آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 دسمبر 8 کو امریکی ڈالر آسمان پر جاپہنچا جس سے زرمبادلہ کی منڈیوں میں نیا بحران پیدا ہوگیا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق سکوک اور یورو بانڈز کی مد میں 2.5 ارب ڈالر کی آمد کے باوجود امریکی ڈالر انٹربینک مارکیٹ میں 109.50 روپے اور اوپن مارکیٹ میں 5 سے 6روپے اضافے سے 111روپے سے تجاوز کرگیا۔ یہ افواہ گردش کررہی تھی کہ ڈالر 120 روپے تک پہنچ سکتا ہے لیکن اسٹیٹ بینک اور فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے صدر ملک بوستان ہوتی کے رابطوں کے بعد ڈالر کی قدر انٹربینک میں کم ہوکر 106.50روپے اور اوپن مارکیٹ میں 108 روپے کی سطح پر آگئی لیکن 12 دسمبر کو دوبارہ ڈالر صرف 3دن میں 6روپے کے اضافے سے 112 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا اور اس طرح آخرکار پاکستانی روپے کی قدر میں 4.7 فیصد کمی ہوئی جس کی وجہ سے یورو، برطانوی پائونڈ اور دیگر کرنسیوں کی قدریں بھی بڑھ گئیں۔ اسی دوران تیل کی قیمت بھی بڑھ کر 65 ڈالر فی بیرل ہوگئی جس سے خوردنی تیل، خشک دودھ اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء 8 سے 20 فیصد تک مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ اقوام متحدہ کے اکنامک سوشل کمیشن برائے ایشیاء پیسفک نے ایک روز قبل اپنی رپورٹ میں پاکستانی روپے کے شرح تبادلہ کو درپیش خطرات کی پیش گوئی کی تھی جبکہ آئی ایم ایف نے بھی ایکسٹرنل اکائونٹ کو متوازن کرنے کیلئے پاکستانی روپے کی شرح کو

کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا اور پاکستانی روپے کی قدر میں حالیہ کمی کو ملکی معیشت کیلئے فائدہ مند قرار دیا ہے۔ فاریکس ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان ہوتی کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے کہنے پر ہتھیار پھینک دیئے ہیں اور روپے کی قدر پر عائد کیپ ختم کردیا ہے جس کی وجہ سے کرنسی مارکیٹ میں بھونچال آگیا ہے اور اوپن مارکیٹ میں ڈالر 113 روپے میں فروخت ہوا۔ اسٹیٹ بینک نے روپے کی قدر میں دبائو کی وجہ مارکیٹ میں ڈالر کی ڈیمانڈ اور سپلائی کہا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے ملکی کرنٹ اکائونٹ میں ریکارڈ خسارے کو وقت کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایکسٹرنل اکائونٹ میں توازن اور 6 فیصد اونچی جی ڈی پی گروتھ کا ہدف حاصل کرنے میں مدد دے گا جبکہ فاریکس ایسوسی ایشن کے مطابق اسٹیٹ بینک نے اگر جلد از جلد روپے کی قیمت ایڈجسٹ نہیں کی تو ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر مزید گرسکتے ہیں۔
روپے کی قدر میں کمی کی وجہ ملکی امپورٹس میں ریکارڈ اضافے اور ایکسپورٹس میں کمی کی وجہ سے بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ، بیرونی قرضوں کی ادائیگی اور کرنٹ اکائونٹ خسارہ ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو ہے۔ اسٹیٹ بینک نے روپے کی قدر میں کمی کو مارکیٹ ایڈجسٹمنٹ اور اپٹما نے اسے ایکسپورٹ کیلئے فائدہ مند قرار دیا ہے جبکہ ڈالر کی قدر بڑھنے سے امپورٹرز کو بینکوں میں امپورٹ بلز کی ادائیگی پر لاکھوں روپے نقصان اٹھانا پڑا۔ اسٹیٹ بینک نے یقین دلایا کہ سٹے بازی کی صورت میں اسٹیٹ بینک روپے کی قدر مستحکم رکھنے کیلئے مارکیٹ میں مداخلت کرے گا۔ یاد رہے کہ جولائی 2017ء کو ایک دن میںڈالر 3.5روپے ریکارڈ اضافے سے انٹربینک میں ڈالر 104.75روپے سے بڑھ کر 108.25 روپے تک پہنچ گیا تھا جس کو اسٹیٹ بینک نے اپنے فوری ردعمل میں خوش آئند اور ڈالر کی طلب و رسد میکنزم کا ایک حصہ قرار دیا تھا لیکن اس وقت کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے روپے کی قدر گرنے پر نہایت سخت ایکشن لیتے ہوئے دوسرے دن اسلام آباد میں اسٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر اور بینکوں کے صدور کو روپے کی قدر دوبارہ پرانی سطح پر بحال کرنے کیلئے فوری اقدامات کرنے کا کہا جس کے بعد روپیہ دوبارہ اپنی گزشتہ سطح پر آگیا تھا۔ سابق وزیر خزانہ نے روپے کی قدر کو انا کا مسئلہ بنایا ہوا تھا، پہلے وہ ڈالر کی قدر 98 روپے اور بعد میں 104 اور 105 روپے کی قدر پر بضد تھے جس نے ملکی ایکسپورٹس کو متاثر کیا۔ آئین کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان ایک آزاد اور خود مختار ادارہ ہے جسے کسی مداخلت کے بغیر روپے اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قدر متعین کرنے کا اختیار حاصل ہے لیکن میرے نزدیک روپے کی قدر کو اسٹیٹ بینک کی مداخلت کے ذریعے برقرار رکھنا ایک مصنوعی عمل ہے جو زیادہ عرصے برقرار نہیں رہ سکتا اور کسی بھی وقت ڈالر کی طلب و رسد میں فرق کی صورت میں اپنی قدر کھوسکتا ہے جو ہمیں دوسری بار 12 دسمبر کو دیکھنے میں آیا۔ پاکستانی روپے کی قدر میں غیر یقینی صورتحال اور امریکی ڈالر کی قدر میں اضافے کے پیش نظر صارفین نے تقریباً 6 ارب ڈالر مارکیٹ سے خرید کر اپنے بینک اکائونٹس میں جمع کرائے۔ ڈالر میں سرمایہ کاری کا یہ رجحان یقیناً حوصلہ افزا نہیں ۔
میں روپے کی ڈی ویلیو ایشن کے خلاف ہوں کیونکہ ماضی میں یکدم ڈی ویلیو ایشن کے اچھے اثرات دیکھنے میں نہیں آئے۔ حکومت نے جب بھی پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی، ایکسپورٹرز نے اِس کا فائدہ بیرونی خریداروں کو ڈسکائونٹ کی شکل میں منتقل کردیا اور ملکی ایکسپورٹس میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ ایکسپورٹس میں اضافے کیلئے حکومت کو ڈی ویلیوایشن کے بجائے ایکسپورٹرز کی مقابلاتی سکت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ڈی ویلیو ایشن سے نہ صرف بیرونی قرضے مزید بڑھ جائیں گے۔ مثلاً پاکستانی روپے کی قدر میں صرف 5 روپے کم کرنے سے راتوں رات ہمارے بیرونی قرضوں میں 425 ارب روپے کا اضافہ ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ ڈالر کی قدر میں اضافے سے امپورٹ کی گئیں پیٹرولیم مصنوعات اور خام مال کی قیمتیں بڑھ جائیں گی جو افراط زر میں اضافے کا سبب بنیں گی اور ملک میں مہنگائی کا طوفان کھڑا ہوسکتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ روپے کی قدر کے تعین کو مارکیٹ قوتوں پر چھوڑ دیا جائے جو ہماری ایکسپورٹ میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔
آئی ایم ایف نے 1969ء میں اپنے ممبر ممالک کے بیرونی ذخائر کو سپورٹ کرنے کیلئے اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (SDRs)کا فنڈ قائم کیا تھا لیکن ممبر ممالک کو آئی ایم ایف قرضے کا پروگرام ختم ہونے کے بعد بھی آئی ایم ایف کا سفارشات پر عملدرآمد کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں آئی ایم ایف قرضوں کی ادائیگی کے بعد PPM کے تحت اپنے پروگرام کی مانیٹرنگ کرتا ہے اور کامیاب عملدرآمد کی صورت میں ممبر ملک کو کلین چٹ دے دی جاتی ہے جس کی بدولت اس کے SDRs کے حقوق برقرار رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے دیگر مالیاتی ادارے بھی اس ملک کو آسان شرائط پر قرضے دیتے ہیں۔آئی ایم ایف پروگرام کے خاتمے کے بعد آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کی مانیٹرنگ کیلئے گزشتہ ہفتے پاکستان اور آئی ایم ایف کے مذاکرات ہوئے جس میں ڈھائی ارب ڈالر کے سکوک اور یورو بانڈز کا اجرااور ڈالر کی قدر کو 110 روپے کی سطح پر لانے کا عندیہ دیا گیا۔ میٹنگ کا دوسرا دور وفاقی سیکریٹری خزانہ شاہد محمود اور پاکستان میں آئی ایم ایف کے سربراہ ہیرلڈ فنگر کی سربراہی میں ہوگا اور کامیاب مانیٹرنگ کی صورت میں پاکستان 4.3 اسپیشل ڈرائنگ رائٹس (SDRs) کا حقدار ہوجائے گا جس کو حکومت زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے استعمال کرسکتی ہے۔آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان کا تجارتی خسارہ 32 ارب ڈالر سے زیادہ ہوچکا ہے اور سی پیک کی امپورٹس کے مدنظر 2019ء تک ہمارا کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کے 3.4 فیصد تک پہنچ سکتا ہے۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے مستقبل میں بیرونی قرضوں کی ادائیگی، ایکسپورٹ، ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری اور زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کی وجہ سے پاکستانی روپیہ دبائو کا شکار رہیگا جس کیلئے حکومت کو روپے کی قدر کی سخت مانیٹرنگ کرنا ہوگی تاکہ سٹے باز ڈالر کے اتار چڑھائو سے ناجائز فائدہ نہ اٹھاسکیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں