آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اس بین الاقوامی ائیرلائن میں مجھ سمیت بہت سے افراد عمرے کی ادائیگی کے لئے احرام کی حالت میں موجود تھے، سب ہی بہت خوش لگ رہے تھے، کوئی دل ہی دل میں لبیک الھم لبیک کا ورد کررہا تھا تو کسی کو خانہ کعبہ اور دربارِ نبویؐ میں حاضری کی خوشی تھی تو کوئی آنکھیں بند کرکے خانہ کعبہ اور مسجد نبوی ﷺکے تصور میں گم تھا، کچھ ہی دیر میں طیارے نے کراچی سے اڑان بھری اورجدہ کی جانب رواں دواں ہوگیا، ماضی میں بھی کئی دفعہ عمرے کی سعادت حاصل ہوئی ہے لیکن ہر دفعہ کی طرح اس دفعہ بھی ڈر و خوف، خوشی و غمی کے تاثرات کے ساتھ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ اس سفر میں والدین بھی ہمراہ تھے، کہا جاتا ہے کہ خانہ کعبہ کو پہلی نظر میں دیکھتے ہی جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے جبکہ ہم جیسے گناہگاروں کے دل میں اتنی ساری خواہشات ہوتی ہیں کہ فیصلہ کرنا ہی مشکل لگتا ہے کہ کونسی خواہش اور ضرورت کو پہلی دعا کی شکل میں پیش کیا جائے اور جب خانہ کعبہ سامنے آتا ہے تو اس کی عظمت اور تعظیم سے ہی زباں گنگ ہو جاتی ہے اور تمام دعائیں دل میں ہی رہ جاتی ہیں اور انسان صرف خانہ کعبہ کو ہی تکتا رہتا ہے اور کبھی تو محبت اور عشق کے آنسو انسان کی آنکھوں سے رواں ہوجاتے ہیں تو کبھی شکر الحمد اللہ ہی نکل پاتا ہے اور بعض خوش نصیب دل کی بات بھی دعا کی شکل میں اپنے

پروردگار کے سامنے بیان کر ہی جاتے ہیں، جہاز جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا ویسے ویسے عملے کی جانب سے حدود حرم کا فاصلہ بھی بیان کیا جارہا تھا تاکہ عمرے کی نیت سے جانے والے مسلمان عمرے کی نیت کرسکیں، کچھ ہی دیر بعد جہاز حدود حرم میں داخل ہوگیا اور لوگوں نے اجتماعی اور کچھ نے انفرادی طور پر احرام اور عمرے کی نیت کرلی، اب سامنے اسکرین پر بار بار بڑے لفظوں میں انگریزی زبان میں آپ کو اپنی دنیا میں خوش آمدید لکھا آرہا تھا جو پورے عالم اسلام کیلئے خوبصورت جملہ تھا بلاشبہ مسلمانوں کے لئے خانہ کعبہ اور مسجد نبویؐ دونوں ہی جگہیں ان کی دنیا سے کم نہیں ہیں، ہر بادشاہ یا فقیر دونوں ہی یہاں آکر اپنے سر جھکا دینے میں فخر سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کو خوش آمدید کہنے کیلئے اس سے زیادہ خوبصورت جملہ ہو ہی نہیں سکتا تھا، وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور چار گھنٹے کی مسافت کے بعد ہمارا جہاز بھی جدہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر لینڈ کرچکا تھا، اب عمرے کے زائرین کو جہاز میں روک لیا گیا اور عام مسافروں کو پہلے اترنے کے احکامات جاری کئے گئے جبکہ پندرہ منٹ بعد عمرے کے زائرین کو حج ٹرمینل کی جانب جانے کے احکامات دیئے گئے، عموماً تاثر یہ ہی لیا جاتا ہے کہ عمرے زائرین بہت زیادہ رش کے سبب چار سے پانچ گھنٹے میں امیگریشن اور کسٹم سے فارغ ہوتے ہیں یہی بات جدہ ائیرپورٹ میں ریسیو کرنے کیلئے آنے والے ہمارے دوست رانا شوکت نے بھی بتائی جبکہ والد نے بھی بتائی لہٰذا ہم سعودی وقت کے مطابق ڈیڑھ بجے ائیرپورٹ پہنچے، انتہائی جدید اور طویل جہاں لاکھوں مسافروں کو ہینڈل کرنے اور سینکڑوں فلائٹوں کو بیک وقت آپریٹ کرنے کے بہترین انتظامات موجود ہیں اور حسن اتفاق یہ تھا کہ اگلے دس منٹ میں ہمیں امیگریشن سے خوش أمدید اور عمرہ مبارک کہتے ہوئے فارغ کردیا گیا تھا جبکہ اگلے دس منٹ میں کسٹم سے بھی فارغ کردیا گیا۔ یہ بات ہمارےدوست رانا شوکت کو معلوم ہوئی تو انھوں نے اسے معجزہ ہی قرار دے دیا، حج ٹرمینل پر نجی گاڑیوں کی آمد ممنوع ہے، صرف حج و عمرہ آپریٹرز کی بسیں یا سعودی شہریوں کی ٹیکسیاں ہی یہاں سے مسافروں کو لے جاسکتی ہیں لہٰذا ایک سعودی ٹیکسی کے ذریعے ائیرپورٹ کے اس حصے تک پہنچے جہاں ہمارے دوست ہمارے انتظار میں تھے۔ ان کے ساتھ ایک بار پھر مکہ کی جانب روانہ ہوئے۔ احرام کی حالت میں سب سے پہلے یہی خواہش تھی کہ جلد سے جلد عمرے کی سعادت حاصل کی جائے، ایک گھنٹے کی مسافت کے بعد مکہ مکرمہ پہنچے جس ہوٹل میں بکنگ کرائی تھی وہ بھی مسجد الحرام سے ایک منٹ کی مسافت پر تھا جبکہ ہوٹل کے کمرے سے بھی خانہ کعبہ کا چوبیس گھنٹے دیدار کیا جاسکتا تھا جو کسی نعمت سے کم نہیں تھا، سوا گھنٹے کے اندر ہم اپنے ہوٹل میں موجود تھے اور خانہ کعبہ کا پہلا نظارہ کمرے سے ہی کیا، سبحان اللہ کیا سہانا منظر تھا۔ چاروں طرف خوبصورت پہاڑوں میں مسجدالحرام کے خوبصورت میناروں کے درمیاں خانہ کعبہ انتہائی خوبصورت منظر پیش کررہا تھا، رات کے وقت سبز اور سفید روشنیوں میں خانہ کعبہ پر نور کی بارش امت مسلمہ کیلئے فخر، راحت اور سکون کا باعث نظر آرہی تھی، دل مچل رہا تھا کہ جلد سے جلد عمرے کی سعادت حاصل کی جائے لہٰذا اگلے چند منٹوں میں مسجدالحرام میں داخل ہوچکے تھے، مسجد میں جاری تعمیراتی کام کے سبب طواف کرنے کا حصہ کافی کم کردیا گیا ہے لہٰذا صرف عمرہ زائرین کو ہی طواف کیلئے خانہ کعبہ کے اطراف میں جانے کی اجازت دی جارہی تھی جبکہ جو لوگ صرف طواف کی نیت سے آتے ہیں انہیں دوسری منزل سے طواف کیلئے بھیجا جارہا تھا، طواف میں دنیا بھر سے آئے ہوئے لوگ، جن میں ہر رنگ اور ہر نسل کے لوگ شامل تھے، اپنے پروردگار سے مغفرت کے طلبگار تھے، اپنے پروردگار کی خوشنودی کے خواہش مند تھے، لبیک الھم لبیک کی صدائیں کانوں میں رس گھول رہی تھیں، خانہ کعبہ کے گرد سات چکر لگانے اور جاپان پاکستان سے لوگوں کی جانب سے دعائوں کی درخواستوں کو ان کے ناموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرنے اور اپنے اور اپنے اہل خانہ، پاکستان اور عالم اسلام، جاپان میں مقیم پاکستانی اور جاپانی مسلمانوں، کشمیر کی آزادی اور فلسطین کی آزادی کیلئے دعائیں مانگنے کے بعد سعی کی جانب سفر شروع کیا اور وہاں بھی صفا و مروہ کے درمیان سات چکر مکمل کرنے اور ضروری ارکان پورے کرنے کے بعد عمرہ مکمل ہوجاتا ہے، تمام عمرہ زائرین ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہوئے باہر آئے، یہاں سعودی انتظامیہ کی تعریف کئے بنا نہیں رہ سکتا جنہوں نے عمرہ زائرین کیلئے انتہائی بہترین انتظامات کر رکھے ہیں جبکہ مقامی پولیس کا اپنا ایک رعب و دبدبہ ہے جن کی ایک آواز سے ہی لوگ سہم جاتے ہیں اور کسی بھی طرح کے غلط کاموں سے باز رہتے ہیں، غرض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور سعودی انتظامیہ کی بدولت ہر سال لاکھوں مسلمان عمرہ اور حج کی سعادت حاصل کرپاتے ہیں۔ سعودی شہریوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انتہائی مہمان نواز ہوتے ہیں جبکہ یہ بھی مشہور ہے کہ مکہ مکرمہ میں مقیم سعودی مزاج کے کچھ تیز ہوتے ہیں جبکہ مدینہ منورہ کے مقامی سعودی انتہائی تحمل مزاج اور خوش اخلاق ہیں، سعودی شہریوں کی مہمان نوازی کے حوالے سے میرے ذاتی تجربات ہیں جو مہمان نوازی کی اعلیٰ ترین مثال کے طور پر پیش کئے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ یوتھ کونسل کے صدر ملک منظور نے بھی انتہائی محبت کا مظاہرہ کیا جبکہ رانا شوکت کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کی تاریخی اور خوبصورت زیارتوں کا بھی دورہ کیا جن میں احد کے پہاڑ اور شہدا کا قبرستان، وادی جن کا سفر، اونٹوں کی بستی، غزوہ خندق کا مقام، مساجد اور بھی بہت سی تاریخی جگہیں شامل ہیں۔ ان شاء اللہ اگلے کالم میں تفصیلات پیش کرنے کی کوشش کریں گے کہ شاید دنیا بھر سے ایک بھی مسلمان ہماری دی گئی معلومات سے متاثر ہوکر عمرہ یا حج کی نیت سے اللہ اور اسکے نبی ﷺکے درپر حاضری دینے چلا آتا ہے تو یہ بھی بہت بڑی بات ہوگی، اللہ تعالیٰ جن لوگوں نے دعائوں کیلئے درخواست کی ہے ان سب کی دعائوں کو قبول و منظور فرما ئے ، آمین ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں