آپ آف لائن ہیں
منگل7؍شعبان المعظم 1439ھ24؍اپریل 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
Todays Print

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی سپریم کورٹ میں چار ججوں کی چیف جسٹس کے خلاف بغاوت سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے سماجی رہنما انا ہزارے نے ٹوئٹ کیا کے ان چار ججوں نے قانون کی قبر کھود دی ہے جس کا ملک کو بہت نقصان ہوگا،جمہوریت کے لئے کافی لوگوں نے قربانیاں دیں ہیں اس کے باوجود آج ہم کیا دیکھ رہے ہیں۔بھارتی لوک سبھا کے سابق اسپیکر سومناتھ چترجی نے اپنے ٹوئٹ میں چار باغی ججز کی پریس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس بغاوت سے سسٹم کو چیلنج کیا جاتا ہے تو یہ ملک میں جمہوریت پر خطرناک حملہ ہے ۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے عدلیہ میں بغاوت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی پریس کانفرنس سے پرہیز کرنا چاہیے تھا ، وہ امید کرتے ہیں کہ تمام ججزاپنے درمیان پیدا ہوانے والی دراڑوں کو مکمل طور پر ختم کر لیں گے ۔بھارت میں چار باغی ججز کی طرف سے بھارتی چیف جسٹس کے خلاف کی گئی پریس کانفرنس کے ردعمل میں سابق مششہور ریٹائرڈ جج آر ایس سودھی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ اس قسم کے واقعے کی مثال اس سے پہلے نہیں ملی ، باغی ججز کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس نے ہندوستان میں عدلالتی کے نظام کو ٹھیس پہنچائی ہے اس اقدام سے عدلیہ کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ آسان نہیں ہوگا۔اس معاملے پر

x
Advertisement

نیشنل سیکرٹری سی پی آئی جسٹس ڈیوڈ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس جے چلامیسوار نے مجھ سے کچھ بھی تلاش نہیں کیا ہرکسی کو اس ملک میں جمہوریت کی فکر ہے اور قانون دان شہریوں کی آخری امید ہوتے ہیں ۔ 

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں