آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

( گزشتہ سے پیوستہ)
امریکی فلسفی جیمز فیلبل مین نے ایک بار کہا تھا کہ ’’دیومالائی حکایتو ں کے مذہب یعنی تصوراتی ، فرضی داستانوں پر اب کوئی یقین نہیں کرتا‘‘ لیکن جیمز فیلبل مین کو اگر پاکستان ٹوٹنے کی وجوہات ، بنگلہ دیش بننے کے اسباب پر نظر مار کر سچ میں لپٹے جھوٹ ، جھوٹ میں پھنسے سچ کو ڈھونڈنا پڑتااور اس حوالے سے پھیلائی دیومالائی ،تصوراتی اور فرضی کہانیاں سننا یاپڑھنا پڑتیں تو وہ رضا کارانہ طور پر اپنا قول واپس لے لیتا ، یقین جانئے ایک تو یہ موضوع ایسا ‘اوپر سے سچ ‘ جھوٹ یوں گڈ مڈ کہ کچھ پلے ہی نہ پڑے ،بہرحال معروف محقق جنیداحمد کی کتاب"Creation of Bangladesh Myths Exploded" کی دوسری اور آخری قسط پیشِ خدمت ہے،اس دعاکے ساتھ کہ اللہ پاکستان پر رحم اور فضل فرمائے !
ایک کہانی جس نے جلتی پر تیل ڈالا کہ پاکستانی فوج نے 30لاکھ بنگالیوں کو ہلاک کیا ،23دسمبر 1971کو روسی اخبار Pravdaنے جب یہ لکھا کہ ’’ 1971ء کی جنگ میں 30لاکھ بنگالیوں کو ماردیا گیا تو گویا اس کہانی کو پرَ لگ گئے ،پھر جب 18جنوری 1972ء کو برطانوی صحافی ڈیوڈفراسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے شیخ مجیب الرحمان نے بھی 30لاکھ والی بات دہرادی تو بنگلہ دیش کے اندر اور باہر سب نے اسے حقیقت جانا، مگر جب اس کہانی کو سچا ثابت کرنے کا وقت آیا تو نہ صرف غیر جانبدار تحقیق کاروں نے یہ

دعویٰ مسترد کردیا ،نہ صرف جنوری 1972ء میں مجیب کا اپنا تحقیقاتی کمیشن ناکام ہوا بلکہ شرمیلا بوس اورڈاکٹر عبدالمومن چوہدری جیسے دانشوروں نے بھی لاکھوں نہیں ہزاروں ہلاکتوں کی بات کی ۔ایک الزام یہ بھی لگایا گیا کہ پاکستانی فوج نے ہندوئؤں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا اور مقصد مشرقی پاکستان سے ہندوئؤں کا خاتمہ کرنا تھا، یہ الزام بھی بعد میں جھوٹ نکلا ، معروف مصنفہ شرمیلا بوس نے تو یہاں تک لکھ دیا کہ’’ 1971ء میں اکا دُکا واقعات کے علاوہ ہندوئؤں کو کبھی پاکستانی فوج سے کوئی زک نہ پہنچی بلکہ بہت بار تو پاکستانی فوج نے ہندؤ آبادی کو عوامی لیگ کے دہشت گردوں اور مکتی باہنی کے ہاتھوں قتل ہونے سے بچایا‘‘۔
ایک جھوٹ یہ بھی پھیلایا گیا کہ بنگال میں پاکستانی فوج امن وآمان کی آڑ میں اجتماعی طورپر جلاؤ گھیراؤ ،لوٹ ماراور آبروریزی میں ملوث رہی لیکن بعد میں غیر جانبدار تحقیقاتی کمیشن کی تحقیق نے بتایا کہ انفرادی واقعات کے علاوہ یہ الزام بھی جھوٹ پر مبنی اور یکم مارچ سے 25مارچ 1971ءتک اور 26مارچ سے 16دسمبر 1971ءکے دوران کی گئی زیادہ تر لوٹ مار ،آتش زنی ‘آبروریزی اور قتل وغارت مکتی باہنی نے کی ،تشدد کی یہ کارروائیاں غیر بنگالیوں ،بہاریوں ،غیر ملکیوں اور مغربی پاکستان کے باشندوں کے خلاف بھی کی گئیں ، عورتوں کو زندہ جلا نا، اجتماعی آبروریزی ، نوزائیدہ بچوں کے جسموں کے ٹکڑوں کی سرِعام نمائش، یہ عوامی لیگ کے غنڈوں اور بھارتی حمایت یافتہ مکتی باہنی کے شرپسندوں کا کیا دھرا نکلا ۔
اس بات کا بھی بہت پروپیگنڈہ کیا گیا کہ بنگال میں ہندوستانی مداخلت انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کی گئی‘ بھارت مسئلے کا صرف سیاسی حل چاہتا تھا اور بنگال کے حالات اس لئے بگڑے کہ یحییٰ خان اور مجیب الرحمان یا مغربی اور مشرقی پاکستان کی قیادتیں کسی حل پر پہنچ ہی نہیں پا رہی تھیں ، حقیقت یہ کہ بھارت پہلے دن سے ہی سازشوں میں لگاہوا تھا، روزِاول سے پاکستان توڑنے کی کوششوں کا آغاز ہو گیا تھا اور جب مغربی ومشرقی پاکستان کے رہنمائؤں کے غلط فیصلوں اور غلط حکمت عملیوں کی وجہ سے حالات خراب ہوئے تو بھارت نے اپنا گھناؤناکھیل کھیلنا شروع کر دیا، نتیجہ پاکستان ٹوٹنے کی صورت میں نکلا،اب تو بہت سے بھارتی دانشور بھی یہ کہہ اور لکھ چکے کہ اگر یحییٰ اور مجیب کسی متفقہ حل پر پہنچ جاتے تو بھی صرف اتنا ہی فرق پڑتا کہ تقسیم چند ماہ یا ایک دوسال بعد ہوجاتی کیونکہ بھارت نے جو چو مکھی سازشوں کا تانا بانا بن رکھا تھا ‘ اس سے بچ نکلنا ناممکن تھا۔
ایک مفروضہ یہ بھی گھڑا گیا کہ بھارتی فوج کو تو بنا کسی منصوبہ بندی اچانک مداخلت کرنا پڑی اور وہ بھی پاکستانی فوج کے حملوں کی پیش بندی کے طور پر ، بعد میں یہ بھی کہاگیا کہ بھارت نے تو تب فوجی مداخلت کی جب پاکستان کی جنگی کارروائیاں سرحدپار گئیں ،حقیقت یہ کہ پاکستان نے پہلی بار ہندوستانی ہوائی اڈوں کو 3دسمبر 1971کو نشانہ بنایا جبکہ ہندوستانی فوج منصوبہ بندی سے قدم بہ قدم آگے بڑھتی رہی اور 21اور22نومبر کو تو اس نے مکتی باہنی کے نیم فوجی دستوں کے ساتھ ٹینکوں اور توپوں سے پاکستانی چوکیوں پر حملے کرنا بھی شروع کر دیئے تھے ، پھر یہی نہیں ’’را ‘‘ کی قائم کردہ تبتی گوریلا فوج بھی پاکستانی فوج پر مسلسل حملے کر رہی تھی ، ہندوستان اپنی سرحد پر فوجوں کی تعداد 3گنا سے زیادہ کرچکا تھا اور پھر 3دسمبر تک تو ہندوستانی فوج مشرقی پاکستان کے کئی علاقوں پر قابض ہو چکی تھی ، بقول بھارتی آرمی چیف جنرل مانک شاہ ’’اگر ہم ان علاقوں پر پہلے سے قابض نہ ہوتے تو ہم جیت نہ پاتے ‘‘۔
ایک داستان یہ بھی گھڑی گئی کہ ہندوستان کو عالمی سطح پر کوئی مدد نہ ملی اور روس نے تو بس سفارتی حمایت کی، حقیقت یہ کہ روس نے ہندوستان کو جدید ٹینک اور طیارے دیئے اورپاکستان کو مرعوب کرنے کیلئے بھارت نے روس کے ساتھ 1971میں باقاعدہ معاہدے پر دستخط کئے ، اس کی تشہیر کی اور پھریہ تو پوری دنیا نے مانا کہ بھار ت نے روس کی دی توپوں ،ٹینکوں اور طیاروں سے جنگ کو فیصلہ کن موڑ دیا، اسی طرح سفارتی محاذ پر حالت یہ تھی کہ جب بھی امریکہ اور چین اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی کوئی قراردار پیش کرتے تو روسی نمائندہ مولوٹوف ویٹو کر دیتا، روسی نمائندے نے قرارداد کو اتنی بار ویٹو کیا کہ اس کانام ہی مسٹر ویٹو اورمسٹر نو پڑ گیا ۔
ان نازک لمحوں میں عالمی سطح پر صورتحال اس وقت بہت خراب ہوگئی جب پاکستان کے حمایت یافتہ کشمیری مجاہدین نے 30جنوری 1971ء کو ہندوستانی فوکر طیارہ اغوا ء کر لیا، اس واقعہ کے بعد اب ایک طرف بھارت نے عالمی سطح پر یہ پروپیگنڈہ تیز کر دیا کہ ’’ پاکستان درپردہ مقبوضہ کشمیرمیں بدامنی پھیلا اور کشمیری دہشت گردوں کی مدد کررہا‘‘ جبکہ دوسری طرف بین الاقوامی کنونشن کے تحت پاکستان کو چاہئے تھا کہ وہ ہائی جیکرز کے خلا ف کارروائی کرے ، لیکن کشمیری مجاہدین کی جدوجہد ،تب کے حالات اور عوامی ردِعمل سے مجبور ہو کرانہیں سیاسی پناہ دیدی گئی ،اور پھر جہاز کے عملے اور مسافروں کونکال کرجب اچانک ہائی جیکروں نے ہوائی جہاز کو آگ لگادی تو ہندوستان نے پاکستان کو موردِالزام ٹھہراتے ہوئے اپنی فضائی حدود سے مشرقی او ر مغربی پاکستان کے درمیان تمام فضائی رابطے منقطع کردیئے ، اور یوں اس وقت جب مغربی اور مشرقی پاکستان کے حالات ایسے کہ ایک ایک لمحہ بڑا قیمتی، یہ 3گھنٹے کا ہوائی سفر 7گھنٹوں کا ہوا بلکہ مشرقی پاکستان ایک طرح سے کٹ کر رہ گیا ،گوکہ بعد میں جب سازشی کڑیاں ملائی گئیں تو پتا چلا کہ بھارت اورعوامی لیگ نے منصوبہ بندی کے تحت جذباتی کشمیریوں کے ذریعے یہ طیارہ اغوا کروایا ، مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنا ،باقاعدہ بھارتی کارروائی کا جواز پیدا کرنا اورمغربی و مشرقی پاکستان میں فضائی رابطہ ختم کرنا ، مگر سب باتوں کے باوجود یہ حقیقت کہ پاکستانی قیادت نے عقلمندی سے مسئلے کا حل نہ نکالا اور بھارت اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ۔
دوستو! آپ نے جنید احمد کی کتاب کی جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں ، جاتے جاتے یہ ضرور کہنا کہ بلاشبہ جنید احمد کی یہ تحقیق قابلِ تحسین مگر یہ تصویر کا ایک رُخ، لہذا سچ یہ کہ سقوطِ ڈھاکہ کے حوالے سے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے دیگر مصنفین اور محققین کو بھی ضرور پڑھیں ،پھر جنیدا حمد نے اپنی کتاب میں بنگلہ دیش وبھارتی گٹھ جوڑ،سازشوں اور دونوں کے گھنائونے کردار پر تو تفصیل سے بات کی لیکن وہ پاکستانی قیادت کے غلط فیصلوں ،ضد ،انا ،وژن، حکمت عملی اور طاقت کے بے جا استعمال کا سرسری سا ذکر کر کے آگے بڑھ گئے، لہذا سچ یہ کہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی اور قصور دونوں طرف کا ، لیکن دوستو! جب پاکستان ٹوٹنے پر اندراگاندھی سے یہ سنوں کہ ’’ ہم نے ہندوستان کی تقسیم کا بدلہ لے کرنظریہ پاکستان کو خلیج بنگال میں ڈبودیا‘‘ اور جب 45سال بعد بنگلہ دیش جا کر نریند رمودی یہ کہے کہ ’’ہمیں فخر کہ پاکستان توڑنے میں ہم نے عملی طور پر حصہ لیا ‘‘ تو پھر سچ یہ بھی کہ مجھے جنیداحمد کے دلائل میں بڑا وزن نظر آئے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں