اسلام آباد (انصار عباسی) انصاف کی تیز رفتار فراہمی اور دیوانی و فوجداری مقدمات کو جلد از جلد نمٹانے کے حوالے سے آئین اور قانون میں وضع کردہ ٹائم فریم اور ڈیڈلائنز اور ساتھ ہی عدلیہ کی جانب سے خود 2009ء میں مرتب کردہ اپنی ہی جوڈیشل پالیسی کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے انصاف کی فراہمی میں شدید تاخیر ہو رہی ہے۔ یہ تاخیر کئی برسوں حتیٰ کہ دہائیوں سے اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں میں جاری مقدمات نمٹانے میں ہو رہی ہے۔ فوجداری مقدمات میں تاخیر سے ملنے والے انصاف کے معاملے میں پولیس اور پراسیکوشن بھی شامل ہیں۔ لیکن دیوانی مقدمات میں طویل عرصہ کی تاخیر کی سب سے بڑی وجہ عدالتیں ہیں جہاں کسی کیس کے فیصلے کا انتظار کرتے ہوئے نسلیں گزر جاتی ہیں۔ کئی عدالتی مقدمات کے حوالے سے آئین، قانون یا نیشنل جوڈیشل پالیسی میں ڈیڈلائن / ٹائم فریم مقرر کیا گیا ہے لیکن عدالتوں کی جانب سے شاید ہی ان پر عمل کیا جاتا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 199؍ کے تحت، کسی رٹ پٹیشن (جس میں حکم امتناع جاری کیا گیا ہو) کے حوالے سے ہائی کورٹ 6؍ ماہ میں فیصلہ جاری کرنے کی پابند ہے لیکن اس آئینی شق کو بھی نظر انداز کر دیا جاتا ہے حتیٰ کہ رٹ پٹیشن کی کارروائی کئی برسوں تک جاری رہتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 199-4B میں لکھا ہے کہ ’’ ہر کیس جس میں عدالت نے آئین کی شق 199؍ اول کے تحٹ کوئی عبوری حکم جاری کیا ہو، اس کا فیصلہ ہائی کورٹ نے میرٹ کی بنیاد پر عبوری حکم کے اجراء کے 6؍ ماہ کے اندر کرنا ہے، تاوقتیکہ ہائی کورٹ کسی مناسب وجہ کی بناء پر ایسا کرنے میں تاخیر ہو جائے اور یہ وجہ ریکارڈ پر لانا ہوگی۔‘‘ ایسے مختلف قوانین ہیں جن میں عدالتی مقدمات نمٹانے کیلئے ٹائم فریم مقرر کیا گیا ہے لیکن عموماً اسے نظرانداز کیا جاتا ہے۔ مثلاً ہتک عزت آرڈیننس 2002ء کے تحت، عدالتوں کو اس قانون کے تحت 90؍ روز کے اندر مقدمہ نمٹانا ہے۔ ہتک عزت کے اس کیس کے حتمی فیصلے کیخلاف 30؍ روز کے اندر دائر کی جانے والی اپیل کا فیصلہ ہائی کورٹ کو 60؍ روز کے اندر کرنا ہے۔ لیکن عملاً عدالتوں کو فیصلہ کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں حتیٰ کہ ہتک عزت کیس کا فیصلہ شاید ہی سامنے آتا ہے۔ Illegal Disposition Act, 2005 کے تحت شکایت ملنے پر عدالت پولیس اسٹیشن کے انچارج افسر کو 15؍ دن میں تحقیقات کرنے اور اسے مکمل کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ کیس کی معلومات حاصل کرنے کے بعد عدالت روزانہ کی بنیاد پر سماعت کر سکتی ہے اور 60؍ روز میں فیصلہ سنا سکتی ہے، کسی تاخیر کی صورت میں مناسب وجوہات کو ریکارڈ پر لانا ہوتا ہے۔ اسی قانون کے تحت عدالت اس وقت تک ٹرائل ملتوی نہیں کر سکتی جب تک عدالت کی اپنی رائے میں ٹرائل کا التوا انصاف کیلئے ضروری ہو اور سات روز سے زیادہ ٹرائل ملتوی نہیں ہو سکتا۔ فیملی کورٹ ایکٹ 1964ء کے تحت، فیملی کورٹ کسی بھی کیس بشمول تنسیخِ نکاح کا فیصلہ مقدمہ دائر کیے جانے کے 6؍ ماہ میں کر سکتی ہے۔ مالی اداروں اور مال کی برآمدگی (فنانشل انسٹی ٹیوشنز ۔ ریکوری آف فنانسز) آرڈیننس 2001ء کے تحت اگر کسی مدعا علیہ کو مقدمہ کے دفاع کی اجازت دی گئی ہے تو اس کیس کا فیصلہ اجازت دیئے جانے کے 90؍ روز کے اندر ہونا چاہئے، اور اگر عدالتی کارروائی مقررہ مدت سے آگے بڑھ جائے تو عدالت مدعا علیہ بینکنگ کورٹ کی متعین کردہ رقم کے مساوی زر ضمانت جمع کرانے کیلئے کہہ سکتی ہے، مدعا علیہ ایسا کرنے میں ناکام ہوجائے تو بینکنگ کورٹ رقم کے حوالے سے جیسا اسے مناسب محسوس ہو عبوری یا حتمی فیصلہ جاری کر سکتی ہے۔ اسی طرح قومی احتساب بیورو آرڈیننس 1999ء میں لکھا ہے کہ شیڈولڈ جرائم میں ملوث افراد کے کیس کا فیصلہ احتساب عدالت کو 30؍ روز میں کرنا ہے اور کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ عملاً، احتساب مقدمات کا فیصلہ 10؍ سے 15؍ سال تک جاری رہنے کے بعد بھی فیصلہ سامنے نہیں آتا۔ 2009ء میں سامنے آنے والی قومی عدالتی پالیسی (نیشنل جوڈیشل پالیسی)، جو خود عدلیہ نے جاری کی اور اسے نافذ العمل بنایا، میں تیز رفتار انصاف کی فراہمی اور عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کی تعداد بڑھنے کی روک تھام کو یقینی بنانے کی کوشش کی گئی تھی، لیکن پالیسی کو بھی یکسر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ زمینی حقائق دیکھیں تو عدالتی مقدمات میں نہ ختم ہونے والی تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن نیشنل جوڈیشل پالیسی میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 199؍ کے تحت دائر کی جانے والی رٹ پٹیشن (درخواست) مقدمہ دائر کیے جانے کے اگلے ہی دن ’’کچی پیشی‘‘ کیلئے مقرر کیا جائے گا اور اسے جتنی جلد ممکن ہو نمٹایا جائے گا؛ سرکاری ملازمین کی ملازمت کے حوالے سے امور پر دائر کی جانے والی رٹ پٹیشن اور ساتھ ہی پروفیشنل کالجوں میں طلبہ کے داخلوں اور دیگر وابستہ امور کے حوالے سے دائر کردہ درخواستوں کا فیصلہ 60؍ روز میں ہو جانا چاہئے۔ جس وقت مہینوں اور برسوں کیلئے جاری کیے جانے والے احکام امتناع کی وجہ سے صورتحال پریشان کن ہے اسی موقع پر دیکھا جائے تو نیشنل جوڈیشل پالیسی میں لکھا ہے کہ حکم امتناع جاری ہونے کے 15؍ دن کے اندر معاملات کا فیصلہ ہو جانا چاہئے اور تاخیر کی صورت میں جوڈیشل افسر متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو بذریعہ رجسٹرار اس تاخیر کی وجوہات پیش کرے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زمینی صورتحال دیکھیں تو ہائی کورٹس کی جانب سے جاری کیے جانے والے احکام امتناع کا فیصلہ سامنے آنے میں مہینوں یا پھر برسوں لگ جاتے ہیں۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میں لکھا ہے کہ کرایہ داری کے مقدمات کا تیزی سے چار ماہ کے عرصہ میں فیصلہ سامنے آنا چاہئے، کرایہ داری کے حوالے سے اپیلیں، رٹ اور دیگر متفرق درخواستوں کا فیصلہ 60؍ روز میں آجانا چاہئے، سی پی سی کے تحت نظرثانی پٹیشن کا فیصلہ تین ماہ میں ہونا چاہئے، فیملی کیس کا فیصلہ 3؍ سے 6؍ ماہ میں ہونا چاہئے، فیملی کیسز کی صورت میں سامنے آنے والی سول اپیلوں کا فیصلہ ایک سے 4؍ ماہ میں سامنے آنا چاہئے جبکہ تاخیر کی وجوہات ہائی کورٹ میں پیش کرنا ہوں گی؛ پبلک ریونیو سے متعلق درخواستوں کا فیصلہ 6؍ ماہ کے اندر ہونا چاہئے، سول ججوں کو نظرثانی پٹیشن کا فیصلہ 30؍ روز کے اندر کرنا ہے اور نئے مقدمات کا ٹرائل 6؍ ماہ کے اندر مکمل کرنا ہے؛ قابل خرید و فروخت دستاویزات (نیگوشیبل انسٹرومنٹس) کے کیسز کا فیصلہ مختصر کارروائی کے بعد 90؍ روز میں سامنے آنا چاہئے، مالی امور کے حوالے سے کیس کا فیصلہ فاسٹ ٹریک بنیادوں پر آئینی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے سامنے آنا چاہئے، چھو ٹے دعوے اور معمولی جرائم کے حوالے سے تنازع کے حل کے متبادل نظام کے ذریعے (آلٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولیوشن میکنزم) پر عدالت سے باہر عمل کیا جائے، ترجیح تجارتی، کاروباری اور سرمایہ کاری کے مقدمات کو دی جائے، جعلی اور بدنیتی کی بنیاد پر قائم کیے گئے مقدمات کی روک تھام کیلئے عدالتیں ہرجانے کا تعین کریں۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی میں دیوانی مقدمات کی طرح فوجداری مقدمات تیزی سے نمٹنے کیلئے بھی رہنمائی فراہم کی گئی ہے لیکن سول کیسز کی طرح فوجداری کیسوں میں بھی اس رہنمائی کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ دیگر معاملات کے ساتھ، پالیسی میں شامل ٹائم فریم میں بتایا گیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کے سیکشن 497؍ کے تحت ضمانت کے کیس کا مجسٹریٹ کی جانب سے فیصلہ سامنے آنے میں تین دن، سیشن کورٹ کی جانب سے پانچ دن جبکہ ہائی کورٹ کی جانب سے سات دن سے زیادہ وقت نہیں لگنا چاہئے، ضابطہ فوجداری کے سیکشن 497؍ کی ذیلی شق 5؍ کے تحت ضمانت منسوخ کرنے کیلئے دائر درخواست کا فیصلہ 15؍ دن میں ہو جانا چاہئے، جنوری 2009ء کے بعد درج ہونے والے ایسے تمام جرائم جن کی سزا سات سال تک قید بامشقت ہے ان کی سماعت فاسٹ ٹریک بنیادوں پر کرکے انہیں 6؍ ماہ میں نمٹایا جائے، ایسے تمام جرائم جن کی سزا سات سال سے زیادہ قید بامشقت یا پھر موت کے کیسز کو ایک سال کے اندر نمٹایا جائے؛ ٹرائل کورٹس غیر ضروری طور پر سماعت ملتوی نہ کریں بالخصوص پراسیکوشن گواہ کو پیش کرنے میں ناکامی کی وجہ کو بنیاد بنا کر سماعت ملتوی نہ کی جائے۔ اگر کوئی پولیس افسر یا پھر تفتیشی افسر جان بوجھ کر ٹرائل کی طوالت کا ذمہ دار قرار پایا گیا تو اسے ٹرائل کورٹ یہ معاملہ انچارج افسر کے علم میں لائے تاکہ ضروری کارروائی کی جا سکے۔ اگر کسی کیس میں ایسا لگتا ہے کہ شکایت پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی تو معاملہ چیف جسٹس کے علم میں بذریعہ رجسٹرار لایا جائے تاکہ مذکورہ قصور وار پولیس افسر کیخلاف ٹرائل کو اختتام تک پہنچانے میں رکاوٹ ڈالنے پر توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جا سکے۔ نیشنل جوڈیشل پالیسی 2009ء کے تحت ضابطہ فوجداری کے سیکشن 526؍ اور 528؍ کے تحت دائر کی جانے والی ٹرانسفر درخواستیں، متفرق درخواستیں جیسا کہ گاڑی کی سپرداری اور پراپرٹی ڈسپوزل اور دیگر درخواستیں جن کی بنیاد عبوری احکامات ہوتے ہیں، کا فیصلہ سات دن میں سامنے آ جانا چاہئے۔