہے ۔کراچی جو 1947میں تمام عرب ممالک سے ترقی یافتہ شہر تھا آج کراچی تمام ممالک کے شہروں سے پسماندہ اور بدترین آلودہ ماحول سے دوچار ہے ۔شہر کی سڑکوں پر آپ کو وہ وہ بسیں نظر آئیں گی جو دنیا میں اب کہیں نہیں چلتیں یہ بسیں اور ٹرک ماحول کو آلودہ کرنے کے ساتھ ساتھ سانس کی بیماریاں پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں مگر کون توجہ کرے گا۔زرداری صاحب تو خود دبئی میں رہتے ہیں۔
چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بالکل درست کہا کہ ’’کاش بلاول بھی یہاں ہوتے اور یہ فلم دیکھتے کہ لاڑکانہ اور دیگر شہروں کے لوگ کون سا پانی پی رہے ہیں۔‘‘
اس وقت پورے ملک میں یہ حالات ہیں کہ کسی بھی شہر کا پانی پینے کے قابل نہیں کہیں آرسینک (سنکھیا) آ رہا ہے تو کہیں پانی کے پائپ سیوریج کے پائپوں کے ساتھ جڑ چکے ہیں اور انسانی فضلہ پینے والے پانی میں شامل ہو رہا ہے۔پتہ نہیں پیپلز پارٹی والے کس بات کا 50واں یوم تاسیس منا رہے ہیں۔ کیا کراچی، لاڑکانہ اور پورا سندھ دنیا کے ترقی یافتہ علاقوں میں شمار ہو چکے ہیں ۔کیا آپ نے انہیں پیرس بنا دیا ہے لاڑکانہ کا شمار دنیا کے پسماندہ اور غریب ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ کئی مرتبہ وہاں سے بھٹو خاندان کے لوگ وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔مگر شہر کے لوگوں کو پینے کے لئے صاف پانی میسر نہیں کوئی دن نہیں گزرتا جب تھر میں بچے غذائی کمی کے باعث مرتے نہیں۔
یوم تاسیس اور پاور شو آخر کس بات کے کرا ئے جاتے ہیں جب کسی نے کوئی کام کیا ہی نہیں۔ 1972ء میں پی پی نے کارخانے، اسکولز، کالجز قومی ملکیت میں لیکر تباہ کر دیئے ۔ ریلوے ،پی آئی اے کون سا ادارہ ہے جہاں پر آج یونین بازی نہیں ہو رہی۔سب کو صرف حقوق کا پتہ ہے فرائض کا نہیں کام کہیں ہو رہا نہیں آخر کس بات کا یوم تاسیس، کیا عوام کو روٹی، کپڑا اور مکان مل گیا ؟آبی ماہرین نے وارننگ دے دی ہے کہ اگر ہم نے پانی کے حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہ کی تو آنے والے صرف دس برسوں میں ملک میں پانی کا قحط پڑ جائے گا ۔ لوگ پینے کے پانی کو ترسیں گے مگر اس سے کسی کو کیا فرق پڑتا ہے زرداری کے محلات باہر، نواز شریف کے خوبصورت فلیٹس باہر، کس نے یہاں کا پانی پینا اور غذا کھانی ہے ؟ہر سیاسی پارٹی اپنا پاور شو کر رہی ہے اور اس بات سے بے خبر ہے کہ پاکستان میں پانی کا کس قدر خوفناک بحران آنے والا ہے باخبر ہیں صرف پارٹیوں کے سربراہ اوررہنما کیونکہ انہوں نے یہاں سے بھاگ جانا ہے وہ ہر بحران میں اس ملک سے بھاگ جاتے ہیں۔
آپ جتنے مرضی اسپتال بنالیں اس سے کچھ نہیں ہو گا کیونکہ انسان کی بنیادی ضرورت پانی ہے جب تک پینے کا پانی صاف میسر نہیں ہو گا آپ بیماریوں پر قابو نہیں پا سکتے۔ صرف ایک صاف پینے کا پانی مہیا کرنے سے آپ کا صحت کا بجٹ اور لوگوں کا بیماریوں پر خرچہ پچاس فیصد کم ہو جائے گا۔اس وقت پورے ملک میں اسپتال پیٹ اور ہیپاٹائٹس کی بیماریوں سے بھرے پڑے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ صاف پانی کا نہ ملنا دوسرے ناقص اور ملاوٹ شدہ غذا کا استعمال ہے ماہرین کے بقول دنیا میں ہر روز 14ہزار اموات آلودہ پانی کے پینے سے ہو رہی ہیں پانی نہ صرف انسانوں کے لئے بلکہ جانوروں، مچھلیوں اور پودوں کے لئے بھی انتہائی ضروری ہے اور اس کا صاف ہونا بھی انتہائی اہم ہے اس وقت حالات یہ ہیں کہ کراچی میں مختلف فیکٹریوں اور سیوریج کے گندے فضلے کو سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے اس سے ماحول آلودہ ہو رہا ہے اور آبی حیات متاثر ہور ہی ہے۔ لاہور کا راوی اور نہر ہم پہلے ہی فیکٹریوں اور شہر کا سیوریج ڈال کر ضائع کر چکے ہیں اگر ہم نے پانی کے حوالے سے منصوبہ بندی نہ کی تو آنے والے وقتوں میں اموات کا سب سے بڑا سبب آلودہ پانی ہو گا۔
گزشتہ ہفتے ہمارے دو اساتذہ کرام35برس بعد ہمیں، رئیس انصاری اور امین حفیظ کو ملنے آئے۔پروفیسر جاوید اکرام شیخ گجرات میں پی پی کے سرکردہ رہنما بھی رہے ،پھر گورنمنٹ کالج لاہور میں پولیٹکل سائنس کے استاد مقرر ہو گئے برس ہا برس یہاں پڑھایا مگر آج سے چالیس برس قبل انہوں نے پاکستان کے حالات اور یہاں پر اچھی روایات اور اقدار کو جب تباہ وبرباد ہوتے دیکھا تو امریکہ جانے کا پروگرام بنایا اور پھر اپنے بچوں سمیت وہاں چلے گئے اس وقت ماشااللہ 82برس کے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں صحت اور طویل زندگی عطا فرمائے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ انہیں ابھی تک پنشن، گریجویٹی وغیرہ نہیں ملی۔ اس مرتبہ ہمارے ایک اور استاد قاضی آفاق حسین جو ٹیچنگ لائن چھوڑ کر بیوروکریٹ بن گئے تھے انہوں نے بھی اس حوالے سے ان کی بہت مدد کی۔ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ان استاد اور ایک استاد پروفیسر سلیم بٹ کو پنشن اور گریجویٹی ملتی ہے یا نہیں اگر یہ دونوں بیوروکریٹ ہوتے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ ایک دن بھی ان کی پنشن رکتی۔
بہرحال بات ہو رہی تھی کہ خاندانی لوگ، اچھی روایات اور اقدار سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ کسی سیاسی جماعت نے عوام کی ذہنی تربیت کے لئے کام نہیں کیا۔ ہر سیاسی جماعت کو صرف نعرے لگانے والے اور گلو بٹوں کی ضرورت ہے انہیں تعلیم یافتہ روایات اور اقدار پر چلنے والے لوگوں کی ضرورت نہیں یہی وجہ ہے کہ معاشرہ انحطاط کا شکار ہو چکا ہے اس ذہنی پستی کا مظاہرہ آج ہر محکمے سڑک پر، تعلیمی اداروں میں، اسپتالوں غرض ہر جگہ نظر آ رہا ہے بلاول بھٹو پاور شو کرکے خوش ہو رہا ہے میاں صاحب اپنا پاور شو کرکے اپنا رونا رو رہے ہیں۔ عمران خاں تبدیلی کی رٹ لگائے بیٹھا ہے اور ہم پوری ایمانداری کے ساتھ جائزہ لیں تو یقین کریں کہ 1970ء کے بعد ہر اچھی روایت، اقدار اور اچھے لوگوں پر دھول پڑگئی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں