آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍شعبان المعظم1439ھ 26؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x

میڈیا بند ہو گیا تو ظلم کا منہ کھل جائے گا
یہ کہنا بے جا ہوگا کہ میڈیا جرم کو اچھالتا ہے، اس میں اضافہ کرتاہے۔ یہ بہیمانہ جرائم میڈیا عام ہونے سے پہلے بھی معاشرے میں ہوتے رہتے تھے مگر ان کو چونکہ ہائی لائٹ کرنے والا کوئی نہ تھا ،ظالم لوگ، مجرم، واردات کرتے تھے اور واقعہ دفع دور کر دیا جاتا ہے۔ جب سے میڈیا کی رسائی عام ہوئی ہے مجرموںکو بچانے والے بے بس ہوگئے ہیں۔ پولیس اب کسی معاملے کو رشوت لے کر دبا نہیں سکتی اور نہ ہی بااثر افراد مجرموںکو تحفظ دے سکتے ہیں ۔ اس لئے کہ کیمرے کی آنکھ اور مائیک جرم کو دبنے نہیںدیتے۔ آج اگر جرم کے راستے کا کوئی بڑا پتھر ہے تو وہ میڈیا ہی ہے۔ الیکٹرانک میڈیا فوری آواز اٹھاتا ہے جبکہ پرنٹ میڈیا ہر وقوعے کو قلمبند کرکے محفوظ دستاویز بنا دیتا ہے ۔ ملکی معیشت میں بھی میڈیا کا کردار نظرانداز نہیں کیاجاسکتا کیونکہ یہی ہر پروڈکٹ کو متعارف کراتا ہے اور روزگار کے مواقع کی بھی خبر دیتا ہے۔ جس سے بیروزگار بروقت روزگار کے لئے درخواست دےسکتے ہیں۔ زینب کیس میں میڈیا مظلوم خاندان کی آوازبن گیا اور سپریم کورٹ نے فوری نوٹس لے لیا۔ پاک فوج کاردعمل بھی آگیا۔ بیدار چرواہے کے ریوڑ سے بھیڑیا بھیڑ نہیں اٹھا سکتا۔ مگرچرواہوں کو بیداررکھنے کی بھی تو ضرورت ہوتی ہے۔آج میڈیا کے وجود سے

x
Advertisement

بہرحال مجرم خوفزدہ ہے اور اسے جرم کرنے میں پہلے جیسی آزادی حاصل نہیں۔ 24گھنٹے میڈیا کا گجر بجتا رہتا ہے کسی کو ایک بلیٹن بھی سننے کومل جائے وہ دنیا بھر سے باخبر ہو جاتا ہے اور اپنے بچائو کے لئے سنبھل جاتا ہے۔ جو لوگ میڈیا کے کردار کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں وہ اپنی کوتاہیوں سے عوام کی نظریں ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ زینب کے ساتھ جو بہیمیت ہوئی اس کے جواب میں عوام نے اگر قصور شہر میں احتجاج کیا تو اس کے جواب میں پولیس کو عوام پر سیدھی گولی چلانےکا کیا اختیار ہے؟ نتیجہ کیانکلا کہ دو شہری شہیدہوگئےجوظلم کے خلاف نکلے تھے۔ ہم یہاںواضح کرتے چلیں کہ اس ملک میں مجرم کو فوری عبرتناک سزا جب تک نہیں ملے گی یہ ملک سلامت نہیں رہ سکے گا۔ عدم تحفظ سے بڑاخطرہ کوئی نہیں ہوتا۔
٭٭٭٭٭
پیچیدہ حصول ِ انصاف
تمام مہذب ممالک میں بھی جرائم ہوتے ہیں اور اگر مجرم پکڑا جائے تو اسے سزا دینے میں عدالتی پیچیدگیاں آڑے نہیں آتیں۔ ہمارے نظام قانون میں کچھ ایسی پیچیدگیاں موجود ہیں جنہیں قانون کا سقم کہنا بے جا نہ ہوگا۔ چیف جسٹس آف پاکستان نے عدالتی اصلاحات کا عندیہ دیا ہے۔ توقع ہے کہ قانونی عمل کو سہل اور مختصر بنائیں گے جس سے مجرم کوعبرتناک سزادینے میں بےجاتاخیر نہ ہوگی۔ پیچیدہ قانونی عدالتی پراسیس ہی سےمجرم کو مواقع ملتے ہیں کہ وہ خود کو سزاسے بچا لے۔ اب عدالتی نظام کوترقی یافتہ ممالک کی سطح پر لانا ضروری ہو گیاہے۔ اس کارِ خیر کو چیف جسٹس جلدازجلد نمٹا لیں تو پوری قوم انہیں دعائیں دے گی اور اس سے جرم کی بڑھتی ہوئی رفتارمیں نمایاں کمی آسکے گی۔ موجودہ عدالتی و قانونی پیچیدہ نظام مظلوم سے زیادہ ظالم کو فائدہ دیتا ہے۔ جس طرح حکومتی رٹ ہوتی ہے عدلیہ کی بھی اپنی ایک رٹ ہوتی ہے۔اگر اسے قائم نہ رکھا گیا اور بالخصوص کنٹیمپٹ کیسز کوبھی تاخیر کی نذر کر دیا گیا تویہاں کوئی بھی عدلیہ سے نہیں ڈرے گا اور نہ ہی اس کااحترام کرے گا۔ تھانوں کی اصلاح اس لئے نہیں ہوتی کہ ہر حکومت ان کی کانی ہوتی ہے۔
٭٭٭٭٭
نفسیاتی مریض
بلاشبہ نفسیاتی مریض بھی ہوا کرتے ہیں مگر اس کی آڑ لے کر مجرموں کو بچانا زیادہ خطرناک عمل ہے، مرض نہیں کہ اسے عذر بنا کرنظرانداز کردیاجائے۔ ان دنوں یہ بات عام ہے کہ دراصل یہ جو فلاں مجرم نے اتنا بھیانک جرم کیا وہ نفسیاتی مریض ہے۔ اگر یہ خیال درست مان لیاجائے تو ہمارے ملک میں جرائم کا طوفان برپا ہے کیا ہم سب نفسیاتی مریض ہیں۔ دنیامیں مریض کم اور صحت مند زیادہ ہوتے ہیں۔ اگرمجرم نفسیاتی مریض ہوتے تو جرم اِکادُکا ہوتے، یہ جو ہماری بعض زیادہ عقلمند ہستیاں مجرم کو نفسیاتی مریض قرار دینے کا شوشہ چھوڑتی ہیں، ان کا دماغی معائنہ یا بیک گرائونڈ معلوم کرنا چاہئے۔ ہم نام تو نہیں لیتے لیکن ایک مجرم ایسے بھی ہیں وہ جب چاہیں حسب ضرورت نفسیاتی مریض بن جاتے ہیں اور وہ اس کا سرٹیفکیٹ بھی کسی مجرم سے حاصل کرلیتے ہیں۔ جب کسی معاشرے میں جرم گناہ عام ہو جاتاہے وہاں ظالم و مظلوم میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ جرم کو ایک سوچ قراردیتے ہیں یہ سب شاعری ہے حقیقت یہ ہے کہ جرم ایک باہوش مجرم کا فعل ہوتا ہےمگر ہم من حیث القوم بہت سارے حقائق زندگی کی بحث میں کھو دیتے ہیں اس لئے ہم مجرم کو پکڑ کر اسے بیچ چوراہے سزا دینا تو کجا اس تک پہنچ بھی نہیں پاتے۔ زینب سے پہلے 11عدد اسی طرح کے واقعات اسی قصور شہر میں واقع ہوچکے ہیں۔ اگر ان کے مجرم پکڑے گئے ہوتے ، قصور کے چوک میں پھانسی دی گئی ہوتی تو عبرت، زینب کا اندوہناک واقعہ رونما نہ ہونے دیتی۔
٭٭٭٭٭
ہم کب ہنسیں گے؟
O۔ گورنر پنجاب:پاکستانی بن کر سوچنا ہوگا۔
یہاں کوئی بھی بھارتی بن کر نہیںسوچتا۔ اگر آپ کے علم میں ہو تو مطلع فرمائیں۔
O۔میواسپتال میں سیکورٹی گارڈ تین ماہ سے تنخواہ سے محروم
اب بتائیں کہ جرم کیسے پیدا ہوتا ہے۔ غریب آدمی کے گھر کا چولہا اس سرد موسم میں تین ماہ ٹھنڈا رہے گا تو اس کے اندر کا حیوان بائولا ہوگا یا نہیں؟
O۔ شارجہ میں طالب علموں کا دنیا کی سب سے بڑی انسانی کشتی بنانے کا فیصلہ
ہمارےطالب علم بہت اچھے ہیں مگرہم جو فارغ التحصیل ہوچکے ہیں اپنی کشتی میں سوراخ کرنے کے عمل میں ہمہ تن مصروف ہیں۔
O۔ شرارتی بندروں نے لندن چڑیا گھر میں بھوکے بندروں کے حملے کا جواب کھانا کھلانے سے دے کرجان چھڑالی۔
یہ ترکیب پاکستان کے غریب عوام نوٹ کرکے استفادہ کرسکتے ہیں مگر خیال رہے کہ بھوکے بندروں کو سیدھی گولی نہ ماری جائے۔ ان کا مطالبہ مان لینا چاہئے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں
پرو فیسر سید اسرار بخاری سے مزید