آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ تعلقات ایک بار پھر نازک موڑ پر آن پہنچے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاکستان مخالف غیر ذمہ دارانہ بیان کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی ہے۔ واقفان حال کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کو، ڈومور، کی فہرست دینا چاہتا تھا مگر ہماری سول اور عسکری قیادت نے اسے واضح اور دوٹوک جواب دے دیا ہے کہ پاکستانی علاقوں میں نام نہاد امریکی جنگ کا ہم مزید حصہ نہیں بنیں گے۔ اب نائن الیون کے بعد افغانستان اور قومی سلامتی کے حوالے سے ہمارا بیانیہ یکسر تبدیل ہو گیا ہے۔ آج ہماری قیادت کو شدت سے یہ احساس ہوا ہے کہ سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی پالیسیوں سے ملک کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سولہ سال قبل شروع ہونے والی جنگ طویل تر ہوتی جارہی ہے اور اس سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ چونکہ امریکہ خود اس جنگ میں بری طرح شکست کھا چکا ہے۔ اس لئے وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ ہمارے اوپر ڈالنا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کی آگ میں یونہی جلتا رہے اور بھارت خطے کا، چوہدری بن جائے۔ پاکستانی قیادت امریکہ کے ان مذموم اور بھیانک عزائم کو بھانپ چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے طے کرلیا ہے کہ اب ہم امریکہ کے ساتھ مزید نہیں چل سکتے۔ اگرچہ یہ ایک بڑا مشکل فیصلہ تھا مگر دیر آید درست آید کے مصداق اسے بالآخر کر ہی لیا گیا۔ کیونکہ امریکہ

اور بھارت سی پیک کے خلاف کھل کر سامنے آگئے تھے۔ پاکستان نے امریکی امداد کو ٹھکرا دیا ہے۔ اور امریکی حکام کو پیغام دے دیا ہے کہ ہم ڈالروں کی بھیک پر قومی سلامتی کو کسی بھی صورت قربان نہیں کریں گے۔
حکومت پاکستان کو چاہئے کہ امریکی امداد کے حوالے سے حقائق کو پوری دنیا کے سامنے لائے۔ محض امریکی سفیر کی طلبی کافی نہیں بلکہ احتجاجاً اسے ناپسندیدہ قرار دیتے ہوئے ملک بدر کیا جانا چاہیے۔ محض زبانی جمع خرچ اور مذمتی بیانات سے آگے بڑھتے ہوئے اس حساس معاملے پر اب فوری عملی اقدامات کئے جائیں۔ پاکستان نے سولہ برس اس امریکی نام نہاد جنگ کو لڑا ہے۔ آج اس کا صلہ رسوائی کی صورت میں ہمیں مل رہا ہے۔ دنیا کو پاکستان کی لازوال قربانیوں کا اعتراف کرنا چاہیے۔ حقیقت یہ ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی بزدلانہ پالیسیاں اور اس کے بعد کی حکومتوں کے عاقبت نااندیش فیصلوں کا خمیازہ پوری قوم بھگت رہی ہے۔ حکمرانوں کے غلامانہ طرز عمل نے قوم کو شدید مایوس کیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ امریکی ڈومور کے مطالبے کو پائوں کی ٹھوکر پر رکھتے ہوئے واضح طور پر نومور کہا جائے۔ پاکستان کو امریکہ کی کٹھ پتلی ریاست نہیں بننا چاہیے۔ تمام ممالک کے ساتھ تعلقات برابری کی سطح پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ملک وقوم کی عزت و وقار اور سلامتی سب کچھ دائو پر لگ چکا ہے۔ اگرچہ پاک امریکہ تعلقات کے اس اہم معاملے پر قومی سلامتی کمیٹی، کور کمانڈرز اجلاس اور وفاقی کابینہ میں کافی غوروخوض کے بعد اہم فیصلے کر لئے گئے ہیں۔ مسئلہ کشمیر، نیوکلیئر پاور اور سی پیک ہماری قومی سلامتی کے معاملات ہیں جن پر کسی بھی صورت کمپرومائز نہیں کیا جا سکتا۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ اب امریکہ اور بھارت دونوں سی پیک کے خلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ ماضی میں نیوکلیئر پاور پر بھی پاکستان نے امریکی دبائو کو قبول نہیں کیا اب بھی یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کو ہر صورت مکمل کیا جائے گا اور اس سلسلے میں امریکی و بھارتی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ماضی میں پاکستان کی سیاست میں امریکہ اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے بلکہ یہاں تک ہوتا رہا ہے کہ حکومتیں بھی امریکہ کی مرضی سے آتی جاتی رہی ہیں۔ اب پاکستانی قیادت نے اپنی سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھا ہے کہ اگر ترقی و خوشحالی کے راستے پر چلنا ہے تو امریکہ سے جان چھڑانا ہو گی۔ ایک سینئر صحافی ضیاء شاہد نے بھی اپنی کتاب ’’باتیں سیاستدانوں کی‘‘میں، امریکہ کی پاکستان میں مداخلت کے بارے میں لکھا ہے کہ ماضی میں امریکی وزارت خارجہ نے کس طریقے سے مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کی۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں نے قاضی حسین احمد مرحوم کی بہت اہم لوگوں سے ملاقاتیں کروائیں۔ وہ مجھ پر اعتماد کرتے تھے یہ ان کی محبت تھی۔ مسلم لیگ ن اور جماعت اسلامی آپس میں کیوں نہ مل سکے شاید ہی کوئی مجھ سے زیادہ اس حقیقت سے واقف ہو اور امریکہ کی وزارت خارجہ نے اس دوری کو مزید بڑھانے کے لئے کیا کیا کاوشیں کیں۔ میرے علاوہ سرتاج عزیز، مشاہد حسین، میاں اظہر اور خورشید محمود قصوری بھی اپنے اپنے طور پر کچھ نہ کچھ تفصیلات سے ضرور واقف تھے۔ لیکن وہ بھی میری طرح کبھی اس موضوع پر اظہار خیال نہیں کریں گے۔ ہم سب ایک سپر طاقت کے بھیجے گئے ہرکارے یا ہرکاری کے اس پیغام پر کبھی بات نہیں کریں گے جس میں امریکہ کی جانب سے مشاہد حسین کی پارٹی کو قاضی صاحب کی پارٹی سے الگ رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے آنے والی حکومت کی خوشخبری سنائی گئی تھی۔ یہی کام امریکہ نے مصر، الجزائر اور فلسطین میں بھی کیا۔ ہاں! تو بات ہو رہی تھی امریکہ کی پاکستان مخالف حکمت عملی کی 2002میں امریکہ کی تمام تر مخالفت کے باوجود پاکستان میں متحدہ مجلس عمل کی صورت میں دینی جماعتوں کا اتحاد وجود میں آگیا تھا، امریکہ نہیں چاہتا تھا کہ یہ اتحاد بنے مگر قاضی حسین احمد کی کوششوں سے یہ بظاہر ناممکن کام پایہ تکمیل کو پہنچا تھا۔ اس وقت منظرنامہ پھر2002 والا ہی دکھائی دے رہا ہے، جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق اور مولانا فضل الرحمٰن کی کاوشوں سے مجلس عمل کا اتحاد بحال ہوگیا ہے۔ پاکستانی قیادت نے بھی پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے اپنی پالیسی اور بیانیے کو تبدیل کردیا ہے۔ لگتا یہی ہے کہ آئندہ انتخابات میں امریکہ مخالف حکومت بنے گی۔ کیونکہ پاکستانی قوم کی غالب اکثریت امریکہ مخالف جذبات رکھتی ہے۔ تاہم امریکہ مخالف جماعتوں کی الیکشن میں کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ اب بھی یہ کہا جا رہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل امریکہ مخالف نعروں کے ساتھ میدان عمل میں آئے گی اور ماضی کی طرح ایک بار پھر سیاسی افق پر چھا جائے گی۔ عام انتخابات میں کے پی کے، بلوچستان کے علاوہ پنجاب اور کراچی سے بھی ایم ایم اے کی کامیابیوں کے واضح امکانات ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے ماضی میں جماعت اسلامی اور قوم کے ساتھ بیوفائی کی سو وہ آج مکافات عمل کا شکار ہیں۔ لیکن آج قاضی حسین احمد کا لگایا ہوا پودا ایک مرتبہ پھر برگ و بار لا رہا ہے۔ عالم اسلام کے عظیم رہنما قاضی حسین احمد کو ہم سے بچھڑے پانچ سال ہو چکے ہیں۔ ان کی دینی وسیاسی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جنوری کا جب بھی مہینہ آتا ہے ان کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ پاکستان اس وقت چاروں طرف سے گھرا ہوا ہے۔ آج بھی ملک وقوم کو قاضی حسین احمد کی طرح درویش اور محب وطن قیادت کی ضرورت ہے جو امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکے اور پوری قوم کو متحد کرسکے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں