آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍شعبان المعظم1439ھ 26؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x

ہمارے ایک دوست روزانہ رکشہ سے سفر کرتے ہیں، آئے دن پیٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ ابھی جو اضافہ ہوا تودوسرے دن جب وہ رکشہ سے دفتر پہنچے تو ڈرائیور نے میٹر سے زیادہ کرایہ طلب کیا اور وجہ یہ بتائی کہ میں نے آج رکشہ میں پیٹرول ڈلوایا ہے اس کی قیمت زیادہ ادا کی ہے ۔ ہمارے دوست نے اس سے حجت کی کہ تمہارا میٹر جتنا کرایہ بتائے گا میں اس سے زیادہ نہیں دونگا کیونکہ وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اگر میں نے تم کو زیادہ کرایہ دیا تو مجھ پر اثر پڑے گا اس طرح وزیرِ خزانہ کو شرمندگی اٹھانا پڑے گی ، لہٰذا تم وہی پیسے لو جو تمہارا میٹر بناتا ہے ۔ رکشہ ڈرائیور ناراض ہو گیا کہنے لگا بابو جی کس حکومت کی بات کرتے ہو جب سے قوم نے اس حکومت کو کیا کہتے ہیں " مینڈک " دیا ہے اس وقت سے ہر چیز روز بروز مہنگی ہو رہی ہے ۔ ہمارے دوست نے اس سے کہا کہ بھائی مینڈک نہیں "مینڈیٹ "دیا ہے وہ کہنے لگا کہ جب صدر اس کا ہے ، حکومت اس کی ہے ، تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہر چیز کے دام بڑھائے جا رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ عوام پر اس کا اثر نہیں ہوگا ۔ کیا عوام کوئی آسمانی مخلوق ہیں جو ڈالر کی قیمت میں اضافہ ، بجلی کے نرخ ،گیس کے دام بڑھنے اور اب پیٹرول ، گیس ، ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے کے باوجود اس کا اثر عوام پر

x
Advertisement

نہیں پڑے گا تو کیا فرشتوں پر پڑے گا!یہ سن کر ہمارے دوست اس کو منہ مانگا کرایہ دے کر جب دفتر پہنچے تو آج ان کی لیٹ لگ گئی یعنی آدھی حاضری ۔
ایک دن ہم اپنے رشتہ دار کے ہاں گئے تو دیکھا کہ صاحبِ خانہ کی بیگم جائے نماز پر بیٹھی زور زور سے دعا مانگ رہی تھیں کہ یا اﷲ ڈالر 100روپے کا کر دے ۔ ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ قوم پہلے ہی ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت سے بیزار ہے اور حکومت کو کوس رہی ہے مگر موصوفہ ہیں کہ دعا مانگ رہی ہیں کہ یااﷲ ڈالر 100روپے کا کر دے ۔ جب یہ دعا سے فارغ ہوئیں تو ہم نے پوچھا کہ خیریت تو ہے آج آپ ڈالر کی قیمت بڑھنے کی دعا کیوں مانگ رہی ہیں۔ وہ بولیں بھائی صاحب ، میں نے اپنے سرتاج سے چھپا کر ، رقمیں بچا بچا کر لاکر میں کچھ پیسے اکھٹے کئے ۔ ایک دن جب میں نے اخبار میں پڑھا کہ لاکرز کو حکومت اپنی تحویل میں لے رہی ہے تو میں نے اپنے سرتاج کو بتایا کہ صبح ہی صبح بنک جا کر لاکر ز سے پیسے نکالنے ہیں جو میں نے آپ کو بتائے بغیر جمع کئے تھے ، وہ پہلے تو ناراض ہوئے کہ تم مجھے ابھی تک اپنا نہیں سمجھتیں ، پھر وہ مجھے بنک لے گئے اور تمام رقم جو بنتی تھی مجھے نکال کر دے دی۔ میں روز اخبار پڑھ رہی تھی کہ ڈالر مہنگا ہو رہا ہے آئے دن 4چھ روپے بڑھ رہے ہیں میں نے اپنی ایک جاننے والی سے پوچھا اور میاں کو بتائے بغیر ڈالر خرید لیا ۔ اب میں روزانہ اخبار دیکھتی ہوں کہ ڈالر کتنا بڑھ رہا ہے ، کہیں کم تو نہیں ہو رہا ۔ کیونکہ اگر ڈالر نیچے آگیا اور اب اگر میرے سرتاج کو معلوم ہوا کہ میں نے ان کو بتائے بغیر ڈالر لیا ہے تو وہ پھر کتنا ناراض ہونگے ۔ لہٰذا اس دن سے میں نے پابندی سے نماز شروع کر دی ہے اور روز دعائیں مانگتی ہوں کہ اﷲ میاں ڈالر 100روپے کا کر دے۔اور اللہ نے اُن کی دُعا قبول کرلی ہے اور آج ڈالر 112روپے تک پہنچ گیا ہے ۔ ہم نے جب یہ سنا تو اپنا سر پیٹ لیا ، یا اﷲ کیا ہو گیا ہے کہ صرف اور صرف اپنے مفاد کی خاطر ہم قوم کو مہنگائی کے عذاب میں ڈال رہے ہیں ۔ ایک طرف تو حکومت ہر چیز پر ٹیکس پر ٹیکس لگانے پر تلی ہوئی ہے تو دوسری طرف ہماری قوم بھی صرف اور صرف اپنے مفادات میں لگی ہوئی ہے ۔ کسی کو بھی یہ خیال نہیں آتا کہ اس خود غرضی کا انجام کیا ہوگا؟ ہماری معیشت کیسے سدھرے گی؟ ۔سندھ میںہرہفتے 3دن کے لئے CNGبند کر دی جاتی ہے اور کبھی کبھی 4دن بھی بند کردی جاتی ہیں ۔ پنجاب میں پہلے ہی ہفتے میں 3دن CNGبند ہوتی ہے ، بجلی کا تو کوئی حال ہی نہیں ۔بجلی کے لئے بھی حکومت کہتی ہے کہ ہمارے پاس بجلی سرپلس ہوگئی ہے مگر ابھی تک ہر جگہ لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے ۔حالانکہ ابھی سردیاں ہیں اور پورا ملک ٹھنڈ کی لپیٹ میں ہے ۔گرمیاں شروع ہوں گی تو پھر پتہ چلے گا کہ کتنی بجلی سرپلس ہے ۔حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی آئے دن پیٹرول ، گیس اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے مہنگائی مزید بڑھ رہی ہے ۔ تنخواہوں میں حکومت کوئی اضافہ نہیں کرتی بلکہ اپنے اسمبلی ممبران کے لئے جو سہولتیں نہیں ہوتیں ان کو بھی حاصل کرنے کا بل پاس کرلیتی ہے ۔
آئے دن ممبران کی تنخواہوں میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے اوروہ ٹیکس بھی نہیں دیتے۔ حکومت کا ڈالر الگ داموں میں فروخت ہوتاہے تو منی چینجرز کا الگ داموں میں فروخت ہو رہا ہے ۔ اس ملک کے وزیرِ خزانہ آئے دن قیمتیں بڑھانے کے بعد یہ فرماتے ہیں کہ اس سے عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ غالباً ان کا اشارہ آم کی طرف ہے عام کی طرف نہیں۔ کیونکہ اب آم کا سیزن بھی ختم ہوچکا ہے ۔ اﷲ ہی اس عوام پر اپنا خاص کرم فرمائے ۔ (آمین ).

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں