آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍شعبان المعظم1439ھ 26؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
Eight Incidents Including Zainab Carried Out By Same Person Ig Punjab

آئی جی پنجاب پولیس عارف نواز خان نے کہا ہے کہ7 معصوم بچی زینب امین سے زیادتی سمیت قصور میں ہونے والے زیادتی کے 8 واقعات ایک ہی شخص نے کئے ،ڈی این اے میچ ہوگیا ہے ۔

قصور میں گزشتہ دنوں قتل ہونے والی بچی زینب کے زیادتی اور قتل کے معاملے کی تحقیقات میں سنسنی خیز انکشاف سامنے آیا ہے کہ دیگر 7 بچیوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کی واردات میں ایک ہی شخص ملوث ہے ۔

x
Advertisement

یہ انکشاف آئی جی پنجاب نے میڈیا سے گفتگو میں کیا ،ان کا کہناتھاکہ 67 مشتبہ افراد کے ڈی این اے بھجوائے گئے ہیں،رپورٹس کا انتظار ہے۔

ان کا مزید کہناتھاکہ تھا کہ زیادتی کے بعد قتل کے واقعات میں 227 کے قریب افراد کو شامل تفتیش کیا گیا ،جن میں سے 67 کے ڈی این ٹیسٹ بھی لئے گئے ۔

آئی جی پنجاب نے مزید بتایا کہ زینب اور اس سے پہلے 7 کیسز میں لیے گئے ڈی این اے سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ ایک ہی شخص نے یہ گھناؤنا جرم کیا ہے۔

عارف نواز خان نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ہمیں زینب قتل کیس میں 80 فیصد کامیابی حاصل ہو گئی ہے، جونہی اس کیس میں کوئی پیشرفت سامنے آئے گی تو اسے پوری قوم کے سامنے رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس اس ملزم کے پیچھے ہیں اور اپنی طرف سے کوششیں کر رہے ہیں، پرامید ہیں کہ اس معاملے کو جلدی حل کر لیں گے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج کے حوالے سے آئی جی پنجاب پولیس کا کہنا تھا کہ اس میں نظر آنے والی تصویر واضح نہیں تھی، اس تصویر کی کوالٹی کو مزید بہتر بنایا گیا، لیکن ابھی بھی اس کی کوالٹی بہتر نہیں ہے۔

خیال رہے کہ 4 جنوری کو اغوا کی گئی زینب کی لاش 3 روز قبل قصور کے شہباز روڈ سے ملی، اس واقعے کے بعد مشتعل مظاہرین نے سڑکیں بلاک کر دی تھیں سرکاری املاک پر دھاوا بولا تھا۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں