آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ہفتے13دسمبر بروز بدھ ترکی کے تاریخی شہر استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں ’’مشرقی بیت المقدس‘‘ کو فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کی قراداد منظور کرلی گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھ دسمبر کے احمقانہ فیصلے جس میں ’’القدسٔ‘‘ کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا نے پورے عالمِ اسلام کو ہلا کر رکھ دیا اور صرف عالمِ اسلام ہی میں نہیں دنیا کے مختلف علاقوں میں صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے خلاف شدید ردِعمل سامنے آیا اور امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے کئے گئے جو آج بھی جاری ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے کے فوراً بعد ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے وقت ضائع کئے بغیر عالم اسلام کے رہنمائوں کو ٹیلی فون کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے اعلان کے چھ دنوں بعد ہی اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی اجلاس استنبول میں طلب کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ اس سربراہی اجلاس میں اگرچہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے زیادہ دلچسپی نہ لی لیکن دیگر اسلامی ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود نے شرکت کرتے ہوئے ’’بیت المقدس‘‘ کے ساتھ اپنی یکجہتی اور محبت کا اظہار کیا۔ استنبول سربراہی اجلاس جس میں ’’مشرقی بیت المقدس‘‘ کو فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔ اس

قراداد کو اب اقوام متحدہ میں بھی پیش کردیا گیا ہے اور اب اقوام متحدہ میں اسی ہفتے اس قرارداد پر غور کئے جانے کی توقع ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس قراداد کو منظور کروانا ممکن نہیں کیونکہ پانچ مستقل اراکین میں سے کسی ایک کے بھی ویٹو کرنے سے یہ قراداد ردی کی ٹوکری کا حصہ بن جاتی ہے۔ اس قراداد کو جنرل اسمبلی میں پیش کرنے کیلئے سلامتی کونسل کے15 رکن ممالک(پانچ مستقل اور دس عبوری) میں سے نو کی منظوری حاصل کرنے یا پھر اقوام متحدہ کے193 رکن ممالک میں سے97 کی منظوری حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم کے56 رکن ممالک اقوام متحدہ کے بھی رکن ممالک ہیں اور اب صرف مزید41 رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی ضرورت ہے اور اس طرح جنرل اسمبلی میں اس قراداد پرغور کیا جاسکتا ہے۔ اس وقت اقوام متحدہ میں پانچ مستقل رکن ممالک کے علاوہ دس عبوری رکن ممالک بولیویا، ایتھوپیا، اٹلی، جاپان، مصر، قازقستان، سینیگال، سویڈن، یوکرائین، اور یوراگوئے شامل ہیں۔ اس قرار داد کو جنرل اسمبلی سے منظور کرواتے ہوئے امریکہ کو دنیا میں تنہا کیا جاسکتا ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اپیل کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور صدر ٹرمپ کے فیصلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور اس خلاف ورزی پر عمل درآمد کو رکوانے کی اپیل کی ہے۔ اسرائیل نے 1967 میں بیت المقدس پر قبضہ کرلیا اور1980 میں اسے یک طرفہ طور پر اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کردیا لیکن اسرائیل کے اس اعلان کے بعد کسی بھی ملک نے القدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم نہ کیا اور اقوام متحدہ نے بھی اسرائیل کے اس فیصلے کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔ ترکی کی جانب سے اقوام متحدہ میں امریکہ کے صدر کے فیصلے کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد پر اقوام متحدہ میں اسرائیل کے مستقل نمائندے نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا ہےکیونکہ وہ امریکہ کے اس فیصلے کو دیگر ممالک سے بھی منوانا چاہتے ہیں لیکن جنرل اسمبلی میں اگر اسرائیل کے خلاف کوئی فیصلہ کیا گیا تو پھر اسرائیل کسی بھی صورت ’’بیت المقدس‘‘ کو اسرائیل کا دارالحکومت نہیں بنا سکے گا اور دنیا کا کوئی بھی ملک اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے ’’مشرقی بیت المقدس‘‘ منتقل نہیں کرسکے گا۔ اگرچہ اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے ہیڈکوارٹر برسلز کا دورہ کرتے ہوئے امریکی فیصلے کی حمایت کرنے کی کوشش کی لیکن ان کو منہ کی کھانی پڑی اور کسی ایک یورپی ملک نے بھی امریکہ کے فیصلے کی حمایت نہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی فیصلہ کروانے پر زور دیا۔
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے اسلامی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے بعد ترکی کے مختلف مقامات پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ جلد ہی اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس میں کھولنا چاہتے ہیں۔ وہ اس بات کا برملا کئی بار اظہار کرچکے ہیں کہ ’’اگر ہم کہتے ہیں کہ دنیا صرف پانچ ممالک ہی کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑی جاسکتی تو یہ صرف ترکی کے لئے نہیں بلکہ ایسا ہم اقوام متحدہ کے پلیٹ فورم پر موجود196 ممالک کی بہتری کے لئے کہہ رہے ہیں۔ ہماری یہ آواز وقت کے ساتھ ساتھ بلند ہوتی چلی جائے گی اور دنیا کے دیگر مظلوم ممالک بھی ہماری آواز کو اپنی آواز سمجھتے ہوئے ہمارا ساتھ دیں گے اور اقوام متحدہ کو ان پانچ ممالک کے نرغے سے آزاد کروا لیں گے۔‘‘ صدر ایردوان نے عالم اسلام کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا کہ اگر القدس مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گیا تو پھر مدینہ منورہ کا بھی تحفظ نہیں کیا جا سکتا۔ اب بیت المقدس کے ذریعے تمام تر مشرق وسطیٰ اور مسلم اُمہ کو ہدف بنانے والی ایک نئی چال چلی جا رہی ہے۔ اس معاملے میں ہم نے ابتدائی اقدامات گزشتہ بدھ کے روز اٹھائے تھے ان شاءاللہ ان کا دوام بھی آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ القدس کا مطلب استنبول، اسلام آباد، جکارتہ، مدینہ، قاہرہ، دمشق، بغداد ہے۔ القدس، مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ تمام تر مسلم اُمہ کی عزت و ناموس، وقا ر کا مسئلہ ہے۔ یہ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ ہم ان میں سے کسی ایک سے بھی کنارہ کشی اختیار نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ کے احکامات اور ہمارے آباؤاجداد کی امانت کا تحفظ کرنے کے لئے ہمیں جو کچھ بھی کرنا پڑے گا ضرور کریں گے۔ عالمی نظام میں مظلوم مسلمانوں کی کوئی دادرسی کی گنجائش نہیں ہے۔ عالمی برادری فلسطینیوں، کشمیریوں، قبرصی ترکوں، روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ ہمیں اس ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ترکی کی وزارتِ خارجہ کو اپنی ویب سائٹ پر ’’بیت المقدس‘‘ کو فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر پیش کئے جانے سے متعلق جو احکامات جاری کئے تھے ان پر عملدرآمد بھی شروع ہو چکا ہے اور اس وقت ترکی کی وزارتِ خارجہ ویب سائٹ دنیا کی پہلی ویب سائٹ ہے جس میں بیت المقدس فلسطین کے دارالحکومت کے طور پر دکھایا گیا ہے۔
صدر ایردوان نے کہا ہے کہ ’’اس وقت بیت المقدس پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے لیکن وہ وقت دور نہیں جب ہم بیت المقدس کو آزاد کرکے اپنا سفارت خانہ وہاں کھولیں گے۔‘‘ اس وقت ترکی عالمِ اسلام کا واحد ملک ہے جس نے اپنا قونصل خانہ ’’بیت القدس‘‘ میں کھول رکھا ہے اور صدر ایردوان نے کہا ہے وہ قونصل جنرل کو سفارت خانے کا روپ دینے کی تیاریوں کا آغاز کرچکے ہیں۔ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات موجود ہیں اور اس کا سفارت خانہ دیگر ممالک کے سفارت خانوں کی طرح تل ابیب میں فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ صدر ایردوان نے ایک بار پھر امریکہ کے صدر ٹرمپ کو متنبہ کرتے ہوئے اپنا فیصلہ واپس لینے اور مزید کوئی اقدام اٹھانے سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا کہ اگر امریکہ نے اس سلسلے میں کوئی نیا قدم اٹھایا تو اسے اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں