آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا 90 واں یوم پیدائش 5 جنوری کو جب منایا جا رہا تھا تو پوری قوم یک آواز ہو کر یہی کہہ رہی تھی ، جو بات بھٹو نے 1960 کے عشرے میں کہنا شروع کی تھی یعنی امریکہ سے نجات حاصل کی جائے ۔ وہ لوگ بھی یہی بات کہہ رہے ہیں ، جو بھٹو کے سخت ترین مخالف تھے اور جنہوںنے ’’ بھٹو کو عبرت کی مثال ‘‘ بنانے کی امریکہ کے وزیر خارجہ ہنری کسنجر کی دھمکی کو عملی جامہ پہنانے میں معاونت کی ۔ پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروس انٹیلی جنس ( آئی ایس آئی ) کے سابق سربراہ بریگیڈیئر ترمذی اپنی یاد داشتوں پر مشتمل کتاپ ’’ پروفائلز آف انٹیلی جنس ‘‘ کے صفحہ نمبر 33 پر لکھتے ہیں کہ ’’ امریکہ نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے اور ان کی پھانسی میں اپنا کردار ادا کیا ۔ بعض ناقابل تردید انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق امریکہ نے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی رہنمائی اور معاونت کرکے صورت حال کا فائڈہ اٹھایا اور بالآخر بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر انہیں تختہ دار تک پہنچایا ۔ ‘‘
اگر بھٹو کو ’’ عبرت کی مثال ‘‘ نہ بنانے دیا جاتا اور پاکستان اپنی خارجہ پالیسی خصوصاً پاک امریکہ تعلقات کے حوالے سے بھٹو کے وژن پر عمل کرتا تو آج یہ حالات نہ ہوتے ۔ 1970 کے عشرے کے آخری سالوں میں

پاکستان میں جو دہشت گردی اور خونریزی شروع ہوئی اور جو چار عشروں سے جاری ہے ، وہ نہ ہوتی اور لاکھوں بے گناہ پاکستانی شہری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور نوجوان نہ مارے جاتے ۔ بھٹو کے زمانے میںامریکی کیمپ سے نکلنا اس قدر مشکل نہیں تھا ، جس قدر آج ہے ۔ اگرچہ بھٹو کے دور میں امریکی کیمپ سے نکلنے کیلئے آج کی طرح قومی اتفاق نہیں تھا لیکن حالات کسی حد تک اس سوچ کیلئے سازگار تھے ۔ آج پوری قوم بشمول عسکری اسٹیبلشمنٹ امریکہ کو ’’ بائے بائے ‘‘ کرنے کی حامی ہے اور امریکہ خود بھی پاکستان کو اپنے کیمپ سے باہر دھکیل رہا ہے مگر پاکستان کیلئے اس صورتحال سے نکلنا بہت مشکل ہو گیا ہے وہ ادارے اور افراد جو پالیسی شفٹ کے آپشن پر غور کر رہے ہیں ، وہ ان مشکلات کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں ۔
1960 کے عشرے میں سامراج مخالف اور قوم پرست نوجوان سیاست دان اور مدبر ذوالفقار علی بھٹو نے ایک آمر ایوب خان کی کابینہ میں جگہ بنا کر پاکستان کو امریکی کیمپ سے دور کرنے کی کوشش کی اور پاکستان کو چین اور روس کے اس قدر قریب کر دیا کہ ایوب خان نے بھی امریکہ کے حوالے سے ’’ فرینڈز ناٹ ماسٹرز ‘‘ نامی کتاب لکھ ڈالی ۔ پاکستان اگرچہ امریکہ کے سامراجی فوجی اتحادوں ’’ سیٹو ‘‘ اور ’’ سینٹو ‘‘ کا رکن بن کر مکمل طور پر امریکی جال میں پھنس چکا تھا لیکن پاکستان کی داخلی جکڑ بندیاں بہت زیادہ نہیں تھیں ، جس طرح آج ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی حمایت سے لائے گئے ایوب خان بھی امریکہ کو آنکھیں دکھانے لگے ۔ جب ایوب خان کو احساس ہوا کہ وہ امریکی غضب کا شکار ہو سکتے ہیں تو انہوں نے پاکستان کو امریکی کیمپ سے دور لے جانے والے نوجوان وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کو برطرف کر دیا تاکہ امریکی خوشنودی حاصل کر سکیں لیکن امریکہ پاکستان کو سبق سکھناے کا فیصلہ کر چکا تھا ۔ بھٹو جب اپنے ایجنڈے پر عمل کرنے کیلئے اقتدار میں آئے تو حالات بہت ناسازگار ہو گئے تھے ۔ پاکستان دولخت ہو گیا تھا ۔ بھارت کی پوزیشن ہر لحاظ سے پاکستان سے بہتر تھی ۔ امریکہ بھٹو کو اپنا دشمن نمبر ایک تصور کرتا تھا ۔ اس کے دو اسباب تھے ۔ ایک تو بھٹو پاکستان کو جوہری طاقت بنانا چاہتے تھے اور دوسرا وہ اسلامی دنیا اور تیسری دنیا کے ممالک کا سامراج مخالف اتحاد اور بلاکس بنانے کیلئے کوشاں تھے ۔ اس صورت حال کے باوجود عالمی اور علاقائی سطح پر کچھ حالات پاکستان کیلئے سازگار تھے ۔ مثلاً
(1) سرد جنگ کے دور کی سامراج اور امریکہ مخالف صف بندیاں موجود تھیں ، جو آج منظم صورت میں نہیں ہیں بلکہ ایسی صف بندیاں ہونے کا عمل جاری ہے ، جسے امریکہ سبوتاژ کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔
(2) اسلامی ممالک میں امریکہ اور سامراج مخالف حکومتیں اور تحریکیں موجود تھیں ۔ آج اسلامی دنیا خصوصاً عرب ممالک یا تو تباہی و بربادی کا شکار ہیں یا امریکہ نواز فوجی اتحاد کا حصہ ہیں ۔
(3) امریکہ شروع سے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں امداد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے اور دھمکیاں دینے کے حربے استعمال کرتا رہا ۔ پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست قرار دینے کی دھمکیاں بھی بہت پرانی ہیں ۔ جب دنیا میں بڑے پیمانے کی دہشت گردی بھی نہیں تھی ۔ بھٹو کے دور میں پاکستان کو دہشت گرد قرار دینا اس قدر آسان نہیں تھا ، جس قدر آج امریکہ خود دہشت گردی کراکر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے ۔
4)) بھٹو کے زمانے میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ میں امریکہ کو اس قدر گہرا ثرو رسوخ حاصل نہیں تھا ، جس قدر جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں حاصل ہوا ۔
(5) ساری دنیا یہ باتیں جانتی ہے کہ امریکہ کے ظاہری آپریشنز پر جو اخراجات ہوتے ہیں ، اس سے کئی سو گنا زیادہ اخراجات اس کے خفیہ آپریشنز پر ہوتے ہیں بھٹو کو ہٹانے کیلئے امریکہ نے ’’ پی ایل ۔ 480‘‘ فنڈز جاری کر دیئے تھے اور دیکھتے ہی دیکھتے کچھ بھٹو مخالف جماعتوں کے کارکنوں کی جیبیں بھر گئی تھیں اور ملک میں ڈالرز کا سیلاب آ گیا تھا ۔ نائن الیون کے بعد خفیہ آپریشنز کیلئے امریکی بجٹ ظاہری آپریشنز سے کئی ہزار گنا زیادہ ہو گیا ہے ۔ امریکہ نے کولیشن سپورٹ فنڈ اور سیکورٹی امداد کی مد میںجو رقم فراہم کی ، وہ اس خطے میں خصوصاً پاکستان میں ہونے والے خفیہ آپریشنز کے مقابلے میں ’’ آٹے میں نمک ‘‘ کے برابر ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں امریکیوں نے ایک ایسا مخصوص مفاد پیدا کر دیا ہے جو پاکستان کو امریکی کیمپ سے نکلنے پر بے پناہ مشکلات پیدا کر سکتا ہے ۔ بھٹو کے زمانے میں مخصوص مفاد اس قدر مضبوط اور خطرناک نہیں تھا ۔
6))چین نے بھٹو کے زمانے میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا کیونکہ سرد جنگ کے زمانے میں چین امریکہ مخالف بلاک میں تھا اور آج کی طرح عالمی کھلاڑی نہیں تھا ۔ اب بھی اگرچہ چین کیلئے سی پیک کی وجہ سے پاکستان کی پہلے سے زیادہ اہمیت ہے لیکن وہ پاکستان کیلئے اس محاذ آرائی سے گریز کرے گا ، جس محاذ آرائی کیلئے امریکہ چین کو پاکستان کی سرزمین پر پھنسانا چاہتا ہے کیونکہ اب چین کا ایجنڈا بہت بڑا ہے ۔
(7) روس نے پاکستان کو دولخت کرنے کیلئے 1970 ء میں اگرچہ بھارت کا ساتھ دیا تھا کیونکہ وہ اس امریکہ نواز ملک کو سبق سکھانا چاہتا تھا لیکن اس سے پہلے بھی اور بعد میں بھی روس نے پاکستان کو قریب کرنے کی ہر کوشش کا مثبت جواب دیا اور بھٹو کے دور میں پاکستان کی بڑھ چڑھ کر مدد کی ۔ پاکستان اسٹیل مل روس کی مدد سے قائم ہوئی لیکن جنرل ضیاالحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں پاکستان نے جس طرح روس کو اس خطے میں مشکلات سے دوچار کیا ، انہیں دیکھتے ہوئے آج روس بھی پاکستان کی وجہ سے نہیں الجھنا چاہتا ۔ روس عالمی طاقت کی حیثیت سے اپنی بحالی کیلئے کوشاں ہے ۔
(8) اس وجہ سے بھی پاکستان پر امریکی غیض و غضب میں اضافہ ہوا ہے کہ اس خطے میں بننے والے امریکہ مخالف اتحاد کی بنیادی کڑی پاکستان ہے ۔ بھٹو اگرچہ سامراج اور امریکہ مخالف اتحاد اور بلاکس بنانے کیلئے کوشاں تھے لیکن آج کی طرح پاکستان کی یہ پوزیشن نہیں تھی کہ اگر پاکستان شامل نہیں تو کوئی اتحاد نہیں بن سکتا ۔ اس خطے میں پاکستان کے بغیر نئی صف بندی نہیں ہو سکتی ۔ آج کے حالات اور بھٹو کے حالات میں فرق کو سمجھا جا سکتا ہے ۔ پاکستان نے بھٹو کی پھانسی کا بہت خمیازہ بھگت لیا ہے ۔ سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ آج بھٹو جیسا کوئی لیڈر نہیں ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ پاکستان کے خلاف جو کچھ کرنے جا رہے ہیں ، ایسے حالات میں پاکستان کو بہت تدبر سے کام لینا ہو گا ۔ خاص طور پر خارجی اور داخلی حالات سے لاتعلق سیاسی قیادت پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں