آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر کی تازہ دھمکی کا سب سے اہم اور خطرناک پہلو پاکستان پر دھوکے باز ہونے کی دشنام طرازی ہے، پاکستان نے تو ہمیشہ امریکہ کو اپنا قریبی دوست مانا بھلا کیسے کوئی اپنے قریبی دوست کیخلاف کوئی حرکت کرسکتا ہے وہ بھی دھوکے بازی جیسی قبیح حرکت، توبہ۔ یہ الزام تو غلط ہے، جہاں تک بات ہے اربوں ڈالر لینے کی تو اس کی کوئی رسید ہے تو وہ امریکہ دکھادے ہم مان لیں گے اور ہوسکا تو قسطوں میں واپس بھی کردیں گے، ہاں اتنا ضرور کہہ رہےہیں کہ امریکہ بھائی ٹل جا، ہم غریبوں پر غصہ مت کر، اجاڑنے کیلئے کوئی اور گھر تلاش کر، ہمارا تم سے کوئی مقابلہ نہیں، یہ تھا وہ جواب جو ازراہ مذاق ایک سنیئر حکومتی رہنما نے مسٹر ٹرمپ کے ٹویٹ کے بعد ہمارے استفسار پر دیا۔ اب آپ موجودہ حالات میں حکومتی اکابرین کی سنجیدگی کا خود ہی اندازہ لگالیں۔ اقتدار تو ہوتا ہی اندھا ہے، حقائق کا ادراک ہونے کے باوجود دل و دماغ ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتا، لیکن شاید سنجیدہ سوچ اور تحفظ کیلئے ایکشن کا وقت آن پہنچا ہے، ’’دا غلطی گنجائش نشتہ‘‘، اب راستہ ایک ہی ہے جو بھی الزامات لگائے جا رہے ہیں انہیں غلط ثابت کردیا جائے،تاہم الزامات کو کیسے غلط ثابت کیا جائے؟ اور اگر یہ کرنے کوشش کی بھی جائے تو مانے گا کون ؟یقین کیونکر کرے گا؟ یہ ایک ایسا سوال ہےجس کا

جواب کسی کے پاس نہیں۔بجائے اس کے کہ ہوش مندی سے سفارتی سطح پر مبنی برحقائق بیانیہ پیش کیاجائے ہمارے وزیرخارجہ امریکی امداد کی بندش پر سفارتی کی بجائے جذباتی زبان میں کہتےہیں ’’امریکہ یار نہیں یارمار ہے اس کے ساتھ تعاون پرمبنی دوستانہ تعلقات ختم ہوچکے ہیں‘‘ حالانکہ امریکی وزیردفاع جیمز میٹس اور امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز چوہدری کہہ رہے کہ حالیہ بیانات اور تناو کے باوجود امریکہ کےساتھ ہر قسم کا تعاون جاری ہے جس میں زمینی و فضائی راستوں کی رسائی، باہمی انٹیلی جنس و فوجی کوآپریشن اور معلومات کےتبادلوں سمیت دیگر باہمی رابطے شامل ہیں۔ تو پھر سچ کیا ہے؟ ہو کیا رہا ہے؟ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم چاہتے کیا ہیں اور کر کیا سکتے ہیں؟ پاک امریکہ تعلقات کی موجودہ اور مستقبل میں نوعیت کیا ہوگی؟ کیا امریکہ کی دشمنی ہمارے لئے قابل قبول ہے؟ ہمارا کوئی مخلص دوست اور مشکل وقت کا ساتھی ہے؟ خطے میں ہمسائے ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ اب اگر امداد بند ہوگئی ہے تو ہمارا سماجی، سیاسی اور معاشی منصوبہ کیا ہوگا؟ عسکری ضروریات کا انحصار کس پر ہوگا؟ دہشت گردی کےخلاف نیا بیانیہ اور ایکشن پلان کیا ہوگا؟ اہم سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا ہم بھارت کی جانب سے افغان سرزمین کو استعمال کرنے اور امریکہ کے ذریعے دشمنی کی چال کو ناکام بنانے کے لئے اپنے گھر کو بھی صاف کریں؟ کیا ہم اپنی ریاست کو سیکورٹی سے فلاحی اور پراگریسو اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کے عملی اقدامات کا آغاز کریں گے؟ طے ہے کہ اگر ہم نے خود کو ٹھیک کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت نہ ہمیں دھمکا سکتی ہے نہ دبا سکتی ہے، لڑائی کرسکتی ہے نہ نیچا دکھا سکتی ہے، ہمیں اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ الزامات کوم حض مسترد نہیں کرنا بلکہ ٹھوس شواہد کے ساتھ غلط ثابت کرنا ہے، زمینی اقدامات اور سچ پر مبنی مضبوط سفارتی لائحہ عمل سے دنیا کو بتانا ہوگا کہ پاکستان کو 16برس میں دہشت گردی کےخلاف جنگ میں10 ہزار 374ارب روپے کا بھاری مالی نقصان ہوا،50 سے70 ہزار سویلین اور10 ہزار سے زائد فوج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوانوں نے بہادری سے جان کی قربانی دی، لاکھوں اپاہج، یتیم و بےسہارا، بےگھر اور بےروزگار ہوئے، آئے روز دہشت گرد حملوں سے سرکاری عمارتیں، اہم تنصیبات، سڑکیں، بازار، اسکول، کالج، یونیورسٹیز، مساجد، مندر اور گرجا گھر سمیت کھیلوں کے میدان تک محفوظ نہ رہے، پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ گیا جس کے نقصان کی مالیت ایک ہزار ارب روپے بنتی ہے،عوام کے حالات زندگی خراب ہونے سے ٹیکس وصولیوں کا نظام بری طرح متاثر ہوا اور وصولیوں میں5 ہزار920 ارب روپے کی کمی ہوئی، فرنٹ لائن اتحادی بننے کا صلہ یہ ملا کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری ہی بند ہوگئی جس سے1996 ارب روپے کانقصان ہوا۔ قوم میں عدم تحفظ کے احساس نے پورے معاشرے کو محرومی اور مسلسل دباو کا شکار کردیا، الغرض کوئی ایسا شعبہ نہیں جو اس دہشت گردی کے خلاف پرائی جنگ سے بری طرح متاثر نہ ہوا ہو، ہم مظلوم نہیں بن سکتے تو بہادری سے ہم ان حقائق کو دنیا کے سامنے رکھنے سے کیوں احتراز کرتے ہیں؟ امریکی صدر نے تو آج اربوں ڈالر دینے کی بات کرکے ہمیں زمانے میں رسوا کرنے کی کوشش کی اور جواب ہوتے ہوئے بھی ہم بےبسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں، مجھے 6 سال پہلے کا ایک اہم واقعہ یاد آگیا جب ایک امریکی یونیورسٹی میں لیکچر کے دوران مجھ سے پی ایچ ڈی سفید فارم طالب علم نےکئی تنقیدی سوالات کئے جس میں ایک اہم سوال یہ بھی تھا کہ ’’ امریکہ آپ کو اربوں ڈالر دیتا ہے کیا اس لئے کہ آپ ہماری فوج کو افغانستان میں نشانہ بناکر مارتے رہیں، ہمارے جوانوں کو جانے والے کھانے اور اسلحے کی سپلائی بند کردیں، میرا پرعزم اور مضبوط جواب تھا کہ امریکہ نے ہمیں اربوں ڈالر خیرات یا مدد کے لئے نہیں دیئے، جو رقم دی گئی وہ میرے وطن کی سرزمین کے (درست یا غلط)استعمال کے بدلے کولیشن سپورٹ فنڈ کی مد میں ہے، ہماری خدمات اور قربانیاں انمول ہیں، کھربوں ڈالرز بھی اس کا نعم البدل نہیں ہوسکتے، یہ رقم امریکہ نے اپنی غرض پوری کرنے کے لئے دی تاکہ دنیا کے ایک حصے میں بیٹھ کر دوسرے کونے میں اپنے جنگی مقاصد کی تکمیل ممکن ہوسکے، میں نے امریکی یونیورسٹی میں ویڈیوز اور فوٹوگرافس سے ثابت کیا کہ یہ جنگ ہماری نہیں تھی لیکن ہم کیسے اپنی جوان نسل کو قربان کررہے ہیں تاکہ آپ امن و سکون سے یہاں بیٹھ سکیں،نائن الیون کے دہشت گرد حملے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن ہماری کمزور قیادت نے تمام الزام اپنے سر لے کر بدترین کمزوری کا مظاہرہ کیا، ہم آج بھی آپ کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہے ہیں۔ہمیں کیوں سمجھ نہیں آتا کہ وطن عزیز ایک ایٹمی صلاحیت کا حامل خودمختار اور طاقتور ملک ہے، اس کو آزاد کرانے کا سنہری موقع آگیا ہے، جو ہونا تھا ہوچکا، اب گھر سے باہر نکلیں حق اور سچ بتانا شروع کریں، طاقتوروں سے لڑنا اور تعلقات کو خراب کرنا کسی صورت ملک و قوم کےمفاد میں نہیں لیکن عزت و احترام کے ساتھ جینا تو سیکھیں، آپ درپردہ کہتے ہیں کہ موجودہ حالات پیدا ہونے کی اصل وجہ اور تانے بانے سی پیک جیسے عظیم اور گیم چینجر منصوبے سے جا ملتے ہیں تو پھر آگے بڑھ کر اس کو محفوظ بنائیں، ہمسائیوں سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے پہل کریں، بیرون ملک پاکستانیوں بالخصوص امریکہ میں عزیز ہم وطنوں کو اعتماد میں لیں جو امریکن پاکستانی پبلک افیئرز کمیٹی APPAC کے ذریعے دونوں ملکوں کو قریب لانے کی کوششوں میں دن رات مصروف ہیں، کشکول توڑ پھینکیں، رونے دھونے کی بجائے اپنا حقیقی بیانیہ دنیا کے سامنے پیش کریں، وزیر دفاع بننا آسان ہے تاہم عوام کو کسی بھی غیرمعمولی عمل سے ڈرانے کی بجائے ملک وقوم کی بقا کے لئے ’’تزویرانی گہرائی‘‘ جیسی سوچ و حکمت ترک کرنا بھی آپ کے فرائض میں شامل ہے، آپ اخلاص کا مظاہرہ کریں گے تو دنیا آپ پر یقین اور پوری قوم آپ پر اعتماد کرے گی، یہی ہم سب کی فتح بھی ہوگی، اب اس کے سوا آپ کے پاس کوئی اور آپشن نہیں.....!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں