آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ارکان پارلیمنٹ خصوصا سینیٹرز کی خوشی دیدنی تھی کیونکہ پارلیمان کی بالا دستی کے دعوئوں کی حقیقت جاننے والوں کیلئے عسکری حکام راحت کا ساماں پیدا کرنے کیلئے عوام کے نمائندہ ادارے میں تشریف لائے تھے۔ اس غیرمعمولی اقدام کا سہرا یقینا چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کے سر جاتا ہے لیکن تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اس لئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کی ٹیم بھی خراج تحسین کی مستحق ہے۔ یہاں مجھے صحافت کے طالب علموں کو خبر کی پڑھائی جانے والی عمومی تعریف یادآتی ہے جس کے مطابق اگر جانور انسان کو کاٹ لے تو یہ معمول کی بات ہے لیکن اگر انسان کسی جانور کو کاٹ لے تو یہ خبر ہے۔ آئین کی بالا دستی والے معاشروں میں عسکری حکام کا پارلیمانی کمیٹیوں کے سامنے پیش ہونا اور قومی سلامتی سمیت حساس ایشوز پر بریفنگ دینا معمول کی بات ہے لیکن مخصوص تاریخ کے حامل پاکستان جیسے ممالک میں عسکری سربراہ کا پارلیمان میں آنا اچھنبے کی بات تصور کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عسکری حکام کو اپنے سامنے پاکر چیئرمین سینیٹ کے جوش کا یہ عالم تھا کہ ایوان بالا کی ہول کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے شروع کے پندرہ سے بیس منٹ انہیں اپنی آواز کے زیرو بم پر قابو نہ تھا اور اس غیر معمولی تبدیلی کو اجلاس میں شریک ان کے بعض ساتھیوں نے بھی محسوس

کیا۔ چیئرمین سینیٹ شاید اس لئے بھی زیادہ ہی پرجوش تھے کیوںکہ وہ ریاست کے اہم اداروں کے درمیان ’’گرینڈ ڈائیلاگ ‘‘ کی تجویز دے چکے تھے لیکن اسے زیادہ پذیرائی نہ ملنے کے بعد یہ تاریخی موقع بھی ان کی دلجوئی کیلئے کافی تھا۔ آئین اور جمہوریت کی بالا دستی کا دم بھرنے والے جیالےنے اسی خوش فہمی میں ایوان بالا کو جاتی سیڑھیوں کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے آرمی چیف کی توجہ عین سامنے بنائی گئی اس تنگ سی دستورگلی کی طرف دلانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی نشانیوں سے عبارت اس عجوبے پر مسکراتے ہوئے اچٹتی نگاہ ڈالنے پر ہی اکتفا کیا۔ سال 2011 کے مقابلے میں عسکری حکام کی پارلیمان یاترا اس حوالے سے بالکل مختلف نوعیت کی تھی کہ تب وہ پاکستانی سرزمین پریکطرفہ امریکی حملے سے اٹھائی جانے والی ہزیمت کا ایک کمزور وکٹ پر دفاع کرنے آئے تھے لیکن اس بار وہ جمہوریت پسند وں کو وہ طاقت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرانے آئے تھے جس کے کرشمے وہ گاہے بہ گاہے دیکھتے رہتے ہیں۔ گزشتہ تقریبا تیرہ ماہ کی عسکری قیادت کے دوران آرمی چیف کی طرف سے جمہوریت کی مکمل حمایت کی یقین دہانیاں تو متعدد بار کرائی جا چکی ہیں لیکن حالیہ عزم اس حوالے سے نہایت پختہ اور غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کیوںکہ یہ اس ادارے کی حدود میں کھڑے ہو کر بقول مشاہد حسین سید اس واضح انداز میں کرایا گیا جسے عوام کا نمائندہ ادارہ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی جمہوریت کی علامت اس ادارے کے تقدس کا احساس ہی تھا کہ آرمی چیف نے ایوان بالا میں داخل ہونے سے پہلے سر پرکیپ پہننا ضروری سمجھا۔ اس عزت افزائی کا جواب قانون دانوں نے بھی اتنے کھلے دل سے دیا کہ ہر کسی نے سوال کرنے سے پہلے طویل تمہید اپنے مہمانوں کی تعریف و توصیف کیلئے باندھی۔اس دوڑ میں سبقت لے جانے والوں کی قطار اتنی طویل تھی کہ چیئرمین سینیٹ کو مجبورا پارلیمانی رہنماؤں اور صنفی بنیادوں پہ امتیاز برتنا پڑا جس کے باعث رحمان ملک جیسے تزویراتی گہرائی کا علم رکھنے والے سینیٹرز کو دل کا بوجھ ہلکا کرنے کیلئے میڈیا کا سہارا لینا پڑا تاہم وہاں بھی لینے کے دینے پڑ گئے اور چیئرمین سینیٹ نے اندر کی باتیں سرعام کرنیو الوں کی نشان دہی کیلئے انکوائری شروع کرا دی۔ چیئرمین سینیٹ کے اس سوموٹو پر ان کیمرا اجلاس کے بعد میڈیا کے سامنے دانشوری بکھیرنے والے مرد سینیٹرز بھی اب صفائیاں پیش کر رہے ہیں کہ انہیں تو میڈیا نمائندوں نے ورغلا کر کیمرے کے سامنے کھڑا کر دیا تھا۔ ان کیمرا اجلاس کی تفصیلات تو کافی حد تک سامنے آ چکی ہیں جن کی بنیادپر جمہوریت پسند یہ اطمینان ظاہر کر رہے ہیں کہ چونکہ اب اعلیٰ عسکری قیادت کی طرف سے سارے خدشات اور تحفظات ختم کر دئیے گئے ہیں اس لئے جمہوریت کے لئے’ ستے خیراں ‘ہی ہے۔ یاداشت کی بحالی کیلئے عرض کئے دیتا ہوں کہ نومبر 2016 میں عسکری کمان سنبھالنے کے بعد جوانوں اور افسران سے فروری 2017 میں پہلے باضابطہ خطاب کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واشگاف الفاظ میں باور کرا دیا تھا کہ فوج کا کام کسی طور حکومت کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا کردار آئین پاکستان کے مطابق رہنا چاہئے، انہوں نے یہاں تک واضح کیا تھا کہ فوج اور سویلین حکومت کے درمیان مسابقت کا تاثر ملکی مفاد میں نہیں ہے۔ اس موقع پرجنرل باجوہ نے آرمی افسران کو امریکہ یونیورسٹی کے سیاسیات اوربین الاقوامی تعلقات عامہ کے پروفیسر اسٹیون ولکنسن کی کتاب ’آرمی اینڈ نیشن‘ کا مطالعہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔
تین سو صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مصنف نے بتایا ہے کہ بھارت میں فوج سیاست میں کیوں مداخلت نہیں کرتی اور ہمارے ہمسایہ لیکن اس حریف ملک میں جمہوریت کی کامیابی کی وجوہات کیا ہیں۔ آرمی چیف کی طرف سے اس کتاب کے مطالعے کی ہدایت دینے کا مقصد یقینا ایک تقابلی جائزہ لے کر ریاستی ادارے کو اس کردار تک محدود رکھنے کی ترغیب دینا تھا جو آئین پاکستان میں واضح درج ہے۔ اس کتاب میں ولکنسن نے ان اقدامات کا بھی تفصیل سے احاطہ کیا ہے جو ہمسایہ ملک میں سول ملٹری توازن کو برقرار رکھنے کیلئے کئے گئے ہیں اور جن کی بدولت جمہوریت کا سفر بغیر کسی تعطل کے کامیابی سے جاری ہے۔ بصد ادب گزارش ہے کہ اتنی ضخیم کتاب کے مطالعے کی ہدایت کی بجائے جنرل باجوہ افسروں اور جوانوں کو بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح(جن کا آج ہم یوم پیدائش منا رہے ہیں) کی 14 جون 1948 کو اسٹاف کالج کوئٹہ میں کی گئی صرف ایک تقریر پڑھنے کا حکم دے دیتے جس میں آج بھی ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ بدیسی زبان میں کی گئی اس تقریر میں قائد اعظم فرماتے ہیں کہ ’ چند اعلی افسران سے گفتگو کے دوران مجھ پر انکشاف ہوا کہ وہ اس حلف کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں جو افواج پاکستان سے لیا جاتا ہے۔ یہ کہہ کر قائد اعظم نے اس حلف کے الفاظ بھی من و عن دہرائے کہ ’ میں اللہ تعالی کو حاضر ناظر جان کر حلف اٹھاتا ہوں کہ میں آئین اور مملکت پاکستان سے وفادار رہوں گا، کبھی اس کی خلاف ورزی نہیں کروں گا۔
بابائے قوم نے قوم کے محافظوں کو مزید تلقین کی کہ یہ حلف محض ایک عبارت(فارم) ہے لیکن انتہائی اہم یہ ہے کہ آپ اس کی حقیقی روح کے مطابق پورے دل سے اس پر عمل پیرا ہوں‘۔ ایک طرف تو یہ امر خوش آئند ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایوان بالا میں مخصوص سوالات کے ذریعے دل کو تسلی دینے کی کوشش کرنیو الوں کے سامنے عین وہی عزم دہرایا جو اس ملک کا تحفہ دینے والے عظیم رہنما محمد علی جناح سات دہائیاں قبل توقع کر رہے تھے لیکن دوسری طرف یہ بھی مقام فکر ہے کہ 70 سال بعد بھی دائرے کا سفر کیوں جاری ہے۔ کیا وجہ ہے کہ جمہوریت کا تحفظ آج بھی سپہ سالار کی یقین دہانی کا مرہون منت ہے ،ریاستی ادارے کے سربراہ کے منہ سے نکلے چند الفاظ کیوں جمہورت کے تسلسل کی ضمانت تصور کئے جاتے ہیں۔ قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونیکی نوید سننے کیلئے راولپنڈی کی طرف کیوں کان لگائے جاتے ہیں۔ عام انتخابات کا بروقت انعقاد مخصوص پیرائے میں دئیے گئے پیغام سے کیوں مشروط ہے اور آج بھی عسکری حکام کی پارلیمان میں آمد اتنی غیر معمولی خبر کیوں ہے کہ جس پر ارکان پارلیمنٹ سمیت پوری قوم خوشی سے بغلیں بجائے؟ آئیے یوم قائد پرہم سب عہد کریں کہ آئندہ اس آئین کی پاسداری کو یقینی بنانے کیلئے ہر حیثیت میں اپنا کردار ادا کریں گے جس کی خلاف ورزی ہی ایسے سوالات کو جنم دینے کا سبب بنتی ہے۔ قوم کا اپنے قائد کو ان کی سالگرہ کا اس سے خوبصورت تحفہ شاید اور کوئی نہیں ہو سکتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں