آپ آف لائن ہیں
منگل7؍شعبان المعظم 1439ھ24؍اپریل 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
Todays Print

استنبول (جنگ نیوز) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ بیت المقدس کو تسلیم کرنے کے امریکی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئےکہا ہے کہ عالمی برادری مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی دارالحکومت تسلیم کرے ،اس موقع پر فلسطینی صدر نے کہا کہ امریکا امن مذاکرات میں ثالث کا کردار کھو چکا ہے ، ترکی کی صدارت میں 57رکنی مسلم تنظیم او آئی سی کا ہنگامی اجلاس استنبول میں منعقد ہوا جس میں مسلم ممالک کے سربراہان مملکت اور وزراء خارجہ کے علاوہ وینزویلا کے صدر مادورو نے بھی شرکت کی ،ترک صدر نے اسرائیل کو ایک دہشتگرد اور قابض ریاست قرار دیا، ایردوان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ صیہونیت سوچ کے حامل ہیں اور وہ پورے فلسطین کو اسرائیل کا حصہ بنانا چاہتے ہیں، ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ وہ فلسطینیوں کے قانونی حقوق کیلئے تمام مسلم ممالک کے ساتھ غیر مشروط طور پر تعاون کرنے پر تیار ہیں، اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم ممالک کے درمیان اتحاد انتہائی ضروری ہے اور القدس ہماری ترجیح ہونا چاہئے، سعودی عرب کے شاہ سلمان نے ریاض سے جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ فلسطینیوں کا حق ہے کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست قائم کریں اور مشرقی القدس اس کا دارالحکومت ہو، دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہیں بیت المقدس کے معاملے پر مسلم

x
Advertisement

رہنمائوں کے بیانات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، انہیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ بیت المقدس صرف اسرائیل کا دارالحکومت ہے ۔ تفصیلات کے مطابق اپنے مشتر کہ اعلامیہ میں او آئی سی نے امریکا اور اسرائیل کیخلاف پابندیوں کا اعلان نہیں کیا تاہم مشرقی مقبوضہ بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دے دیا ، اعلامیہ میں ٹرمپ کے فیصلے کو غیر قانونی اور قیام امن کی کوششوں کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے شدت پسندی اور دہشتگردی کو تقویت ملے گی، او آئی سی نے اقوام متحدہ سے فلسطین کے تنازع کو جلد حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے اسرائیل کو دہشت گرد ریاست قرار دیا،ترک صدر نے کہا کہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور اخلاقیات کی اقدار کے منافی ہے جب کہ امریکی فیصلہ انتہا پسندوں کے مفاد میں ہے اور فیصلے کو صرف اسرائیل کی حمایت حاصل ہے،انہوں نے مز ید کہا کہ 1948میں اسرائیل کے قیام کےقبضے کےبعد سے فلسطین کے رقبے میں نمایاں کمی آرہی ہے، اسرائیل قابض اور دہشت گرد ریاست ہے جب کہ امریکی فیصلہ اسرائیل کے دہشت گردی اقدامات پر انہیں تحفہ دینے کے مترادف ہے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں