آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات12؍شعبان المعظم 1440ھ 18؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Defense Firing Case To Word Complicated

ڈیفنس فائرنگ کیس میں اینٹی کار لفٹنگ سیل کے ایس ایچ او اور ساتھی انسپکٹر سمیت 6 پولیس اہلکاروں کی گرفتاری اور اسلحہ برآمد کرنے کے باوجود اصل ملزم کی تلاش کی گتھی سلجھنے کی بجائے الجھتی دکھائی دے رہی ہے کیونکہ ذرائع کے مطابق واردات میں مبینہ طور پر ملوث ایس ایس پی اینٹی کار لفٹنگ سیل کے دو گن مین جو اصل ملزم قرار دیئے جارہے ہیں گرفتار نہیں ہو سکے ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق نوجوان انتظار کی کار پر مبینہ طور پر فائرنگ کرنے والے دونوں ملزمان اینٹی کار لفٹنگ سیل میں تعینات نہیں ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم پولیس کانسٹیبل بلال اور دانیال کا تعلق پولیس کے سیکورٹی زون سے ہے، دونوں اہلکار سادہ کپڑوں میں پولیس پارٹی کے ساتھ چیکنگ کر رہے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب فلمی انداز کے پولیس ایکشن میں ڈیفنس میں خیابان اتحاد کے قریب خیابان بخاری پر پولیس کو جل دے کر فرار ہونے کی کوشش میں انتظار نامی نوجوان کی کار پر فائرنگ بلال اور دانیال نے کی تھی ۔

ڈی آئی جی سی آئی اے آفس کے ذرائع کے مطابق اس امر کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے کہ ایس ایس پی اینٹی کار لفٹنگ سیل کی سیکورٹی کے اہلکار کلفٹن میں اس آپریشن میں شریک کیوں ہوئے اور یہ کہ انہوں نے کاروائی کے دوران وردیاں پہننے کی بجائے سادہ کپڑے کیوں پہنے ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق ایس ایچ او سمیت 6 پولیس اہل کار گرفتار کرا دیے گئے تو ان دو مبینہ طور پر اصل ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیوں نہیں کرایا گیا، اب اگر ان دو ملزمان کو بے گناہ نوجوان کے قتل کے مقدمے میں کسی وقت گرفتار کرایا بھی جاتا ہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ وہ واردات میں استعمال کیے گئے نائن ایم ایم پستول ہی تفتیشی پولیس کو دیں گے۔

ان کی مرضی کے دیئے گیے ہتھیار فارنزک ٹیسٹ کے دوران یقینی طور پر موقع سے برآمد کئے گئے، نائن ایم ایم پستول کے 16 خول سے قطعی طور پر میچ نہیں کر پائیں گے۔ یہ امر بھی یقینی ہے کہ زیر حراست دو انسپکٹرز اور دیگر چار اہلکاروں کے ضبط کیئے گئے پانچ نائن ایم ایم پستول بھی ان گولیوں سے میچ نہیں کریں گے، ایسے میں انصاف کی امیدیں دم توڑتی نظر آ رہی ہیں یا کہیں ایسا تو نہیں ہورہا کہ اصل ملزمان کو بچانے کی بجائے کسی اور کو معاملے میں فٹ کرادیاجائے۔

ذرائع کے مطابق اس امر کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے کہ فائرنگ کے دوران موقع سے چلی جانے والی لڑکی کون تھی، کاریں چھیننے والے ملزم ہونے کے شبہ میں اگر نوجوان انتظار کو زخمی یا قتل کردیا گیا تھا تو اس کی ساتھی لڑکی کو فرار ہونے کا موقع کیوں دیا گیا۔

ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ نوجوان کا قتل گاڑی چھیننے والے ملزمان کی تلاش کے دوران اچانک فائرنگ کے واقعہ نہیں بلکہ مبینہ طور پر کسی لڑکی کا چکر ہے کیونکہ اگر فائرنگ اتفاقی واقعہ تھی تو گاڑی کے ٹائر کو نشانہ کیوں نہیں بنایا گیا، فائرنگ کے دوران ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے نوجوان کو ہی کیوں گولیاں ماری گئیں، موقع سے چلی جانے والی لڑکی کون تھی؟ ان سوالات کے جواب تلاش کیے جا رہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں