آپ آف لائن ہیں
بدھ 8؍ شعبان المعظم 1439ھ 25؍ اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x

کس کا ماتم کریں، کس کس کو روئیں؟ اِک بنت ہوا (زینب) کے بہیمانہ قتل نے جیسے سوئے ہوئے ضمیروں کو جھنجھوڑ دیا اور لوگ فرطِ جذبات میں آپے سے باہر ہو گئے۔ یہ ایک نوخیز روح کی کچرے سے ملی لاش کا نوحہ تھا، یا پھر اجتماعی احساسِ گناہ اور سماجی ضمیر کی خلش جس نے قصور کے شہریوں کو سوتے سے جگا دیا۔ ایسے پہلے بھی ہوتا رہا تھا، بار بار ہوتا رہا ہے اور تقریباً ہر گلی کوچے، ہر دوسرے تیسرے گھراور اسکول/مدرسے میں معصوم بچے جنسی درندگی کا لقمہ بنتے رہے ہیں۔ شرم و حیا، عزت و آبرو، جھوٹی شان، خوف اور احساسِ ندامت آڑے آتے رہے اور آڑے ہیں کہ ہوس کا شکار بچے بچیاں بول پاتے۔ گونگے، بہرے اور اندھے معاشرے میں بولی بھی تو ایک معصوم اور مسخ شدہ لاش۔ اس پر مزید المیہ یہ کہ ہر طرح کے سیاسی و مذہبی ڈھونگیوں کو اپنی اپنی بے رنگ دُکانوں کو چمکانے کا ایک موقع اور میسر آ گیا۔ ایسے میں ثناخوانِ وحشت و دہشت کہاں چُپ سادھنے والے تھے اور جنسی بربریت پہ جبریت و فسطائیت کے گھسے پٹے نسخے لیے عقل و دانش کو پسپا کرنے میدان میں کود پڑے۔ بچوں کے ساتھ بدفعلی، بدسلوکی، تشدد اور جبری مشقت عام ہے۔ ہم سب یہ جانتے ہیں اور جانتے بوجھتے بھی اپنی نئی نسلوں کو ایک انسانی، مہذب اور ولولہ انگیز ماحول فراہم کرنے سے اجتناب کر رہے ہیں۔ زینب اور اس کی عمر

x
Advertisement

کی بچیوں اور بچوں کے روح فرسا واقعات اگر آج ہمیں سوچنے پہ مجبور کر رہے ہیں تو پہلے یہ بہیمانہ حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ یہ واقعات ایک گہری نفسیاتی، سماجی اور جنسی عارضوں کا شاخسانہ ہیں۔ اس بہت ہی قبیح بے راہ روی کے نفسی تجزیہ کے ساتھ ساتھ، اس کی اصلاح، روک تھام اور سدباب کے لیے تعلیمی، تہذیبی، اخلاقی، سماجی اور قانونی انتظامات و اقدامات کرنے ہوں گے۔ فقط ایک دو واقعات میں ملوث نفسیاتی مجرموں (Psychopaths) کو قرارِ واقعی سزا تو ملنی ہی چاہیے، لیکن جو لاکھوں جنسی ہوس کا شکار بچے بچیاں ہیں اور جو بول نہیں پاتے اور جو ساری عمر اُسی کسک میں یاسیت (Depression) میں مبتلا ہو کر بعد از آزردگی دباؤ کے ہیجان (Post-traumatic stress disorder - PTSD) کا شکار ہو جاتے ہیں، اُن کے بارے میں سوچنے کی ضرورت ہے۔ ہر معاشرے، ہر طبقے، ہر قوم اور ہر مذہب کے ماننے والوں میں جنسی جرائم ہوتے ہیں۔ اس میں مشرق اور مغرب کی تمیز کی جا سکتی ہے اور نہ نظریاتی حکیمانہ نسخے کارآمد ہوتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مذہب کی ہمہ طرفہ ترویج اور صبح شام اخلاقی درس (جو ضروری ہے) کے باوجود یہ جنسی فتنہ ہے کہ ختم ہونے کو نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو درسگاہیں کم از کم اِن عیوب سے پاک ہو چکی ہوتیں۔ بدقسمتی سے مشرقی تہذیب ہو یا مغربی سب کو اِس مسئلے کا سامنا ہے۔ تہذیبوں میں جنگ کے جھنجھٹ میں پھنسنے کی بجائے، اس معاملے میں بہتر ہوگا کہ مسئلے کا کوئی سائنسی، تہذیبی اور انتظامی حل تلاش کیا جائے۔
ولہلم رائخ (Wilhelm Reich) جو ایک جید ماہرِ نفسیات تھا، کے مطابق ایک عام آدمی کی بظاہر شخصیت کی بیرونی سطح نہایت مودب، رحم دل، ذمہ دار اور باضمیر دکھائی پڑتی ہے۔ کوئی سماجی المیہ نہ ہوتا، اگر انسان کی یہ ظاہری پرت اس کی گہری قدرتی سرشت سے ہم آہنگ ہوتی۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ ان ہر دو پرتوں کے درمیان ایک وسطی پرت بھی ہے جو نہایت ظالم، سادیت پسند، ہوس پرست، جارح اور حسد جیسی عصبی اُکساہٹوں کا پرتو ہے۔ یہ فرائڈ کے لاشعور (Unconscious) یا جسے دبایا گیا ہے (Repressed) کا اظہار کرتی ہے، سیکس اکانومی کی زبان میں، یہ نمائندہ ہے مجموعی نام نہاد ’’دوسری اجتہاؤں‘‘ (Secondary Drives) کا۔ اب تو اورگان بائیوفزکس (Orgone Biophysics) اور تجزیۂ نفسی (Psychoanalysis) کی سائنس اتنی آگے بڑھ گئی ہے کہ ’’لاشعور‘‘ میں دبی خواہشوں، نفرتوں، محرومیوں اور نفسانی گھٹن کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ میرے دوست آسر اجمل جو چوٹی کے ماہرِ نفسیات ہیں، اُن کی رائے میں زینب کا قاتل ایک نفسیاتی مجرم (Psychopath) ہے جس نے شاید اپنی ’’مردانہ کمزوری‘‘ سے بھنّا کر ایسے وحشت ناک اور کربناک جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ ایسے بیمار مجرم بڑھ رہے ہیں، جیسے جیسے عورتیں اپنے مکمل انسان ہونے کا اظہار کر رہی ہیں۔ ولہلم رائخ اسے فسطائیت سے تعبیر کرتا ہے۔ اس کے خیال میں ’’فسطائیت (Fascism) ایک دبے ہوئے آدمی کا جذباتی رجحان ہے جو ہماری آمرانہ مشینی تہذیب اور اس کے زندگی کے بارے میں میکانکی و ماورائی تصور سے جڑا ہے۔‘‘ فسطائیت باغیانہ جذبات اور سماجی طور پر رجعت پسندانہ نظریات کے باہم شیر و شکر ہونے کا نام ہے۔ فسطائی ذہنیت ایک ’’چھوٹے آدمی‘‘ کی ذہنیت ہے، جو مغلوب ہے اور اختیار و طاقت کے لیے بیتاب ہے اور جو بیک وقت باغیانہ پن کا بھی شکار ہے۔‘‘ جبلی، سماجی، جنسی اور معاشی طور پر مقہور شخص خوفزدگی اور بے طاقتی سے وحشیانہ اظہار سے خلاصی چاہتا ہے، جس کا اظہار ہم جنسی جرائم اور دہشت گردی میں دیکھتے ہیں۔
بچوں اور بچیوں کے حوالے سے جس جنسی ہراسگی، عصمت دری (Molestation) اور دیگر خبائث (Deviations) میں پاکستان کا نمبر دسواں ہے اور یہ ہمارے جیسے معاشروں میں خالی خولی خاندانی تکبر، شرم و پاکیزگی کے دبیز پردوں میں گند گھولتا رہتا ہے اور ہم خبر تک نہیں ہونے دیتے۔ بچوں سے زیادتی کی ایک صورت محرمات کے ساتھ جنسی تعلق (Incest) ہے جس میں قریبی عزیز، رشتے دار، معلم، اور اردگرد کے لوگ ملوث پائے جاتے ہیں۔ بچوں سے جنسی تعلقات (Pedophilia) ایک نفسیاتی و جنسی رجحان ہے جو بچوں کو ہی نشانہ بناتا ہے۔ اس بیماری کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مجرم کو کوئی جواز فراہم کرے۔ معتبر نفسیات دان روبینہ سہگل کی رائے میں جہالت، بیماری، غربت اور ناطاقتی جنسی مجرموں کو کوئی جواز فراہم نہیں کرتے۔ ایسے میں صرف ماں اور خود بچے اس زیادتی کو روک سکتے ہیں بشرطیکہ اُنہیں آگہی ہو کہ جنسی ہوس کیسے ظاہر ہوتی ہے۔ اچھے اور برے چھونے کا فرق کیا ہے اور وہ اپنے جسم اور جنسی اعضا سے آگاہ ہوں۔ اُن کے گھر، درسگاہ اور محلے میں لوگ باشعور ہوں اور بچوں کو آگاہ کریں کہ بدفعلی یا جنسی اظہار کیا ہے اور وہ کیسے مدافعت کریں اور اپنے ماں باپ، اساتذہ یا ذمہ دار لوگوں کو زیادتی سے آگاہ کریں۔ جب اس طرح کی آگہی اور تعلیم کی بات کی جاتی ہے تو ہمارے مذہبی ٹھیکیدار میدان میں کود پڑتے ہیں اور اسے بے حیائی اور فحاشی کے فروغ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو اُنہوں نے اس کا کیا سدباب کیا ہے۔ کیا کلیسائی و دیگر راہبوں پہ یہ الزامات نہیں لگتے رہے اور اُنہیں سزائیں بھی ہوتی رہیں۔ لیکن گناہِ کبیرہ ہے کہ تھمنے کو نہیں۔
مہذب دُنیا میں بچوں کوا سکولوں میں جنسی معاملات اور جنسی تحفظ بارے تعلیم و تربیت دی جاتی ہے۔ بچوں کو اکیلا گھروں پہ چھوڑنے پر والدین کو سزائیں ہوتی ہیں اور سماجی محکمے ایسے بچوں کو جو نظرانداز کئے جاتے ہیں، اپنی تحویل میں لے لیتے ہیں۔
ہمارے ہاں یہ بھی اجازت نہیں کہ اس کا ذکر ہو کہ یہ ہماری مشرقی شان کے خلاف ہے، بھلے اندر ہی اندر کیسے ہی گند مچا رہے۔ جب بچوں کی صحت، پرورش، تعلیم و تربیت اور اُن کی سلامتی کی بات ہوتی بھی ہے تو ٹھوس اقدامات کرنے میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں یا پھر خالی جمع خرچ۔ یا پھر دوچار کو عبرت ناک سزائیں دے کر ایک پوری سماجی وبا کو ڈھانپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بچوں کی سلامتی ہماری ریاست، سیاسی و مذہبی جماعتوں، میڈیا اور دانشوروں کے لیے کتنی اہمیت رکھتی ہے؟ بدقسمتی سے یہ کسی کی اولیت میں شامل نہیں۔ ہم صرف اپنے بچوں کا سوچتے ہیں اور دوسروں کے بچوں کو اپنا بچہ نہیں سمجھتے۔ جس دن ہم دوسروں کے بچوں سے اُسی سلوک کے روادار ہوں گے جو ہم اپنے بچوں کے ساتھ چاہتے ہیں تو پھر کسی زینب کی لاش کچرے کے ڈھیر سے برآمد نہیں ہوگی۔ ہمیں جہاں بچیوں کو مضبوط و توانا اور باشعور بنانا ہے وہیں بچوں کو بھی بچیوں کے بارے میں پاکیزہ انسانی تعلق کا سبق دینا ہے۔ کس کس کا ماتم کریں، کس کس کو روئیں۔ اور جو بول بھی نہیں سکتے، سہم کر یاسیت کے اندھیروں میں گم ہو جاتے ہیں، اُن کا کبھی سوچا ہے؟

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں