آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بل گیٹس کے نام سے آپ کو واقف ہونا چاہئے ۔ برسوں انہیں دنیا کا سب سے دولتمند شخص مانا جاتا رہا۔ اب اس فہرست میں چند تبدیلیاں ہوئی ہیں۔ لیکن میری نظر میں ان کا کمال دولت کمانا اتنا نہیں ہے جتنا اس دولت کا استعمال ہے۔ انہوں نے اپنے اور اپنی بیوی میلنڈا کے نام سے ایک فائونڈیشن قائم کی ہے جس میں اپنی تقریباً ساری دولت کو وقف کر دیا ہے۔ یہ فائونڈیشن دنیا بھر میں اور خاص طور پر غریب ملکوں میں مہلک امراض اور دوسری بیماریوں کے خاتمے کی جنگ لڑرہی ہے۔بل گیٹس اوران کی بیگم خود اس تحریک میں شامل رہتے ہیں۔ دن رات مصروف رہتے ہیں۔ بل گیٹس کے کتابیں پڑھنے کے شوق کا کافی چرچا رہتا ہے۔ اب ایک اور نام ہے جسے آپ کے لئے یعنی اخبارات کا مطالعہ کرنے والوں کے لئے اجنبی نہیں ہونا چاہئے۔ میں امریکہ کے سب سے بڑے ہفت روزہ کی بات کر رہا ہوں۔ آپ سمجھ گئے،ٹائم میگزین‘ لیکن ایک اور،تیسرا نام میں جو لے رہا ہوں اس کے بارے میں یہ سوال جائز نہیں ہے کہ کیا آپ اس سے واقف ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ آپ اسے جانتے ہیں۔ البتہ یہ سوال ضرور اہم ہے کہ آپ اس کے بارے میں کیسے خیالات رکھتے ہیں، جی ہاں میں ملالہ یوسف زئی کی بات کر رہا ہوں۔ میں اسے پاکستان کی بدنصیبی سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک میں ملالہ کے بارے میں عجیب عجیب نوعیت کے شکوک و شبہات پائے جاتے

ہیں جبکہ ساری دنیا کے لئے وہ بچیوں کی تعلیم اور آزادی کی تحریک کا سب سے بڑا سمبل ہے۔اب ملالہ کے بارے میں کوئی کیا کہتا ہے اس سے قطع نظر، یہ تو طے ہے کہ اس پر حملہ طالبان نے کیا تھا، بالکل صحیح بات یہ ہو گی کہ طالبان نے اسے جان سے مارنے کا قصد کیا تھا۔ لڑکیوں کو اسکول جانے سے روکنے کے لئے طالبان نے جو اقدامات کئے اور جن میں اسکولوں کو بم سے اڑا دینے کے واقعات بھی شامل تھے ان سے تو کسی کو انکار نہیں ہونا چاہئے۔ گویا ایک طرف طالبان ہیں اور دوسری طرف ملالہ اور آپ کس طرف ہیں، ذرا سوچ کر اپنا فیصلہ سنایئے گا ۔سوچنا اور سمجھنا ہم سب کے لئے ایک بہت مشکل کام ہوتا جا رہا ہے۔ جیسے ملالہ ایک سمبل بن گئی ہے اسی طرح طالبان بھی ایک خاص فکر، ایک خاص طرز عمل اور نظریئے کی نمائندگی کرتے ہیں، اگر آپ سوچ سمجھ کر طالبان کے ساتھ ہیں تو کوئی کچھ نہیں کر سکتا،ہاں، یہ کہہ کر آپ اپنی جان نہ چھڑائیں کہ ہم تو دونوں کے خلاف ہیں یعنی درمیان میں ہیں، یہ حقائق سے فرار کا ایک بہانہ ہو گا کیونکہ شدید بحران کے دنوں میں اور میدان جنگ کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر اس طرح کی لاتعلقی کا سہار انہیں لیا جا سکتا تو کیا آپ کوئی فیصلہ کرنے سے ڈرتے ہیں ؟
بات یہاں تک پہنچ گئی اور میں نے یہ نہیں بتایا کہ میں ان تین ناموں،یعنی بل گیٹس ،ٹائم اور ملالہ کو ایک لڑی میں کیوں پرو رہا ہوں۔ ’’دو افراد اور ایک رسالہ‘‘ تو اس کی وضاحت یہ ہے کہ ٹائم نے اپنی94 سال کی تاریخ میں پہلی بار کسی کو اپنا مہمان ایڈیٹر بنایا کہ ایک شمارہ آپ اپنی مرضی سے نکالیں۔ یہ ذمہ داری بل گیٹس نے قبول کر لی اور تازہ ترین شمارے کے مہمان مدیر وہی ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ میڈیا مایوسی پھیلاتا دکھائی دیتا ہے۔ لگتا ہے پوری دنیا سلگ رہی ہے۔ بل گیٹس نے اس تصویر کو پلٹ دیا۔ سرورق کی کہانی ان لوگوں کے بارے میں ہے جو پرامید ہیں۔ جو ایک روشن مستقبل کا پیغام دیتے ہیں، اعداد و شمار بھی یہ بتاتے ہیں کہ دنیا کے حالات وقت کے ساتھ بہتر ہوتے جا رہے ہیں، مفلسی میں کمی ہوئی ہے۔ مہلک بیماریوں کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ خواتین کی خود مختاری اور آزادی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس ضمن میں ہم سعودی عرب کی مثال بھی دے سکتے ہیں ،ناخواندگی میں بھی کمی ہو رہی ہے۔ بل گیٹس کی دلیل یہ ہے کہ اچھی خبریں بھی تو ہیں۔ بہرحال ،بل گیٹس نے ’’ٹائم‘‘ کے ا س شمارے کے لئے جن افراد سے مضمون لکھوائے ان میں وارن بفٹ کے نام دوسرا بڑا نام ملالہ کا ہے۔ اور ملالہ نے وہی بات کہی ہے کہ وہ جو کہتی رہتی ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم دے کر ہی ہم دنیا کو بدل سکتے ہیں۔ مضمون کا عنوان کچھ یوں ہے کہ ’’یہ دنیا کس کی ہے؟ لڑکیوں کی ۔‘‘
یہاں میں ایک لحظہ رک کر اپنی جذباتی کیفیت کا اقرار کرنا چاہتا ہوں ،کیونکہ میں ایک صحافی ہوں اس لئے میں ہمیشہ گزرے ہوئے ہفتے کے کسی واقعہ کے سہارے، حالات حاضرہ تازہ ترین صورتحال کی عکاسی کی کوشش کرتا ہوں۔ تو آج میں نے قصور کی ایک معصوم بچی کے ساتھ کی جانے والی درندگی کو اپنا موضوع کیوں نہیں بنایا ؟ سچی بات یہ ہے کہ میری سمجھ میںنہیں آتا کہ میں اپنے جذبات کا اور پاکستانی معاشرے کی ہیبت ناک وحشتوں اور لرزہ خیز محرومیوں کا احاطہ کیسے کروں، ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایسے واقعات تو کئی بار پہلے بھی منظر عام پر آ چکے ہیں۔ چند تو ہماری توجہ تک حاصل نہیں کر پائے۔ ہم نے تین سال پہلے پشاور میں اپنے بچوںکے قتل کاناقابل برداشت دکھ بھی برداشت کر لیا اور ہماری دنیا پھر بھی نہ بدلی۔ یاد رہے کہ وہ حملہ بھی طالبان نے کیا تھا، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کون سا سانحہ ہو گا کہ جو ہمیں اس راستے کو تبدیل کرنے پر مجبور کر دے گا۔ جس پر ہم چل ر.ہے ہیں۔ اب یہ جو قصور کے تازہ واقعہ کے بعد قومی سطح پر ہلچل مچی ہے تو اس کا تعلق شاید اس ہیجان سے بھی ہے جو کئی وجوہات کی بنا پر ملک میں پایا جاتا ہے۔ لیکن یہ بھی تو سوچئے کہ کچھ دنوں پہلے ہی جب ڈی۔ آئی۔ خان کے ایک گائوں میںایک خاتون نوجوان کو برہنہ کر کے گھمایا گیا تو چند خبروں اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے بعد ایک خاموشی چھا گئی۔ اس غریب خاتون کا قصور یہ تھا کہ اس کے خاندان کے ایک مرد نے کوئی جرم کیا تھا اور انتقام اس سے لیا گیا۔ میںنے ایک پڑھے لکھے شخص کو ’’بدل‘‘کے اس رواج کاجواز پیش کرتے ہوئے بھی دیکھا یوں، جو بنیادی باتیں پاکستانی معاشرے کے بارے میں کہی جا سکتی ہیں وہ انتہائی پیچیدہ ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں