آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی سینٹرل کمانڈکے سربراہ جنرل جوزف ووٹل اور ایک امریکی سینیٹر کی جانب سے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ٹیلی فون پر رابطے کی تفصیلات گزشتہ روز افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ نے جاری کی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال رواں کے آغاز پر اپنے انتہائی قابل اعتراض اور اشتعال انگیز بیان کے ذریعے پاک امریکہ تعلقات کے گراف کو جس درجہ نیچے گرادیا تھا ،اس کے تناظر میں امریکہ کی جانب سے یہ رابطے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں ۔جنرل جوزف کی جانب سے کرائی گئی یہ یقین دہانی خاص طور پر اہم ہے کہ پاکستان کی حدود میں کوئی یکطرفہ امریکی کارروائی واشنگٹن کے پیش نظر نہیں کیونکہ صدر ٹرمپ اور پھر کئی دوسرے امریکی عہدیداروں کی طرف سے حالیہ دنوں میں تواتر کے ساتھ پاکستان کو یکطرفہ کارروائی کی دھمکیاں دی جاتی رہی ہیں جن پر پاکستان میں فطری طور پر تشویش محسوس کی جارہی تھی۔آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل جوزف ووٹل اور امریکی سینیٹر نے پاک فوج کے سربراہ سے صدر ٹرمپ کے بیان سے پہلے اور بعد کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔جنرل باجوہ نے امریکی قیادت کو دوٹوک الفاظ میں بتایا کہ صدر ٹرمپ کے بیان پر پاکستانی قوم محسوس کرتی ہے کہ امریکہ نے سات دہائیوں کے تعلقات کو خاطر میں نہ لاکر پاکستان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔انہوں نے

قومی خودداری کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان امریکہ سے امداد نہیں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنی کارکردگی اور قربانیوں کا اعتراف چاہتا ہے جو بجاطور پر اس کا حق ہے جبکہ جنرل جوزف نے اپنی گفتگو میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیاب کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان پایا جانے والا تناؤ جلد ختم کرلیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ سرحد پار حملوں کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کرنے والے افغان عسکریت پسندوں کے خلاف پاکستان کی جانب سے کارروائی کی جائے۔ اس کے جواب میں جنرل باجوہ نے امریکی فوجی و سیاسی قیادت پر واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے تباہ کردیے ہیں تاہم افغان باشندے مہاجر کیمپوں کو اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں اسی لیے پاکستان چاہتا ہے کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے۔ انہوں نے اس مستقل موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے پاکستان یکطرفہ طور پر اقدامات کررہا ہے،اس کے باوجود اگر افغانستان محسوس کرتا ہے کہ شرپسند عناصر پاکستان سے آتے ہیں تو کابل کو بارڈر مینجمنٹ کو ترجیحی اہمیت دینی ہوگی۔جنرل باجوہ نے وضاحت کی کہ افغانستان میں امن خود پاکستان کی ضرورت ہے اسی لیے امریکہ کی جانب سے قربانی کا بکرابنائے جانے کی کوششوں کے باوجود پاکستان امن بحالی کے ہر اقدام میں تعاون کو تیار ہے۔ جنرل جوزف اور امریکی سینیٹر کے پاکستان کی عسکری قیادت سے یہ رابطے اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پاکستان کے خلاف الزام تراشیاں اور دھمکیاں کسی مسئلے کا حل نہیں۔ افغانستان میں امن کے لیے باہمی رابطے اور سوچ بچار ناگزیر ہے اور اس حوالے سے معقول لب و لیجے پر مبنی یہ تازہ رابطے امید کی کرن ہیں۔ تاہم یہ اسی صورت میں مثبت امکانات کے نقیب ثابت ہوسکتے ہیں جب پاکستان کے جائز اور معقول موقف کو سمجھا جائے ۔افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے تیزرفتار اقدامات کو ممکن بنایا جائے ، بارڈر مینجمنٹ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کیا جائے اور بھارت کی ملی بھگت سے افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو روکا جائے ۔ امریکہ پاکستان سے محض اپنے مفادات کی تکمیل کے مطالبے کرنے کے بجائے پاکستان کے مفادات کو بھی خاطر خواہ اہمیت دے ، بھارت کی بے جا نازبرداریاں کرکے پاکستان کی مشکلات کو بڑھانے سے گریز کرے، خصوصاً کشمیر اور پانی کے مسائل حل کرانے میں اپنا کردار مؤثر طور پر ادا کرے کیونکہ اس کے بغیر خطے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں