آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Todays Print

اسلام آباد(تبصرہ:طارق بٹ)امیدوں کے مطابق مسلم لیگ(ن) بلوچستان سے سینیٹ کی سیٹیں نہیں جیت سکے گی۔عددی اعتبار سے ن لیگ صوبے سے کم از کم 4سیٹیں جیت سکتی تھی تاہم،بغاوت کے سبب امیدیں خاک میں مل گئیں۔۔بلوچستان اسمبلی میں اگر ن لیگ کی عددی تعداد دیکھی جائے تو وہ اس صوبے سے کم از کم چار سیٹیں حاصل کرسکتی تھی۔تاہم ، سوائے سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری کے تقریباًان کی تمام پارلیمانی پارٹی کی بغاوت کےسبب ان کی امیدیں خاک میں مل گئی ہیں۔البتہ ابھی بھی یہ ممکن ہے کہ ن لیگ یہاں سے ایک سیٹ حاصل کرلے۔میر عبدالقدوس بزنجو کے وزیر اعلیٰ بلوچستان منتخب ہونے سے ن لیگ اور ان کی حامی جماعتوں یعنی حاصل بزنجو کی نیشنل پارٹی اور محمود اچکزئی کی پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی عملی حکمرانی ختم ہوگئی ہے۔تقریباً ساڑھے چار سال تک ایک معاہدے کے تحت انہوںنے مشترکہ طور پر یہ فیصلہ کیا تھا کہ کتنی مدت کے لیے کسے وزیر اعلیٰ منتخب کیا جائے گا۔نومنتخب وزیراعلیٰ نے 2013کے عام انتخابات میں سب سے کم یعنی 544ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔بزنجو کا تعلق ق لیگ سے ہے، لیکن اس کے ساتھ ان کا تعلق ایسا ہی ہے جیسا کہ ن لیگ کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والوں کا ہے۔ق لیگ نے شاید ہی ان کے وزیراعلیٰ منتخب ہونے پر مسرت کا اظہار کیا ہو کیوں کہ

بلوچستان میں 2013سے اب تک ق لیگ نے ان سے یا دیگر ارکان اسمبلی سے شاید ہی کوئی رابطہ رکھا ہو۔جہاں ن لیگ کو اس پورے معاملے میں سخت دھچکا لگا ہے وہیں نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی اپنے نامزد امیدواروں کو سینیٹرز منتخب کرانے میں کامیاب ہوجائے گی اور ن لیگ کی حامی جماعتیں ہونے کے باعث سینیٹ انتخابات میں ان کے ووٹ ن لیگ کے حق میں ہی گنے جائیں گے۔عددی اعتبار سے نیشنل پارٹی کے ایک یا دو سینیٹرز منتخب ہوسکتے ہیں، جب کہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی اس پوزیشن میں ہوگی کہ وہ اپنے تین امیدواروںکو سینیٹرز منتخب کرالے بشرط یہ کہ ان کی جماعت کے منحرفین بزنجو کی حمایت جاری رکھیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں