آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍شعبان المعظم1439ھ 26؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
Pakistan Stands With Palestine Prime Minister

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ پاکستانی عوام کی جانب سے امریکی فیصلے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، اس موقع پر پورا پاکستان فلسطین اور فلسطینی عوام کے پیچھے کھڑا ہے۔

ترک شہر استنبول میں منعقدہ او آئی سی کے ہنگامی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے امریکا کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آزاد فلسطین امت مسلمہ، او آئی سی کا واحد اور متفقہ روڈ میپ ہونا چاہیے۔

x
Advertisement

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ امریکا کا مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے صیہونی افواج کی جانب سے فسلطینی عوام پر مظالم ڈھانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی یہ حرکت نئی نہیں، وہ 70 سال سے فلسطین جبکہ بھارت اسی مدت سے مقبوضہ کشمیر پر بھی غیر قانونی طور پر قابض ہے۔

وزیراعظم نے امریکا سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت تسلیم کرے،سلامتی کونسل مقبوضہ بیت المقدس کے معاملے میں اپنا کردار ادا کرے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں آزاد فلسطینی ریاست کی جدوجہد کرنا چاہیے جس کا دارالحکومت مقبوضہ بیت المقدس ہو،دنیا بھر کے مسلمانوں کو انصاف اور آزادی کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔

شاہد خاقان عباسی نے اس تنازع کے خاتمے اور مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے اس موقع پر تین سفارشات پیش کیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل اس معاملے پر سنجیدگی نہیں دکھاتی تو اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اٹھایا جائے،قابض صیہونی افواج کا تسلط ختم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی تعاون تنظیم اقتصادی طور پر بھی دباؤ ڈالے،اس مسئلے کو عالمی عدالت انصاف میں بھی اٹھایا جا ئے۔

اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سفارشات کو سراہا اور ان کی تائید کی۔

علاوہ ازیں ترکی کے دورے پر گئے ہوئے پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے او آئی سی اجلاس کی سائیڈ لائن کے دوران میئر استنبول سے ملاقات کی ہے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں