آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Todays Print

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے قبل قبائلی عوام کی آراء معلوم کی جائے، کوئی بھی فیصلہ جبر کے ذریعے مسلط نہ کیا جائے اگر اس ضمن میں دھرنوں کی بات کی جا رہی ہے تو یہ دوسرے فریق کو اُکسایا جا رہا ہے، سیاسی جماعتیں جمہوری طریقہ اپنائیں، امریکی صدرنےاقوام متحدہ کی قرار دادوں کوپامال کیا ۔ بدھ کو قصر ناز کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ حلقہ بندیوں پر پیپلزپارٹی اور حکومت میں ثالثی کیلئے تیار ہوں، فاٹا کے معاملے میں جو بل قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی کوشش کی جارہی اس میں سقم تھا ،اس سے آئینی بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے، فاٹا کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے سیاسی جماعتوں کو بات چیت کی دعوت دیتا ہوں۔ فضل الرحمان نے کہا کہ اگر فاٹا کے عوام انضمام کے فیصلے سے متفق ہوں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ،لیکن اکثریت کو اقلیت پر فوقیت نہ دی جائے ، دو دن سے قومی اسمبلی میں ایک ہنگامی صور تحا ل ہے جس کو فاٹا کے بارے میں آئین سازی کے بل کو ایجنڈے سے ہٹانا قرار دیا جارہا ہے ،لیکن ہنگامہ آرائی کرنے والے حکومتی موقف سننے کو تیار نہیں او ر یہ الزام لگایا جارہا ہے کہ ایجنڈے سے فاٹا کے بل کو مولانا فضل الرحمن کے

دباؤں کے پیش نظر الگ کیا گیا ہے، جبکہ حقیقی صورتحال یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ موقف سامنے آیا ہے کہ بل میں کمزوری تھی جس کے سبب اسے ایجنڈے سے نکا لاگیا اور یہ بات درست بھی لگتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں