آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جمہوری تسلسل کو پچھلے کچھ عرصے سے جن خطرات کا سامنا تھا وہ کافی حد تک چھٹ چکے ہیں۔اس میں سب سے اہم اقدام سینیٹ سے حلقہ بندیوں کے متعلق ترمیمی بل کی منظوری ہے اور دوسراقدم آرمی چیف کا سینٹ کے پورے ارکان کے بند کمرے کے اجلاس کے روبرو ان تمام خدشات پر اپنا اظہار خیال کرنا ہے جو کافی دنوں سے میڈیا کی زینت بنے ہوئے تھے۔مزید آرمی چیف نے کہا ہے کہ اگر فیض آباد دھرنے میں فوج کا ہاتھ ثابت ہو جائے تووہ مستعفی ہوجائیں گے اور یہ کہ پاک فوج کی آئین سے ماورا کسی کردار کی خواہش نہیں۔انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کردیا کہ پاکستان میں صدارتی نظام کی کوئی ضرورت ہے۔پارلیمنٹ ایک بالادست ادارہ ہے اور وہ دفاعی اور خارجی پالیسی بنائے ، فوج اس پر عمل درآمد کرے گی۔البتہ انہوں نے یہ ضرورکہا ہے کہ سیاستدان فوج کو مداخلت کا موقع نہ دیں۔
یورپ اور امریکہ کے ہاں بھی موجودہ جمہوریت اچانک ظہور پذیر نہیں ہوئی بلکہ وہ اپنے پورے ارتقائی عمل سے گزر کر یہاں پہنچی ہے۔وہاں بھی عوام کو فوراحق رائے دہی نہیں دیا گیا مثلا عورتوں کوووٹ سے محروم رکھنے کے ساتھ ساتھ غلاموں اور سیاہ فاموں کو بھی برابری کے حقوق حاصل نہیں تھے ۔مگر جب جمہوری عمل اپنے تجربے کی بھٹی سے گزر رہا تھا تو بہت ساری فرسودہ روایات اس دوران روبہ زوال ہوتی چلی گئیںاور یوں

وقت کے ساتھ ایک بہتر سے بہترین جمہوریت نکھر کر سامنے آتی رہی ۔لیکن ان ممالک نے جمہوری عمل میں کوئی تعطل نہیں آنے دیا اور اس کے تسلسل کو جاری رکھنے اور اس کی آبیاری کے لیے جانیں بھی قربان کیں۔ امریکہ کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں جمہوری ادارے تقریبا دوسو سے زیادہ سالوں سے مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے آج ایک بہتر جمہوریت کی شکل اختیار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔50ملکوں کا ایک وفاق میں ڈھلنا،حکومت کے تینوں ستونوں یعنی عدلیہ،انتظامیہ اور مقننہ کا اپنے اپنے مدار میں کام کرنا اور کسی دوسرے ادارے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنا امریکی آئین کے بنیادی ڈھانچے کے اہم نکات ہیں۔اس200سالہ تاریخ میں غلامی سے نجات اور سیاہ فام کے حقوق کی جدوجہد بھی اسی جمہوری عمل کا حصہ رہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ کا صدر منتخب ہو جانا اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ ابھی ارتقائی عمل کو مزید کافی عرصہ ایک تسلسل کی ضرورت ہے۔1951ء میں کوریا کے ساتھ جنگ میں جو امریکہ جیت چکا تھا جب ایک امریکی جنرل میک ۔آرتھر نے چین پر حملے کی خواہش ظاہر کی جو کہ صدر ٹرومن نے اس بنا پر مسترد کر دی کہ اس سے روس کا جنگ میں مداخلت کا خدشہ ہے ۔اس پر جب جنرل میک ۔آرتھرنے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو فوری طور پرصدرٹرومن نے اسے برطرف کر دیا۔یاد رہے کہ اس وقت تک کوریا کی جنگ جیتنے کی وجہ سے امریکی عوام میںجنرل میک۔آرتھر ایک ہیر و کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ہمیں بھی اپنے اداروں کے اندر ایسی مثالیں قائم کرنا ہونگی کیونکہ جب تک ہم ان روایات کی پاسداری نہیں کرینگے تب تک جمہوریت کا ارتقاایک خواب ہی رہیگا۔ کچھ ہی عرصہ پہلے برطانیہ میں ایک حکومت نے صرف ایک ممبر کی برتری سے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی حالانکہ اس سلسلے میں برطانیہ میں کوئی باقاعدہ آئین نہیں ہے لیکن سیاسی کلچر اور سیاسی روایات اتنی مضبوط ہیں کہ پورا سماج ان جمہوری اقدار کی نگہبانی کرتاہے۔اور اس کی وجہ یورپین عوام کا جمہوری اداروں پر لامتناہی یقین بھی ہے۔
پاکستان میں ستر سال گزرنے کے باوجود کسی بھی ادارے نے نہ ہی اپنی اقدا ر بنائی ہیں اور نہ ہی دوسرے اداروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت بندکی ہے۔قائداعظم کی اسٹاف کالج کوئٹہ میں کی گئی تقریر کا متن اکثر و بیشتر شائع ہوتا رہتا ہے جو انہوں نے1948ء میں فوجی افسران سے کی تھی۔جس میں انہوں نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ ملکی فوج ایک قانونی حکومت کے احکامات کے ماتحت کام کرے گی۔مگر بدقسمتی سے اول روز سے ہی ہمارے سابق فوجی سربراہان نے جناح کی اس تقریر کے خلاف کام کیا۔سب سے پہلے 7اکتوبر 1958ء کو ایوب خان نے مارشل لا نافذ کرکے جناح کی سوچ کے منافی کام کیا۔پھر یحییٰ خان نے انہی کی پیروی کی ۔
یحییٰ خان نے ملک میں الیکشن کرانے کا وعدہ توکیا مگر الیکشن کے بعد اس کے نتائج پر عمل نہ کرتے ہوئے اکثریتی جماعت کو حق دینے سے انکار کردیا ۔یوں ملک تاریخ کے بدترین سانحے سے گزرا جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ضیاالحق نے 5جولائی 1977ء کو جبرا قانونی حکومت ختم کرکے مارشل لا کا نفاذ کیا ۔اس نظام کی بدولت ملک میں کلاشنکوف کلچر اور مذہبی انتہا پسندی عام ہوئی جس سے معاشرہ مزید پستی کا شکار ہو گیا۔ضیاالحق کے اس سماج کو دیئے گئے مضمرات تھمے نہیں تھے کہ مشرف نے 1999ء میں اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
اپنے اقتدار کے آغاز پر طالبان کی حمایت کی مگر پھر امریکہ کے اتحاد کی شکل میں ان کے مخالف ہو گئے اور یوں انہوں نے کابل کی لڑائی کو کراچی تک پہنچا دیا۔بلوچستان کے اندر بگٹی کو قتل کراکر وہاں کے علیحدگی پسندوں کے نظریات کے پرچار کے لئے راہ ہموار کی ۔جس کا خمیازہ بلوچستان کے عوام آج بھی بھگت رہے ہیں۔ان حالات میں جنرل قمر باجوہ کا بیان نہ صرف حوصلہ افزا ہے بلکہ امید کی ایک نئی کرن ہے۔معاشرے کے ہر مبصر کی طرف سے آرمی چیف کا سینٹ میں بیان اور سینیٹروں کے سوالوں کے جواب دینے کے عمل کو سراہا گیا ہے لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ بیانات سے زیادہ عملی طور پربھی ان اقدامات کا نظر آنا نہایت ضروری ہے۔ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ قائد اعظم کے فرمان کو اس کی حقیقی روح کے ساتھ نافذ کیا جائے تاکہ ایک قانونی حکومت جسے عوام نے منتخب کیا ہو تمام ادارے اس کے ماتحت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے پابند ہوں۔خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی کا حق عوام کے نمائندوں کے پاس نہایت ضروری ہے۔اس میں کوئی شک نہیں پاکستانی سماج ہر میدان میں سماجی تنزلی کا شکار ہے ۔ہمارے سیاست دان اور تمام ریاستی ادارے اسی تنزلی کے آئینہ دار ہیں۔لیکن یہ امر بھی ایک حقیقت ہے کہ ایسے حالات سے ایک حقیقی جمہوری عمل ہی نبرد آزما ہوسکتا ہے جو قدرتی طور پر اپنے ارتقائی عمل سے ظہور پذیر ہو ۔
یوںپاکستانی عوام بھی اس صبح کی نوید سن سکیںگے جس کی امید ساحرؔ نے کچھ یوں دلائی
جب دکھ کے بادل پگھلیں گے
جب سکھ کا ساغر چھلکے گا
جب دھرتی نغمہ گائے گی
جب امبر جھوم کے ناچے گا
وہ صبح کبھی تو آئے گی
وہ صبح کبھی تو آئے گی

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں