آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے دنوں رحیم یار خاں گیا تو اپنا بچپن بہت یاد آیا جب شہر سے گنّے سے لدی بیل گاڑیاں گزرتی تھیں تو لڑکے پیچھے پیچھے دوڑ کر گنّے کھینچا کرتے تھے۔ کبھی کبھی بیل گاڑی والے کا ایک مددگارپیچھے پیچھے چلا کرتا اور گنّے کھینچنے والے لڑکوں کو چھڑی سے ڈرایا کرتا تھا۔ ویسے وہ چھڑی بھی چھوٹا گنّا ہی ہوا کرتی تھی۔ مگر میں نے جو منظر رحیم یار خاں اور صادق آباد کے راستے میں دیکھاوہ ذہن میں پھانس بن کر چبھ رہا ہے۔ پورے پورے سال گنّے کی فصل کی دیکھ بھال کر نے والا کسان اب جو اپنی مشقّت کا صلہ لینے چلا ہے تو میں تصور کر سکتا ہوں کہ شوگر مل کے دروازے پر اسے کس حقارت کا سامنا ہوگا ۔ اسے کئی کئی دن انتظار کرایا جائے گا یہاں تک کہ اس کے گنّے کا رس بھاپ بن کر اڑے گااور اس کا وزن کم ہو جائے گا۔ پھر اس سے بھاؤ تاؤ کیا جائے گا۔ کئی برس ہوئے کسی با اختیار شخص نے گنّے کا بھاؤ مقرر کیا تھاجس میں ایک پیسے کا بھی اضافہ نہیں ہوا ہے۔مقصد یہ ہے کہ کسی کی تجوری بھر ے اور کوئی خوش حالی کو ترسے۔ میں نے گنّے سے لدی سینکڑوں گاڑیاں دیکھیں جو شوگر ملوں کے آگے قطار بنا کر خدا جانے کب سے کھڑی اپنی باری کا انتظار کررہی تھیں۔ ان گاڑی بانوں نے وہیں ڈیرے دال لئے تھے ، وہیں اپنے کھانے پکا رہے تھے اور وہیں سورہے تھے۔ میں جہاں تک چلا، یہی منظر میرے

ساتھ چلا۔ بس ایک منظر ایسا تھا جس نے دل میں امید کا چھوٹا سا دیا روشن کیا۔ صبح کا وقت تھا اور چھوٹے چھوٹے بچّے اپنے اسکولوں کی طرف جارہے تھے۔ عجب منظر تھا۔ سارے بچّے چل نہیں رہے تھے، دوڑ رہے تھے ۔ اکثر ننگے پاؤں تھے اور ان کے پاؤں دھول میں اٹے ہوئے تھے۔مجھے ان پر پیار آیا ۔ ان کے ماں باپ یا تو کہیں گنّے کی فصل کاٹ رہے تھے یا ان کی مائیں گنّے کو سمیٹ کر اور گٹھڑیاں باندھ کر گاڑیوں پر لاد رہی تھیں۔ کچھ لوگ گُڑ بنا رہے تھے اور سڑک کے کنارے گڑ بیچ رہے تھے۔ اس وقت مجھے گڑ سے بننے والی تمام چیزیں یاد آئیں اور گڑ کی چائے پینے کو جی چاہا۔ راہ میں ایک ریسٹ ہاؤس میں ٹھہرے تو وہاں لوگوں نے گڑ کی چائے پلائی۔ رحیم یار خاں پہنچے تو کھانے کو گڑ کے چاول ملے۔مجھے رساول یاد آئے یعنی رس اور چاول جو عام طور پر گاؤں دیہات میں مٹّی کی ہانڈیوں میں پکائے جاتے تھے۔ اس میں کترے ہوئے ناریل اور کشمش پڑی ہوتی تھی ۔ اسے پکا کر اور ہانڈی کے منہ پر کپڑا باند ھ کر کھلے آسمان تلے رکھ دیا جاتا تھاتاکہ اس پر شبنم گر ے۔ اگلی صبح وہ ہانڈیاں تحفے کے طور پر شہروں کو بھیجی جاتی تھیں۔ اسی طرح گاؤں کا تازہ گڑ بھی آتا تھا۔ شہر کے نوجوان گرم گڑکھانے بائیسکل پر بیٹھ کر دیہات کو جاتے تھے اور واپسی میں گڑکے لڈو یا بھیلی لے کر آیا کرتے تھے۔ روڑکی کے علاقے میں ایک خاص قسم کا ملائم گنّا ہوا کرتا تھا جسے بچّے دانتوں سے چھیل کر کھایا کرتے تھے۔ اس پر ماں باپ نہال ہوا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اس سے بچّوں کے دانت اور مسوڑھے توانا ہوتے ہیں۔اسی گنّے کے رس سے ملائم گڑ بنا کرتا تھا جسے اندرکی کہتے تھے۔ یہ جمے ہوئے گڑ کی دبیز پپڑی ہوا کرتی تھی جسے چاقو سے کھرچ کر اور اس میں گاؤں کا اصلی گھی ملا کر گرم پھلکے سے کھایا کرتے تھے۔ اس پر یاد آیا کہ مونگ پھلی یا بھنے ہوئے چنے کے ساتھ گڑ پپڑی بناتے تھے ۔ کچھ لوگ اس میں خشک میوے ملاتے تھے اور شوق سے کھاتے تھے۔ ہمارے پشاور کے احباب وہاں کا گڑ بھیجا کرتے تھے جس میں سونٹھ یا اسی قسم کی دوسری اشیا ملی ہوتی تھیں۔وہیں گڑ کے لڈو بنا کرتے تھے۔ یہی موسم ہوتا تھا جب وہ ریوڑی بنتی تھی جسے اہل لکھنئو کھٹیاں کہتے تھے۔ لکھنئو کی کھٹیوں میں گلاب اور اصلی گھی کا ذائقہ شامل ہوتا تھا۔ اسی گڑ کی گزک بنتی ہے جس میں اب کھویا بھی ملانے لگے ہیں ۔ گزک شکر کی بھی ہوتی ہے مگر اس میں وہ گڑ کا سوندھا ذائقہ کہاں۔پچھلے سال میں نے ہندوستان میں اپنے دوستوں سے فرمائش کی کہ گڑ کی بھیلی کی تصویریں بھیجیں۔ انہوں نے بتایا کہ اب بھیلی نہیں بناتے، چھوٹے بڑے لڈّو بناتے ہیں یا موٹی تہوں کی شکل میں گڑ کو جماتے ہیں۔ مجھے یاد ہے چند برس اُدھر میں ہندوستان کی سڑکوں پر سفر کر رہا تھا تو دیکھا کہ کسان اپنا گنّا شوگر مل لے جانے کی بجائے گڑ کے منوں لڈّو لے جارہے تھے۔ بھارت میں شاید کارخانے اب گنّا پیلنے کی بجائے کسان سے گڑ خرید کر اس سے شکر بنانے لگے ہیں۔وہاں کھیتی باڑی کی ترقی کے لئے بہت کام ہورہے ہیں۔ ریسرچ ہورہی ہے اور زمین سے زیادہ سے زیادہ پیداوار لینے کے لئے دن رات کوشش ہورہی ہے۔یوں سمجھئے کہ پاکستان میں ہر ایکڑ میں چھ سو چالیس من سے کم گنّا پیدا ہورہا ہے جب کہ بھارت سمیت دوسرے ممالک ایک ایکڑ زمین سے اٹھارہ سو من سے زیادہ گنّا اگا لیتے ہیں۔ پاکستان میں چند کاشت کاروں کے بارے میں سنا ہے کہ ہر ایکڑ میں چھبیس سو من تک فصل پیدا کرلیتے ہیں لیکن ایسے کاشت کاروں کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے جدید طریقے اپنائے ہیں اور اپنے بڑوں کے قدیم طور ترک کردئیے ہیں ۔
اپنے اس سفر کے دوران راہ میں جو عجب ٹھکانا پڑا وہ بڑا ہی پرانا قصبہ ڈاہرکی ہے۔مجھے کیا خبر تھی کہ وہاں اینگرو کھاد بنانے والوں نے ایک نئی دنیا بسا لی ہے۔ وہاں بھاری صنعتیں لگ گئی ہیں۔ گیس دریافت ہوگئی ہے اور اینگرو فرٹیلائزر نے علاقے کے عام لوگوں کی بھلائی کے لئے بڑے کام جاری کئے ہوئے ہیں۔ راجا داہر کی اولاد کے اس علاقے اور محمد بن قاسم کی اس گزرگاہ کو دیکھنے کبھی جاؤں گا تواس کا حال تفصیل سے کہوں گا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں دنیا سکڑ گئی ہے۔ میرا خیال ہے دنیا پھیل گئی اور کشادہ ہوگئی ہے۔ ہر موڑ پر حیرت کھڑی ہے۔ تجسس اصرار کئے جاتا ہے کہ چلو اور دیکھو۔ یہی نہیں، جو کچھ دیکھو دنیا کو اس کا احوال بھی سناؤ۔ اسی ڈاہرکی سے ذرا دور ایک ایسا اسکول دیکھا جہاں گاؤں دیہات کے ساڑھے چار سو بچے تعلیم پارہے ہیں۔ یہی نہیں ۔ فیس کے نام پر ان سے ایک پیسہ بھی نہیں لیا جاتا۔ یہ سب کس کا کارنامہ ہے۔ کیا فرشتے زمین پر اتر آئے ہیں۔ کیا ملک کے دوسرے تاریک گوشوں میں دیئے جلانے والے کچھ لوگ اور بھی ہیں؟ ایک ایک کرکے وہ سب دیئے اپنی تحریر کی منڈیروں پر روشن کروں گا۔ فیصلے ہوں تو ایسے ہوں۔ ہے کہ نہیں؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں