آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍شعبان المعظم1439ھ 26؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x

قصور میں ایک سات سالہ بچی کے ساتھ خوف ناک سانحے کے بعد پورے ملک میں طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ ردعمل کی نفسیات اپنے زوروں پر ہے۔ چوہدری شجاعت حسین فرماتے ہیں کہ مجرم کو ضیاالحق کے زمانے کی طرح سرعام پھانسی دی جائے۔ عائشہ گلالئی صاحبہ عمران خان کے ’بے حیائی کلچر‘کو ذمہ دار ٹھہرا رہی ہیں۔ بلاول بھٹو قصور واقعہ کو پنجاب حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہیں۔ گویا سندھ حکومت نے ہندو بچیوں کا زبردستی مذہب تبدیل کرنے کی مہم پر قابو پانے میں شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ طاہر القادری صاحب بھی جنازہ پڑھانے قصور جا پہنچے۔ نیتوں کا حال اللہ بہتر جانتا ہے۔ 2017ء کے پہلے چھ ماہ میں صرف صوبہ پنجاب میں کم سن بچوں سے جنسی زیادتی اور قتل کے ساڑھے سات سو واقعات رپورٹ ہوئے، ضلع قصور اڑسٹھ واقعات کے ساتھ سرفہرست رہا۔ اس دوران کم عمر بچوں کی عریاں فلمیں بنانے کاا سکینڈل بھی قصور ہی میں سامنے آیا۔ اب پولیس اہلکاروں پر تفتیش کے فوری نتائج کے لئے دباؤ آئے گا۔ کچھ بعید نہیں کہ کوئی لاوارث شہری نام نہاد پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا جائے۔ سنجیدہ سوالات سے جان چھڑانے کا یہ رویہ ہماری نفسیات میں پیوست ہے۔ کوئی مجرمانہ واقعہ عوامی توجہ حاصل کر لے تو ماورائے عدالت قتل کی مدد سے اس پہ مٹی ڈال دی جاتی ہے۔ دہشت گردی کا واقعہ پیش آ جائے تو

x
Advertisement

موٹر سائیکل پر ڈبل سواری کی پابندی کا حکم جاری کر دیا جاتا ہے۔ تعلیمی ادارے پر حملہ ہو جائے تو پورا ملک درس گاہوں کی چاردیواری تعمیر کرنے پر لگ جاتا ہے۔ سیاسی قیادت توقعات پہ پوری نہ اترے تو مارشل لا کا مطالبہ کر دیا جاتا ہے، فوجی آمریت سے جان چھڑانا ہو تو عدلیہ بحالی کی تحریک شروع کر دی جاتی ہے۔ عطا شاد مرحوم کہتے تھے… سیلاب کو نہ روکیے، رستہ بنائیے۔ راستہ تو ہم بھی بناتے ہیں مگر طریقہ کار میں کچھ ایسی تخلیقی مہارت پیدا کی ہے کہ پانی ہماری بنیادوں میں مرتا ہے۔
کوئی ساٹھ برس قبل گجرات کے بس اڈے پہ ایک غریب الوطن خاتون کے ساتھ کچھ اوباشوں نے مجرمانہ زیادتی کی تھی۔ مرحوم شورش کاشمیری حیات تھے، ہفت روزہ چٹان کی پتنگ اونچی ہواؤں میں اڑ رہی تھی۔ شورش نے نظم لکھی، شورش، ایسی قوم پر اژدر برسنے چاہئیں۔ مصطفی زیدی کی پراسرار موت کے بعد اردو اخبارات نے جنسی اسکینڈل کے بیان میں نئی منزلیں عبور کیں۔ بھٹو صاحب کا اقتدار میں آنا ایک خاص طبقے کو ناگوار گزرا تھا، چنانچہ پے در پے ایسے واقعات کی تشہیر کی گئی جن سے اہل اقتدار کو اخلاق باختہ قرار دینا مقصود تھا۔ لاہور کالج کے دروازے پر بھٹے بیچنے والے کم عمر لڑکے نے کالج کی لڑکیوں پر چھری سے حملہ کر دیا تو اسے بے حیائی کے فروغ کا شاخسانہ قرار دیا گیا۔ سمن آباد سے دو بچیاں گھریلو تنازع پر غائب ہو گئیں تو گورنر ہاؤس پر حملہ کر دیا گیا۔ کراچی کے ہاکس بے پر طالب علموں میں ہاتھا پائی ہوئی تو ایسی سرخیاں جمائی گئیں گویا بھٹو صاحب یورپ کے کسی قحبہ خانے میں گرفتار ہو گئے ہیں۔ ایک کالج کے اساتذہ میں پیشہ ورانہ چشمک پر غزالہ ثنا کیس کا عنوان جمایا گیا۔ چوہدری شجاعت حسین کا حافظہ مطلب کی باتیں یاد رکھتا ہے، پپو قتل کیس کے واقعات اخفا کے اندھیرے میں ہیں، معلوم حقیقت یہ ہے کہ بھٹو کو پھانسی دینے کے لیے قوم کو نفسیاتی طور پر تیار کرنا تھا۔ چنانچہ شادمان چوک میں تین افراد کی بلی چڑھائی گئی۔ کراچی میں ایک لڑکی بس کے نیچے آ کر کچلی گئی تو اسے لسانی تصادم کی بنیاد بنایا گیا۔ پچھلے تینتیس برس سے کراچی کا شہر بشری زیدی کو پیش آنے والے حادثے کی فصل کاٹ رہا ہے۔ سیاسی اور سماجی شعور کی سطح ستر برس میں یہاں تک پہنچی ہے کہ ایک نامعلوم شخص کی بہیمیت کا شکار ہونے والی مظلوم بچی زینب کے باپ کو تحقیقاتی پولیس آفیسر کے مذہبی مسلک کی فکر ہے۔ یہ ہے ہماری حس انصاف اور یہ رہا ہمارا سماجی شعور۔
سمجھنا چاہئے کہ پارسائی کے جو نصابی پیمانے ہم نے لکھ رکھے ہیں ان کا معاشرے کے زمینی حقائق سے کبھی تعلق نہیں رہا۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ صنفی امتیاز اور زور آور کی جنسی بربریت سے عبارت ہے۔ ہندوستان میں تاج برطانیہ کی حکومت قائم ہونے کے بعد غیر ملکی حکمرانوں نے سماجی اصلاح سے ہاتھ کھینچ لیا اور صاحب جائیداد طبقے کے مفادات کا پرچم اٹھا لیا۔ مستقل بندوبست اراضی کے نتیجے میں عورتوں پر مردوں کی بالادستی مستحکم ہوئی۔ وراثت کے رواجی قوانین کی بنیاد عورت اور مرد میں امتیاز ہے۔ سرسید اور ان کے رفقا نے تعلیم کا بیڑہ اٹھایا تو اس کا بنیادی مقصد سرکاری ملازمتوں میں حصہ لینا تھا۔ دشواری یہ پیش آئی کہ علم کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں۔ علم لنگرخانے پر تقسیم نہیں ہوتا۔ علم کی کرن جس دماغ میں پہنچتی ہے وہاں ایک نئی طرز کا کارخانہ وجود میں آتا ہے۔ اس کارخانے کی مصنوعات کو اکبر الہ آبادی روک سکے تھے اور نہ نیاز فتح پوری اس پہ بند باندھ سکے۔ معاشرہ عبدالماجد دریابادی سے پوچھ کر قدم نہیں اٹھاتا۔ ابوالاعلیٰ مودودی کی کتاب "پردہ" موجود ہے لیکن دو سو برس پہلے کی تعلقہ داری اب موجود نہیں جس میں ایک پردہ دار خاتون کی نجابت قائم رکھنے کے لیے درجن بھر لونڈیوں اور ماماؤں کی ضرورت پیش آئے۔ صادق جائسی اور محمد علی ردولوی کی تصانیف بھی دستیاب ہیں۔ البتہ ایک کتاب کا ذکر ہم بوجوہ نہیں کرتے۔ مولوی ممتاز علی نے "حقوق نسواں" کے عنوان سے 1902ءمیں ایک کتاب لکھی تھی۔ جاننا چاہئے کہ علم نئی معیشت کو جنم دیتا ہے اور معیشت معاشرتی اقدار طے کرتی ہے۔ اپنی پارسائی کا ڈھول بجاتے رہنے سے حادثات کا سلسلہ طویل ہوتا چلا جاتا ہے۔ آج کے پاکستان میں کم از کم چودہ کروڑ افراد تیس برس سے کم عمر ہیں۔ یہ پہلی نسل ہے جسے پوسٹ پل (Post Pill) اور پوسٹ پورن نسل کہنا چاہئے۔ یہ سوچنا خام خیالی ہے کہ ہمارے نوجوان آج کی دنیا کے حقائق سے بے خبر ہیں۔
موبائل فون نے ہمارے نچلے متوسط طبقے کی مفروضہ اقدار کی قبا تار تار کر ڈالی ہے۔ یہ سب معاملات پہلے سے موجود تھے لیکن اب وہ تکنیکی ذرائع دستیاب ہو گئے ہیں جن کی مدد سے پرانی اقدار کی عمارت ڈھائی جا سکتی ہے۔ یہ عمارت ڈھے رہی ہے۔ ہمیں اپنی جنسی اقدار پر ٹھنڈے دل سے غور و فکر کر کے نئی حدود متعین کرنے کی ضرورت ہے۔ پہلا قدم یہ کہ شادی بیاہ کے نام پر دولت کی فحش نمائش کو ختم کیا جائے۔ لاکھوں نوجوان بچے اور بچیاں ان بے ہودہ اور بے معنی رسومات کے لیے درکار مالی وسائل نہ ہونے کے باعث اذیت میں ہیں۔ معاشرے کے تمام سنجیدہ طبقے اتفاق کرتے ہیں کہ شادی ایک عورت اور مرد کے درمیان رضامندی سے طے پانے والا معاہدہ ہے۔ اس معاہدے میں غیر متعلقہ افراد کی مداخلت کو ختم کرنا چاہئے۔ جنسی ہراسانی اور ناانصافی کے معاملات میں عورت کو مجرم قرار دینے کی حوصلہ شکنی کرنی چاہئے۔ ریپ کا جرم جنسی ضرورت کی بجائے تشدد اور زور آوری یا ناجائز اختیار کی نفسیات سے جنم لیتا ہے، جنسی ہراسانی کی ثقافت کی سختی سے حوصلہ شکنی کرنی چاہئے اور اسے بدلتے ہوئے معاشرے میں عورتوں کی فعال معاشی اور سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ جوڑنے سے گریز کرنا چاہئے۔ تقدیس مشرق کا افسانہ پامال ہو چکا۔ اس افسانے کے ثنا خواں طبقے سے معاشرتی ویٹو کا حق واپس لینا آج کے پاکستان کا تقاضا ہے۔ اس سے ہمارے بچے زیادہ محفوظ ہو سکیں گے۔ شخصی احترام کے تقاضے بہتر طور پر پورے کیے جا سکیں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ معاشرے میں خوشی کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائی جا سکے گی۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں