آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہی وہ واحد جماعت ہے جو پاکستان میں عوام کی آرزئوں، امنگوں اور حقیقی سوچ سے تخلیق پاکر عوام کی جماعت بنی یعنی پیپلز پارٹی، طاقت کا سرچشمہ صرف عوام ہیں کا نعرہ دیا، پارٹی کو جمہوری فورس، جمہور کی آواز، اینٹی اسٹبلشمنٹ، بائیں بازو کی لبرل و سیکولر اور نظریاتی جماعت قرار دیا، یہ وہی واحد جماعت ہے جسکے قائدین سیاسی نظام اور جمہوریت کی بقا کی خاطر آمر سے ٹکرا گئے، اصولوں کی خاطر تختہ دار پر جھول گئے اور عوام پر اپنی جانیں سرراہ نچھاور کرتے رہے، پارٹی سے وابستہ کارکن جیالے کہلائے، جو جمہوریت کی جدوجہد میں کوڑے کھاتے اور جیلیں کاٹ کر پارٹی کی آبیاری کرتے رہے۔ پھر وقت بدلا دنیا نے عجب منظر دیکھا کہ پارٹی کے موجودہ ’’قائد‘‘ اور ’’جمہوریت کو بہترین انتقام‘‘ قرار دینے والے زرداری صاحب روایتی مسکراہٹ کے ساتھ ایک ایسی شخصیت کے در پر نظر آئے جس نے انہیں بے اقتدار کرنے کی خاطر وفاقی دارالحکومت کو کئی دن یرغمال بنایا اور پہلا دھرنا دیا، جس نے پیپلزپارٹی کی منتخب حکومت کو ظالم حکومت قرار دیا، عوامی مینڈیٹ سے نوتعمیر جمہوری نظام کی عمارت کی پہلی اینٹ اکھیڑی، یہ وہی ہیں جنہیں زرداری حکومت کے وزراء نازیبا القابات سے نوازتے رہے، جی ہاں یہ وہی شخصیت ہیں جو ہر سال کچھ دنوں کے لئے پاکستان کے دورے پر آکر

اپنے عوام سے انمول محبت کی قیمت وصول کرکے اپنے وطن واپس لوٹ جاتے ہیں، یہ وہی ہیں ہے جن کی شان میں فیض آباد دھرنے کے دوران بہت کچھ ارشاد کیا گیا اور یہ بھی کہا گیا کہ ان کیلئے تعریف وتوصیف کیلئے ڈکشنری میں الفاظ ہی نہیں۔ زرداری صاحب کا اسی شخصیت کی زلفوں کا اسیر ہونے کے جذباتی فیصلے سےعوام نابلد تھے، کوئی اندازہ نہیں کرسکتا تھا کہ وہ ’’جمہوری نظام کی مضبوطی‘‘ اور ’’جمہوریت کا انتقام‘‘ لینے کیلئے اس قدر جلدی کا مظاہرہ کریں گے۔ وجہ کچھ بھی بیان کی جائے حقیقت یہ ہے کہ اس انہونی سے ملک کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی کا جیالا ووٹر حیران وپریشان اور دل گرفتہ ہے۔ جیالا جاننا چاہتا ہے کہ کیا اس کا ووٹ ذاتی انتقام کے نام پر جمہوریت کو لپیٹنے کے لئے کسی کا بازو بن جانے کے لئے تھا، جیالا پوچھ رہا ہے کہ کیا محض اپنی علاقائی سیاست کو بچانے اور ہرصورت سندھ اور وفاق میں اقتدار کی خواہش نے آپ کو اصولوں پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا؟ کیا برسوں بعد اسلام آباد میں متاثر کن عوامی اجتماع اور ان کے اعتماد کی بحالی کا یہ صلہ ہے کہ ایسے شخص سے ہاتھ ملایا گیا جس کا بزنس اور گھر بار سمیت سب کچھ بیرون ملک ہے، جس کی کوئی سیاسی جماعت ہے نہ کوئی ووٹ بینک ، جس کی جمہوریت کیلئے کوئی قربانی ہے نہ سیاست سے کوئی واسطہ، جیالا حیران ہے کہ کیا50سال بعد اب پارٹی اتنی کمزور اور لاچار ہوگئی کہ جس کے سبب ہمیشہ بیمار ہوئے اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے پہنچ گئے، جیالے کا سوال ہے کہ کبھی آپ بی بی شہید کے نامزد کردہ ملزمان کو قاتل لیگ قرار دیتے ہیں، کبھی ’’طاقتوروں‘‘ کی خواہش کو مفاہمت قرار دے کر انہیں اقتدار میں شریک کرلیتے ہیں، کبھی راہ میں کھڑے ہو کر ’’بڑے بھائی‘‘ کا انتظار اور ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھاتے ہیں تو کبھی اس کو بھیانک انجام سے دوچار کرنے کیلئے کسی اور کا مہرہ بن جاتے ہیں، کبھی اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دیتے ہیں، پھر جان کی امان کی خاطر خاموش معاہدے کر لیتے ہیں، کبھی عوامی اعتماد کے لئے اپنی جماعت کے حقیقی چہروں کو استعمال کرتے ہیں اور کبھی انہیں دودھ میں سے بال کی طرح نکال باہر پھینکتے ہیں۔ جیالا سادہ ہے مگر سمجھدار بھی ہے کہتا ہے کہ کیا یہ وہی ’’دوست‘‘ نہیں جنہوں نے پانچ سالہ اقتدار کے دوران سکون سے بیٹھنے دیا نہ حکومت چلنے دی، سیاست کرنے دی نہ جمہوریت مضبوط کرنے دی، ترقی کا نظام بننے دیا نہ عوامی فلاح کا کوئی کام کرنے دیا، جب یہ سب کچھ روز روشن کی طرح عیاں ہے تو پھر آج آپ اپنی ذاتی پرخاش مٹانے اور نظام کو لپیٹنے کی کوششوں کا حصہ بننے کی بجائے بڑا دل کر کے اپنی جمہوریت پسند روایتی مفاہمتی حکمت عملی اختیار کرنے کی بجائے ’’ان‘‘ سے کیا توقعات لگا بیٹھے ہیں؟ آپ کیوں چاہتے ہیں کہ مارچ تک حکومت بچے نہ سینیٹ کے انتخابات ہوسکیں، آپ کیوں چاہتے ہیں کہ ایک منتخب جمہوری حکومت عوام کے انتخابی عمل کے عتاب کا شکار ہونے کی بجائے شہید جمہوریت بن جائے، آپ کیوں چاہتے ہیں کہ اس ملک سے سیاست مفقود اور جمہوریت مسافر ہوجائے، شاید جیالے کو ان تمام سوالوں کے جواب نہیں مل پائیں گے، کیونکہ اب کی بارسب ’’جمہوری طاقتیں‘‘ اکٹھی ہوچکی ہیں، وہ جمہوری نظام کو ’ایک دھکا اور دو‘‘ کی ہاہاکار مچانے اور زور لگانے میں مشغول ہیں، اپنے جیسے کو گرانے میں سبقت لے جانے کی کوشش میں ’’جمہوریت پسند‘‘ بھول رہے ہیں کہ کل اقتدار عطا ہو بھی گیا تو اک دن بھی چلنا محال ہوگا، کیا کل کوئی ایک ’’منتخب رہ نما‘‘ اصلاح نظام کی خاطر چند افراد کے ساتھ اسلام آباد پروارد نہیں ہوگا؟ 70برس کی تاریخ بتاتی ہے کہ آپ پہلے کچھ سمجھے نہ سیکھے نہ اب اس کا کوئی امکان ہے، دراصل کوئی اور نہیں آپ سب خود اس نظام کو تل پٹ کرنے کے درپے ہیں اور جمہوریت کے قافلے کو منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی سرراہ لوٹنے والوں میں شریک ہیں، جب بھی کوئی جمہوری حکومت قائم ہوتی ہے توصف باندھ کر اقتدار بدری کی عرض لئے طاقتوروں کے در پر پہنچ جاتے ہیں، تلخ حقیقت یہی ہے کہ پیپلزپارٹی کے بظاہر حریف لیکن حکومت گرانے کی کوششوں میں شریک خان صاحب کا بس نہیں چل رہا کہ وہ سب ’’کرپٹ‘‘ لوگوں کی کسی طور گردنیں اڑا کر جیسے تیسے کرسی پر جا بیٹھیں، انہیں خود معلوم نہیں وہ کس کے لئے، کب اور کیسے استعمال ہو رہے ہیں۔ مجھے کیوں نکالا کی پریشانی میں مبتلا میاں صاحب کے لئے اقتدار اور بیرون ملک اربوں کے اثاثے ہی سب کچھ ہیں، وہ خود پر لگے الزامات کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کریں گے نہ جمہوریت کی بقا اور وطن کی محبت میں اپنا سب سرمایہ واپس لاکرعوام پر اپنا اعتماد بحال کریں گے، وہ پتلی تماشہ اور سرکس لگانے والوں کو بے نقاب کریں گے نا جمہوریت کےخلاف سازش کرنے والے کرداروں کا پتہ بتائیں گے، آپ سب کو یقین ہے کہ جمہوری نظام لپٹ بھی جائے تو آپ کی عزت وتوقیر اور اثاثوں پر کیا فرق پڑے گا، ہمیشہ سے پریشان عوام اور نقصان بھی انہی بیچاروں کا ہوا ہے سو اب بھی وہی بھگتیں گے، کیونکہ جمہوریت کے لئے قربانی کا بکرا دراصل جمہور ہیں۔ قارئین کرام، عجب اتفاق ہے کہ دو ہفتے پہلے ’’ایک اور دھرنا تمام ہوا، اگلے کا انتظار‘‘ کے عنوان سے میرے کالم کے مندرجات کے کردار جلد حقیقی انداز میں سامنے آگئے ہیں، کسی نے پوچھا تھا کہ اگلا دھرنا کب ہوگا تو میرا جواب تھا شاید چند ہفتوں میں لیکن شاید وقت کم اور مقابلہ سخت ہے، اگلا دھرنا آخری ہی نہیں بلکہ دھڑن تختہ ہوگا لیکن محض حکومت کا نہیں، جمہوریت کا بھی، فیض آباد کے دھرنے نے عوام کے ووٹوں سے بننے والے نظام کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں، وزیراعظم صاحب پر اعتماد ہو کر سب ٹھیک ہونے کا جتنا بھی خود کو یقین دلائیں، سب کچھ عیاں اور نیا کھیل تیار ہے، سب خاطر جمع رکھیں کہ عوام کے ووٹ کی حرمت کے نام پر اقتدار بچانے اور اپنے اقتدار کی خاطر سر دھڑ کی بازی لگانے والوں کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا، فیصلہ کن راونڈ سے پہلے سب ’’جمہوری کردار‘‘ اپنا اپنا انتقام لینے کے لئے جمہوریت کو کفن پہنانے میں مصروف ہیں اور جلد اس کو لاوارث قرار دے کر اپنے سفاک ہاتھوں سے دفن کردیں گے۔ پھر جمہوریت عالم ارواح سے پوچھے گی،
میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے (تھے) ہیں دستانے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں