آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس مرتبہ جب ہم کالم لکھنے کے لئے تو ہر اخبار مختلف ملکی اور بین الاقوامی مسائل سے بھرا پڑا تھا۔ ویسے تو ہر روز یہی صورتحال ہوتی ہے۔ سب سے زیادہ مسائل کا تعلق اپنے ملک سے ہے۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر کب تک پاکستان اور اس کے عوام مسائل میں گھرے رہیں گے کب کا نوں میں یہ آواز آئے گی کہ پاکستان کے عوام کے تمام مسائل ختم ہو گئے کاش ہم بھی کبھی سن اور کہہ سکیں کہ پاکستان کا کوئی شہر ، آسٹریلیا کے شہر ملبورن کی طرح دنیا کا سب سے پرسکون اور بہترین شہر ہو گیا ہے۔ 70برس قبل پاکستان کا ہر شہر بہت خوبصورت اور صاف ستھرا تھا ، آج کل ہر شہر آلودہ اور گندگی کا ڈھیر ہے کراچی کیا پاکستان کے کسی شہر کا بھی پانی آج پینے کے قابل نہیں۔ بیماریاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔ حکومت اسپتال بنانے پر زور دے رہی ہے جبکہ بیماریوں کی روک تھام کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ بندی نہیں آج کل پورا پنجاب کمپنیوں کی زد میں ہے۔ جس پر محکمہ خزانہ نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف کو ایک رپورٹ دی ہے جس کے مطابق کئی سرکاری ملازمین اور بیورو کریٹ تین لاکھ سے بیس لاکھ روپے تک تنخواہ لے رہے ہیں اور سہولتیں علاوہ۔ اس وقت پنجاب میں تیس کے قریب مختلف کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ کمپنیاں اس لئے بنائی گئی ہیں کہ سرکاری محکموں میں ریڈ ٹیپ ازم کے باعث

کاموں میں تاخیر ہوتی ہے۔ اب ہر کمپنی کا سی ای او اور بورڈ تمام فیصلے کرنے میں بااختیار ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب پہلے سے موجود اس محکمے کے حوالے سے ایک کمپنی بنا دی گئی پھر اس سرکاری محکمے کا وجود کیوں؟ایک طرف کمپنی کے ملازمین لاکھوں روپے تنخواہیں لے رہے ہیں تو دوسری طرف اس شعبے کے پہلے سے قائم محکمے کے ملازمین کی فوج ظفر موج علیحدہ موجیں مار رہی ہے۔ دلچسپ صورت حال یہ ہے کہ ان کمپنیوں کے سی ای او پنجاب حکومت کے ملازم ہیں ۔ کچھ بیوروکریٹس ہیں اور کچھ دیگر کتنے مزے کی نوکری ہے کہ ایک طرف آپ کمپنی سے لاکھوں روپے تنخواہ لیں اور جب کمپنی کی ملازمت چھوڑئیں تو واپس سرکاری ملازمت میں جا کر فرائض ادا کرنے شروع کر دیں اور ترقیاں بھی حاصل کریں۔ پھر کمپنیوں کا بیشتر اسٹاف پنجاب حکومت کا ہی ملازم ہے۔ دنیا میں شاید کہیں ایسا ہوتا ہو۔ کمپنیوں کے ذریعے شاہ خرچیاں بھی جاری ہیں، لاکھوں روپے ماہانہ پر کوٹھیاں حاصل کر کے نئے دفاتر بنائے جا رہے ہیں۔ نئی گاڑیاں، گھروں کے الائونس، میڈیکل بل، حکومت برداشت کر رہی ہے۔ تنخواہیں حکومت دے رہی ہے ۔ تو پھر کمپنی کس بات کی ؟سارا سیٹ اپ تو حکومت کے پہلے سے قائم شدہ محکموں کی طرح ہے تو پھر کس کو کیوں نوازا جا رہا ہے؟پچھلے ہفتے کہیں سے ایک ٹی وی کلپ سرگنگا رام کے بارے میں ملا۔ اس اکیلے شخص نے یہاں کے لوگوں کیلئے جو کچھ کیا یقین نہیں آتا کہ ایک اکیلے شخص نے کیا جبکہ یہاں پر سینکڑوں ملازمین اور محکمے مل کر بھی یہ کام اور پلاننگ نہیں کر پاتے۔
سرگنگا رام پنجاب میں اسپتال، گھوڑا ٹرین، عمارات اور دیگر رفاہی کاموں کیلئے مشہور تھا۔ وہ بنیادی طور پر سول انجینئر تھے۔سرگنگا رام کو انگریزوں کے دور میں 55ہزار ایکڑ جگہ ملی جوساری بنجر تھی اس علاقے سے جو نہر گزرتی تھی وہ زمین سے نیچے تھی، اس شخص نے یہاں پر تین پمپنگ اسٹیشن بنائے اور اپر باری دوآب سے پانی لایا گیا اور پمپوں کے ذریعے 26فٹ اونچائی پر پانی چڑھایا گیا اب سوال یہ تھاکہ ان موٹروں کو چلانے کے لئے بجلی کہاں سے آئے گی ۔اس شخص نے نہر کے پانی سے بجلی پیدا کی اور یہ پہلا پاور ہائوس بن گیا قیام پاکستان کے بعدیہ پاکستان کا پہلا بجلی گھر تھا جو 1925ءمیں قائم ہواگنگا پاور اسٹیشن۔ سرگنگا رام پاور ہائوس کی یہ خوبی ہے کہ جس نہر سے پانی لیا جا رہا ہے اس سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے یہ ایک انوکھا تجربہ تھا ۔ 1925 میں رینالہ خورد میں قائم ہونے والا یہ بجلی گھر آج بھی علاقے کے لوگوں کو بجلی فراہمکر رہا ہے اور اس کی مشینیں آج بھی اسی طرح کام کر ر ہی ہیں ۔ گنگا رام پاور اسٹیشن سے ایک میگاواٹ بجلی بن رہی ہے ۔ چارٹر بائن کے ذریعے نہر کے بہتے ہوئے پانی سے بجلی پیدا کی جا رہی ہے اس گرڈ سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت ایک روپےمیگا واٹ ہے جبکہ دوسرے گرڈ ز سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمت تقریباً پندرہ روپے میگاواٹ ہے ہم نے ستر برس ضائع کر دئیے اور یہ نہ سوچا کہ ان نہروں سے ایک ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتے ہیں جس سے کھیت بھی سر سبز اور بجلی بھی بن سکتی ہے۔ان ستر برسوں میں آنے والی حکومتوں نے دعوے تو بہت کئے لیکن کسی نے یہ نہیں سوچا کہ اس نہر کے پانی سے سستی بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ اب جا کر گنگارام کے گنگا پاور ہائوس کی طرز پر نہروں پر پاور ہائوس بنائے جا رہے ہیں۔ کون سا مسلمان ملک ہے جو آج اندرونی طور پر مختلف مسائل کا شکار نہیں ہے؟ ایسا لگتا ہے کہ آنے والے چندبرسوں میں پوری دنیا کا نقشہ بدل جائے گا اور اگر مسلمانوں نے موجودہ حالات کو سامنے رکھ کر پیش بندی نہ کی تو یقینی بات ہے کہ بہت بڑی تباہی آ جائے گی۔ اس ہفتے ہائی کورٹ نے پرائیویٹ میڈیکل کالجوں کو داخلے کرنے کی براہ راست اجازت دے دی اور پی ایم ڈی سی کی سینٹرل انڈکشن پالیسی کو کالعدم قرار دے دیا۔ پی ایم ڈی سی کی تشکیل کو غیر قانونی قرار دیا اور کونسل کو نئے انتخابات تک انتظامی امور جاری رکھنے کی اجازت دی ہے اور یہ کہا کہ 90دن کے اندر پی ایم ڈی سی انتخابات کروائے۔ حیران کن بات ہے کہ پچھلے ستر برسوں میں کسی نے پی ایم ڈی سی کے کردارپر بات نہ کی اور پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے اب تک کتنے ڈاکٹروںکے خلاف ایکشن لیا جو میل پریکٹس کرتے رہے ہیں اورکر رہے ہیں
پھر اس فیصلے سے میڈیکل کالجوںکو مکمل چھوٹ مل گئی ہے وہ جو چاہیں کریں اور انہیں 2013 کی پالیسی کے مطابق داخلوں کی اجازت مل گئی ہے۔ کیا عجیب صورتحال ہے پی ایم ڈی سی کہتی ہے تمام سرکاری و نجی میڈیکل کالج ہمارے قواعد و ضوابط کے پابند ہیں جبکہ دوسری طرف والوں کا موقف ہے کہ آرڈیننس 2005 کے مطابق پی ایم ڈی سی کو کوئی اختیار نہیں تھا کہ وہ 2016ء کی داخلہ پالیسی بنائی۔ یہ بات تو سامنے کئی مرتبہ آئی کہ کئی نجی میڈیکل کالجوں میں داخلے کی مد میں فیس کے علاوہ ڈونیشن کی صور ت میں لاکھوں روپے وصول کئے جاتے ہیں ،کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ایسے اسٹوڈنٹس کو بھی داخلہ مل جاتا ہے جن کے نمبر کسی بھی سرکاری میڈیکل کالج میں داخلہ لینے والوں کے برابر نہیں ہوتے۔صورتحال اس وقت یہ ہے کہ جو اسٹوڈنٹس پرائیویٹ میڈیکل کالجوں سے ڈاکٹر بن کر آ رہے ہیں ان کا علم اور عملی تربیت سرکاری میڈیکل کالجوں سے کم ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو یقین کریں کہ آنے والے چندبرسوں میں یہاں ایک بھی قابل ڈاکٹر نہیں ملے گا۔ سمجھ میںیہ نہیں آتا کہ حکومت میڈیکل ایجوکیشن کے معیار کو بہتر بنانے کی طرف توجہ دینے کی بجائے نئے اسپتال بنانے پر کیوں زور دے رہی ہے۔ حالانکہ زیادہ زور بیماریوں کی روک تھام پر ہونا چاہئے۔ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا یہ کہنا کہ مریضوں کو بہترین علاج معالجے کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ دوسری طرف ہیپاٹائٹس کے مریضوں کو رجسٹر ہونے کے باوجود ادویات بروقت نہیں مل رہیں۔ اٹک کی رہائشی پینتالیس سالہ خیل مرجان زوجہ رضا خان ادویات کے انتظار میں چل بسی ۔
بتایا جاتا ہے کہ 70ہزار سے زائد مریضوں کی ادویات محکمے کے اسٹور میں جو نجی کمپنی کے حوالے کیا گیا ہے میں پڑی ہیں۔ حکومت جو ہر چیز کو آئوٹ سورس کر رہی ہے اس سے مستقبل میں بے شمار پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔ حالات یہ ہیں کہ ملک کی سب سے بڑی علاج گاہ میو اسپتال میں ڈائیلائسز کی کئی مشینیں خراب ہو چکی ہیں صرف پانچ کروڑ سے 50نئی ڈائیلائسز مشینیں آسکتی ہیں لیکن محکمہ صحت نے اس حوالے سے تاحال کوئی کارروائی نہیں کی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں