آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ سے پیوستہ
پچھلے کالم میں اس سلسلے کا پہلا حصّہ آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا اور آپ کو ٹرمپ کے اشتعال انگیز اقدام (امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنا) اور اس کے نتیجہ میں ترکی میں صدر اردو ان کی مسلم سربراہان کی کانفرنس پر روشنی ڈالی تھی اورفلسطین کے بارے میں چند حقائق بیان کئے تھے کہ کس طرح مغربی ممالک نے عیّاری سے عربوں کو دھوکہ دیکر اسرائیل قائم کیا تھااور پھر اس کی مدد کرکے عربوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔ صلیبی جنگوں سے لیکر آج تک وہاں سکون نہیں ہوا اور جس قدر خون وہاں بہایا گیا ہے وہ نہایت تکلیف دہ ہے۔ آپ کو علم ہے کہ جب روس کے زیر قبضہ ممالک آزاد ہوئے تو برطانوی وزیر اعظم مارگریٹ تھیچر نے کھلے عام کہا تھا کہ اب ہم نے کمیونسٹوں کو شکست دیدی ہے اور اب صرف مسلمان ہمارے دشمن رہ گئے ہیں۔ اس کے بعد صدر جارج بش نے کہا تھا کہ یہ (مسلمانوں کیخلاف جنگ) صلیبی جنگوں کا سلسلہ ہے اور ہم اسی بنیاد پر انکے خلاف لڑ رہے ہیں۔ مسلمانوں کے دلوں، آنکھوں اور دماغوں کو اللہ تعالیٰ نے بند کردیا ہے ورنہ یہ حالت نہ ہوتی۔ دنیا میں قدرتی وسائل کی کثرت، مال و دولت کی بہتات اور بس صرف عیاشی ، عیاشی۔ ان کو کبھی یہ خیال نہیں آتا کہ حضرت عمرؓ اور حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کی سلطنتیں کتنی بڑی تھیں، غیرمسلم ان کے

نام سے کانپتے تھے مگر ان کا طرز زندگی آجکل کے ایک عام ملازم پیشہ سے بہتر نہ تھا۔ وہ اللہ کے حضور سرخرو ہونگے اور ہم ذلیل و خوار۔
فلسطین کی کہانی کم و بیش تمام پڑھے لکھے لوگوں کو معلوم ہے عام اطلاع کیلئے یہ عرض کرونگا کہ تاریخ کہتی ہے کہ چند ہزار سال پیشتر حضرت یعقوبؑ کی اولاد سے اسرائیلیوں کا حسب نسب ملتا ہے۔ تاریخ کے مطابق حضرت یعقوبؑ کو اسرائیل کا نام دے دیا گیا تھا۔ یہ لوگ کنعان (Kanaan) میں بس گئے تھے ۔ اسی بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت سلیمان ؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر پیدا ہوئے تھے۔ بعد میں بابل کے حکمراں بخت نصر نے ان کو تباہ کردیا اور پھر رومیوں نے فلسطین پر قبضہ کرکے یہودیوں پر مظالم ڈھائے۔ یہودیوں کو تمام عیسائی ممالک میں حقارت سے دیکھا جاتا تھا کیوں کہ ان پر الزام تھا کہ انھوں نے حضرت عیسیٰ ؑکو صلیب پر لٹکا دیا تھا۔ انیسویں صدی کے اواخر سے انھوں نے منظم طریقہ سے فلسطین میں زمین خریدنا شروع کی اور انگریزوں اور فرانسیسیوں کی مدد سے وہاں نہ صرف یہودی حکومت قائم کردی بلکہ مہلک ہتھیاروں سے لیس کردیا اور ایٹمی قوّت بنا دیا۔ اب ایک جانب اسرائیل اور دوسری جانب اسلامی ممالک، کوئی مقابلہ ہی نہیں صرف پاکستان اس کی اینٹ سے اینٹ بجا سکتا ہے۔ میں نے عرب دوستوں سے چالیس سال پیشتر کہا تھا کہ وہ این پی ٹی اور کیمیکل ہتھیاروں کے معا ہدوں سے باہر ہوجائیں اور اپنی دفاعی قوّت بڑھائیں مگر وہ صرف عیاشی کرنا جانتے ہیں انہیں خودداری چھو کر نہیں گزری۔ ویسے تو ہمارے حکمراں بھی اس خاصیت میں کسی سے کم نہیں ہیں۔ امریکہ روز دھمکیاں (گالی ہی سمجھئے) دیتا ہے اور ہم معروضات پیش کرتے رہتے ہیں۔ ایران ہم سے چھوٹا ہے اور بہت کمزور ہے پھر بھی اس کو دھمکیاں دینے کی جرأت نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کے حکمرانوں نے سر اُن کے قدموں پر رکھا۔سیاسی حالات مشرق وسطیٰ میں بے حد کشیدہ ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک ہی ایجنڈا ہے کہ شام اور ایران کو (امریکی خوشنودی کی خاطر) صفحہ ہستی سے مٹا دو۔ یہ وہی اسپین والی حالت ہے پہلے دشمنوں سے مل کر اپنوں کو قتل کرو اور جب کمزور ہوجائو تو دشمن تمہاری گردن پر پیر رکھ کر جان نکال دیں۔
پچھلے دنوں اقوام متحدہ میں یمن نے امریکی اقدام کے خلاف ایک تحریک پیش کی۔ ٹرمپ نے پہلے دھمکی دیدی کہ اگر کسی ملک نے اس کی حمایت میں (یعنی امریکہ خلاف) ووٹ دیا تو اسکی مالی امداد اور دوسری سہولتیں ختم کردی جائیں گی۔ ہماری مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے بہت اچھی تقریر کی اور کہہ دیا کہ دنیا بکائو مال نہیں ہے۔ تحریک کے حق میں 128 اور مخالفت میں صرف 9 ووٹ آئے اور وہ چنّو مُنّو کے۔ تمام بڑے بڑے اور اہم ممالک نے ووٹنگ میں حصّہ نہیں لیا۔ یہ ظاہر ہوگیا کہ وہ امریکی اقدام کو ناپسند کرتے ہیں۔ یہ کاغذی کارروائی تو ہوگئی ،اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کا کوئی عملی حل بھی نکلتاہے کہ نہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ مغربی ممالک، خاص کر امریکہ، فرانس، انگلستان کے اہل اقتدار اسرائیل کی پالیسیوں کے پیچھے ہیں۔ یہ سلسلہ امریکہ شروع کرتا ہے اور باقی ممالک درپردہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔ جب کلنٹن صدربنے تو یہ دروغ گوئی اپنائی کہ فلسطین کا مسئلہ حل کردیں گے اور دو ریاستیں بنا دیں گے، پھر بش، جو نہایت کٹّر عیسائی تھا ،نے بھی آٹھ سال بیوقوف بنایا اور اسکے بعد کچھ لوگوں نے اُوباما سے امیدیں وابستہ کرلی تھیں اور میں نے فوراً ہی کہہ دیا تھا کہ اس نے کچھ نہیں کرنا اور اسرائیل کی توسیعی پالیسی پر عمل کرنا ہے اور اب ٹرمپ کھلے عام اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے۔ عرب ممالک چونکہ خاموش بیٹھے ہیں اور امریکہ کے ساتھی بنے بیٹھے ہیں اسلئے نتیجہ یہی نکلے گا بلکہ نکل چکا ہے کہ اسرائیل نہ صرف بیت المقدس بلکہ مغربی کنارا بھی اپنے قابو میں رکھے گا۔ یہ ایک پالیسی کا نتیجہ ہے وہ علاقہ جو صلاح الدین ایوبی ؒ نے بہادری سے یورپ سے چھینا تھا وہ موجودہ عربوں نے پلیٹ پر رکھ کر اسرائیل کو دیدیا۔ کاش ان میںکوئی دوربین بھٹو پیدا ہوگیا ہوتاتو ان کو آج یہ دن دیکھنا نصیب نہ ہوتا۔
اگر جمال ناصر، حافظ اسد اور دوسرے عرب حکمرانوں میں بھٹو صاحب کی طرح عقل فہم اور دوربینی کی صلاحیت ہوتی اور وہ 1956کے بعد ہی سے فوراً ایٹمی پروگرام شروع کردیتے تو وہ دس سال میں ایٹمی قوّت بن سکتے تھے۔ اس وقت نہ ہی این پی ٹی اور نہ دوسرے قواعد بنائے گئے تھے اور تمام یورپی ممالک کی کمپنیاں کھلے عام ایٹمی سامان کی پیشکش کررہی تھیں اور بیچ رہی تھیں۔ لیکن ان کو سوائے مغربی ممالک میں جاکر عیاشی کے کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں ۔ان کی طرف سے عوام اور فلسطینی جہنم میں جائیں۔ آج بھی تیل کی رسد بند کرکے وہ مغربی ممالک کو مجبور کرسکتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ دو ہفتوں میں حل کردیں۔ خدا بھٹو صاحب کو، جنرل ضیاء کو، غلام اسحق خان کو، آغا شاہی صاحب کو جنت نصیب کرے اور میرے رفقائے کار اور مجھ پر رحمت برقرار رکھے کہ ہم نے اس ملک کو اور عوام کو ان حالات، ذلالت سے بچا لیا جو ہمیں فلسطینیوں کی طرح ہندوئوں کے ہاتھ اُٹھانا پڑتی۔
(نوٹ)میاں نواز شریف کی سیاست چونکہ زوروں پر ہے اسلئے چند جملے اس سلسلہ میں پیش کرونگا۔ دیکھئے پہلے دن سے ان کے اورا ن کے ساتھیوں اور اہل خانہ کے رویے سے یہ بات ظاہر ہوگئی تھی کہ یہ مقدمہ عدالت میں نہیں، بازار میں لڑ رہے ہیں۔ روز ان کی اور ان کی بیٹی کی باتیں اور عدلیہ پر الزامات سن کر بے حد افسوس ہوتا ہے۔ میں نے میاں صاحب کی بہت حمایت کی ہے اور وہ ہوں یا کوئی اور مجھے ان کی تکلیف دیکھ کر بہت دُکھ ہوتا ہے بُرا وقت بُرا وقت ہے۔ میاں صاحب خدا کے لئے کیس کو کورٹ میں لڑنے کی کوشش کریں اور اپنے ساتھیوں اور بیٹی سے کہیں مدبرانہ رویہ اختیار کریں۔ اقامہ میں تنخواہ نہیں لی، اس بیان اور اس رویے سے آپ کی عقل و فہم پر داغ لگ رہا ہے۔ اگر 90 فیصد لوگ بھی آپ کو ووٹ دیں تو بھی وہ حمایت قانون سے برتر نہیں ہوسکتی۔ غلط کام کو قانون پکڑے گا اور ضرور پکڑے گا۔ میری یہی دُعا ہے کہ اللہ پاک آپ کی اور آپ کے اہل و عیال کی مصیبتیں دور فرمائے۔ آمین۔ میاں صاحب آپ نے مشرف کو چھوڑ کر دستور کی بے حرمتی کی ہے۔ آپ اس کا مقدمہ چلنے دیتے سزا ہوجانے دیتے اور پھر ملک سے باہر بھیج دیتے تو کوئی حرج نہ تھا مگر آپ نے اس کو کھلی چھٹی دے کر آئندہ کے لئے کھلی راہ چھوڑ دی ہے۔ آپ کو صدر اُردوان کی مثال سامنے رکھنا چاہئے تھی۔ عدالت پر الزام تراشی غلط تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں