آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Court Refuses To Cancel Imran Khans Atc Cases

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے عمران خان کے خلاف پی ٹی وی حملہ سمیت دیگر مقدمات سے اے ٹی سی کی دفعات نکالنے کی درخواست مسترد کردی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نےدرخواست پر فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ عدالت نے عمران خان کی عبوری ضمانت میں 19 دسمبر تک توسیع دیتے ہوئے آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم بھی جاری کر دیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف پی ٹی وی اور پارلیمنٹ حملوں، ایس ایس پی عصمت اللہ جونیجو پر تشدد سمیت چار مقدمات کی سماعت کی۔

اس موقع پر چیئرمین پی ٹی آئی آج چوتھی بار انسداد دہشت گردی عدالت کے روبرو پیش ہوئے ہیں۔

دوران سماعت عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے مؤقف اپنایا کہ پولیس کے مطابق پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کےکارکنان نےڈنڈوں، غلیلوں سےحملہ کیا، کیا ڈنڈوں اور غلیلوں سے حملہ کرنا دہشت گردی ہے؟

پولیس کی جانب سے پراسیکیوٹر چوہدری شفقات نے دلائل دیتے ہوئے مقدمات سےدہشت گردی کی دفعات نکالنےکی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل دیئے کہ دھرنا طاقت کے ذریعے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے تھا۔

بابر اعوان نے کہا کہ ان مقدمات میں دہشت گردی کا کوئی عنصر نہیں، اگر کوئی جرم ہوا بھی تو وہ دہشت گردی کا جرم نہیں۔ کمرہ عدالت میں پراسیکیوٹر نے عمران خان کے خلاف ایف آئی آر کا متن اور ان کی تقاریر پڑھ کر سنائیں اور بتایا کہ عمران خان نے اپنے کارکنان کو اشتعال دلایا اور وزیراعظم ہاؤس پر قبضہ کرنے کا کہا۔

بابر اعوان نے کہا کہ صرف تقاریر پر دہشت گردی کا مقدمہ نہیں بنایا جاسکتا، پھر تو پاناما کا فیصلہ آنے کے بعد حکومتی وزرا پر 2 ہزار پرچے بننے چاہیے تھے۔

پراسیکیوٹر نے عمران خان اور عارف علوی کی گفتگو کا ریکارڈ بھی عدالت میں پیش کیا جس پر بابر اعوان نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے ریکارڈ مانگا۔ بابر اعوان کی جانب سے استدعا کی گئی کہ مقدمے کا ٹرائل اے ٹی سی کی بجائے سیشن کورٹ میں کیا جائے۔

عدالت نے دونوں جانب سے دلائل سننے کے بعد کیس پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو بعد میں سنایا گیا۔

 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں