آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تمام قوتیں مل کر بھی مسلم لیگ ن کو شکست نہیں دے پارہیں۔چالیس سیاسی جماعتوں کا اتحاد بھی مسلم لیگ ن کو کمزور نہیں کرسکا۔پنجاب میں بلوچستان کی طرز پرتبدیلی کا خواب دیکھنے والے ناکام ہوئے ۔ارکان اسمبلی کی اکثریت سے ٹیلی فونک رابطے اور خفیہ ملاقاتیں کی گئیں مگر کوئی خاطر خواہ کامیابی نصیب نہیں ہوسکی۔تاثر ہے کہ ریاض پیرزادہ اور رضاحیات ہراج جیسے دوستوں نے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی مگر ارکان اسمبلی کی اکثریت سے جواب ملا ہے۔کہا جاتا ہے کہ نجف سیال کی علالت کے باعث ہراج فیملی کے متحارب قوتوں سے رابطوں میں شدت نہیں رہی جبکہ ریاض پیرزادہ کوبھی کاظم خان سے قریبی تعلقات کا پاس رکھنا چاہئے تھا،بہرحال مسلم لیگ ن میں بڑی دراڑ ڈالنے میں ناکامی ہوئی ہے۔شہباز شریف نے پنجاب کو مضبوطی سے تھاما ہوا ہے۔نوازشریف کی نااہلی کے بعد شہباز شریف کو ہدف تنقید بنایا گیا۔حدیبیہ پیپر ملز کیس میں عدالتی محاذ پر ناکامی کے بعد سیاسی انتقام شروع کیا گیا۔سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مردہ گھوڑے میں روح پھونکی گئی مگر کینیڈین پلٹ علامہ اس معاملے پر عوامی دلچسپی کھو چکے ہیں۔ہر تین ماہ بعد قادری صاحب کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کا خیا ل آتا ہے اور پھر کوئی درپردہ ایجنڈا مکمل کرکے غائب ہوجاتے ہیں۔گزشتہ رات شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں طاہر

القادری کی تضادات سے بھری ویڈیوز کو دکھایا گیا۔کسی بھی مسلمان پر ایسی ویڈیوز دیکھنے کے بعد لرزہ طاری ہونا فطری ہے۔ایک ویڈیو میں علامہ طاہر القادری نے قرآن پاک اٹھا کر کہا کہ میں نے ماڈل ٹاؤن مسجد کی امامت اس لئے چھوڑی کہ شریف خاندان مجھے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتا تھا۔جبکہ دوسری ویڈیو میں طاہر القادری منبر رسولﷺ پر کھڑے ہوکر بیان دے رہے ہیں کہ شریف خاندان نے کبھی بھی مجھ سےسیاسی کام نہیں لیا۔جو شخص قرآن پاک اٹھاکر کچھ کہے اور پھر منبر رسول ﷺ پر کھڑے ہوکر مختلف بات کہے تو اس کی ساکھ کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔بہرحال تنہا طاہرا لقادری کے بعد چالیس جماعتوں کو بھی طاہر القادری کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔آصف زرداری اور عمران خان بھی طاہر القادری کے اسٹیج پر ہاتھ باندھ کر کھڑے تھے۔ملکی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ چالیس جماعتوں کے قائدین ایک اسٹیج پر تھے اور پنڈال میں بندے نہیں تھے۔
میںسمجھتا ہوں کہ متحارب قوتوں کی حمایت یافتہ جماعتوں کی اس سے بڑی تذلیل نہیں ہوسکتی۔شہر لاہور کا کینیڈین پلٹ علامہ،عمران خان اور زرداری کے ایجنڈے کو مسترد کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ووٹر کو طاقت کے ذریعے من پسند کام کے لئے استعمال کیا جائے۔نوازشریف کی نااہلی اور شہباز شریف پر مسلسل وار کے باوجود آج کے دن تک دوست کامیاب نہیں ہوسکے۔تمام قوتیں اس بات پر متفق ہیں کہ مسلم لیگ ن کو سیاسی میدان میں شکست دینا ممکن نہیں ہے۔
آج کی صورتحال میں دو مضبوط رائے پائی جاتی ہیں۔پہلی رائے کے مطابق عام انتخابات کو موخر کردیا جائے اور مسلم لیگ ن کی ساکھ مزید خراب کی جائے۔کیونکہ کچھ قوتوں کو لاہور کے جلسے کی ناکامی کے بعد یقین ہوچکا ہے کہ ان قوتوں کے بغیر چار درجن سے زائد جماعتوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ایک سازشی تھیوری یہ بھی گردش کررہی ہے کہ کچھ حلقےاس جلسے کی مدد سے عوامی مقبولیت چیک کررہےتھے۔وگرنہ جماعت الدعوۃ اور لبیک کے ذریعے پندرہ سے بیس ہزار لوگ جمع کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔مگر طاہر القادری،عمران اور زرداری کو ریسکیو نہیں کیا گیا ،کیونکہ ان کا اپنا عوامی وزن دیکھنا چاہتے تھے۔بعض قوتوں کو اپنی حمایت کے بغیر ان تینوں کے سیاسی وزن کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہے۔18ہزار سے20ہزار کرنا ممکن ہوتا ہے مگر ایسی کوئی چھڑی نہیں ہے کہ 8ہزار ووٹوں کو 20ہزارکردیا جائے۔عام انتخابات 2013میں مسلم لیگ ن کی جیت دیکھنے کے بعد قوتوں نے نوازشریف کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا۔بیشک ریکارڈ چیک کرلیں۔عوامی رائے کا کوئی بھی سروے کروا کر دیکھ لیں ،آج بھی نوازشریف کی مسلم لیگ ن پنجاب کی مقبول ترین جماعت ہے۔اس لئے کچھ دوستوں کی خواہش ہے کہ نوازشریف کو روکنے کا واحد طریقہ ہے کہ عام انتخابات کو موخر کردیا جائے اور مسلم لیگ ن کو اقتدار سے دوررکھا جائے،مگر ایسے میں عمران خان اور پی پی پی صبر نہیں کرسکیں گے۔تحریک انصاف طویل ٹیکنو کریٹ حکومت کو برداشت نہیں کرسکے گی۔دوسرا آپشن مقررہ وقت پر عام انتخابات کا انعقاد ہے۔مگر ایسے میں مسلم لیگ ن پھر واپس آجائے گی۔
اس لئے اب مسلم لیگ ن کی پنجاب میں وجہ مضبوطی شہباز شریف کے خلاف مہم اپنے عروج پر ہے۔نیب کی جانب سے وزیراعلیٰ پنجاب کو طلبی کے نوٹس کا اچھی طرح سے مطالعہ کیا مگر میں اب تک یہ سمجھنے سےقاصر ہوں کہ عوام کے پیسے کا کونسا غلط استعمال یا نقصان ہوا ہے ،جو نیب کے دائرہ اختیار میں آتا ہے او ر اس پر نوٹس جاری کیا گیا ہے۔کم از کم نوٹس تو اس حوالے سے خاموش ہے۔ویسے نوٹس پڑھ کر لگتا ہے کہ متعلقہ افسر نے تو صرف دستخط کئے ہیں،باقی نوٹس کا نزول کہیں اور سے ہوا ہے۔کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر شہباز شریف سے نیب کے کسی فرد کو اپنی تعیناتی کے حوالے سے گلہ ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ شریف النفس شخص کے صبر کا امتحان لیں۔کاش چیئرمین نیب آشیانہ اور پیراگون کے ساتھ ساتھ لاہور اور کراچی کی مشہور ہاؤسنگ سو سائٹی کی بھی تحقیقات کا حکم دے سکتے۔شہباز شریف کو چھیڑنے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔مجھے اس دن سے ڈر لگتا ہے کہ جس دن شہباز شریف کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور وہ حقائق قوم کے سامنے لاکر رکھ دیں۔کوئی مانے یا نہ مانے،آج لوگ شہباز شریف پر اعتماد کرتے ہیں۔ان کے ناقد اور مخالف بھی ان کی ایمانداری کی گواہی دیتے ہیں۔مگر کسی مخصوص مقصد کے لئے ان کوہدف بنانا نامناسب ہے۔نیب کو ایسے فیصلے لینے چاہئیں جس سے یہ تاثر زائل ہو کہ وہ پنجاب حکومت کے حوالے سے ذاتیات پر نہیں اتری ہوئی۔وقت گزر جاتا ہے مگر کردار یاد رہ جاتے ہیں۔نوازشریف کے بعد شہباز شریف ایک ایسا سیاستدان ہے ،جس کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔اپنی ذاتی انااور ذاتی اختلاف میں کسی سے انتقام لینا بہت غلط ہے۔خدارا شہباز شریف کو ضائع مت کریں۔یہ شخص ملکی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں