آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 26؍ جمادی الثانی 1441ھ 21؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسرائیل کے وزیر اعظم بیامین نیتن یاہو کا حالیہ دورہ تاج محل محبت کی اس لازوال اور شہرہ آفاق یادگار کے لئے نئے سال کے آغاز میں ہی ایک بہت بڑی اہانت کا باعث ہے۔ سرخ رنگ میں ملبوس اپنی بیگم سارا کے ہمراہ وہ ایک گھنٹے سے زائد کیلئے تاج محل کے احاطے میں مقیم رہے. اس دوران وہ مسلم ہندوستان کی عظمت رفتہ کے درخشاں پہلوؤں سے لطف اٹھاتے رہے،حسب دستور وہ بعد ازاں تاج محل کے سامنے مشہور مرکزی بینچ پر بیٹھے جہاں انہوں نے کئی تصاویر کھینچیں،شہزادی ڈائنا کی موت کے بعد اسکو ڈائنا بینچ کہا جانے لگا1992ء میں ڈائنا نے اسی بینچ پر اپنی وہ شہرہ آفاق تصویر بنوائی تھی جس میں وہ حد درجہ تنہا اور بے یار و مدد گار نظر آئیں،اسکی اشاعت کے بعد شہزادہ چارلس کے ساتھ انکی کشیدگی واضح طور پر سامنے آئی جسکے ٹھیک دس ماہ بعد انہوں نے علیحدگی کا با ضابطہ اعلان کردیا تھا۔
نیتن یاہو کا استقبال یوگی آدتیہ ناتھ نے کیا جو بھارتی صوبے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ہیں جہاں آگرہ میں تاج محل واقع ہے، یہودی وزیراعظم نے نمائشی مسکراہٹوں کے بیچ سنگ مرمر کے بنے محل کو محبت کی ناقابل فراموش یادگار قرار دیا،اگرچہ موقع کی مناسبت سے یہ الفاظ صحیح ہونے کے باوجود انہیں سنجیدہ نہیں لیا جاسکتا مگر ایک صہیونی سیاستدان کیلئے مسلمانوں کی میراث کی

تعریف کرنا قدرے تکلیف دہ رہا ہو گا کیونکہ اسرائیل روز اول سے ہی مسلم تہذیب اور میراث کی بیخ کنی میں مصروف ہے تاکہ یہودی ریاست کی غارتگری اور جبر کو نہ صرف جاری رکھا جاسکے بلکہ اسکے حق میں دلائل بھی پیش کئے جاسکیں، معزز مہمان کیلئے یہ بات کافی تسکین کا باعث رہی ہوگی کہ اسکے میزبان بھی نہ صرف مسلمانوں کی میراث سے نفرت رکھتے ہیں بلکہ اسکی بیخ کنی کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں، ہندو شدت پسند بی جے پی جو ملکی اور صوبائی دونوں حکومتوں پر قابض ہے تواتر سے تاج محل کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہے،گزشتہ سال کے اوائل میں حکومت سنبھالنے کے فوری بعد یوگی آدتیہ ناتھ نے تاج محل کو یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ یہ ’ہندوستانی کلچر‘ کی نمائندگی نہیں کرتا۔
آزادی کے بعد تاج محل نہ صرف بھارت کے تاریخی جاہ وجلال کی نمائندہ علامت رہا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر سیاحت کو فروغ دینے میں اس کا کلیدی کردار رہا ہے جو ہنوز جاری ہے،،مگر چونکہ نفرت اور دوئی ہندو شدت پسندی کا خاصا رہا ہے اس لئےسیاست میں ان کا اثر و نفوز بڑھ جانے سے اس میں کافی شدت آئی ہے، یہی وجہ ہے کہ تاج محل کو بھی نفرت اور تعصب کا نشانہ بننا پڑ رہا ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندرا مودی جو اسلام کے تئیں اپنی سخت گیریت کی وجہ سے ہندوؤں کے ایک بڑے حلقے میں تحسین کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں نے جب اقتدار سنبھالاتو اسکے بعد مسلمانوں اور انکی میراث پر حملوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا، مودی کے برسر اقتدار آنے کے صرف چھ ماہ بعد ہندو شدت پسند وکیلوں کے ایک گروہ نے عدالت میں عرضی دائر کردی کہ تاج محل اصل میں بھگوان شیو سے منسوب ایک مندر ہے جس کا اصل نام تاجو مہالایا ہے اور یہ کہ ان کو یہاں پر ہندو رسوم اور عقائد کے ساتھ عبادت کرنے کی اجازت دی جائے۔مرکزی درخواست گزار ہری کرشن جین کی جانب سے عرضداشت میں یہ بھی گزارش کی گئی کہ تاج محل کے احاطے میں مدفون تمام لاشیں نکالی جائیں اور یہاں اسلامی عبادت پر فوری پابندی لگا دی جائے۔2000ء میں بھارتی سپریم کورٹ نے ایک ایسی ہی عرضداشت کو خارج کردیا تھا جس میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ تاج محل اصل میں ایک ہندو بادشاہ کی تعمیر کردہ عمارت ہے۔
گزشتہ سال جوں ہی شدت پسند بی جے پی نے بھارت کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش کی حکومت سنبھالی تو اس کے بعد سے تاج محل پر حملوں کا ایک لا متناہی سلسلہ شروع ہو گیا ہے،خود وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس پر کئی حملے کئے،ایسے ہی ایک حملے میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’’تاج محل بھارت ماتا کے بچوں کے خون پسینے سے بنایا گیا ہے‘‘ اس بیان کا واضح مقصد تاج محل کو اس کی محبت اور پیار کے ساتھ جڑی موجودہ پہچان کو ختم کرکے ظلم اور جبر سے منسلک کرنا تھا جو مسلمانوں کے خلاف دور حاضر کے پروپیگنڈے سے مماثلت رکھتا ہے،اقتدار حاصل کرنے کے فوراً بعد جب آدتیہ ناتھ نےحکومت کا پہلا بجٹ پیش کیا تو اس میں ثقافتی میراث کے ضمن میں تاج محل کا کہیں پر بھی ذکر نہیں تھا، اس کے چھ مہینے بعد حکومت کی جانب سے جاری کردہ نئے سیاحتی کتابچے سے بھی تاج کو نکال دیا گیا،اگرچہ نئے سیاحتی مقامات کے تحت ہندو اور بدھ مت سے وابستہ درجنوں نئی عمارتوں کو شامل کیا گیا تھا مگر حیرت انگیز طور پر دنیا کے ساتویں عجوبے کے طور پر پہچان رکھنے والے تاج محل کو یکسر فراموش کردیا گیا،بی جے پی کے ایک مرکزی ترجمان انیلا سنگھ نے حکومت کے اس فیصلے کا دفاع کچھ اس انداز میں کیا: ’’جن لوگوں نے ہندوستان کے جذبات کو کچلا تھا ان کے دن گزر گئے ہیں،اب ہندو جو بھی چاہیں گے وہ کریں گے‘‘۔
تاج محل کی عالمی شہرت اور بھارت میں سب سے زیادہ سیاحوں کو اپنی طرف راغب کرنے کے باوجود حکومت نے اس کی حفاظت کیلئے فنڈنگ پر قدغنیں عائد کی ہیں،حالانکہ اتر پردیش میں سیاحت سے ہونے والی آمدنی میں تاج کا حصہ بیس فیصدی سے بھی زیادہ ہے،اگرچہ بھارت میں عورتوں کے خلاف تشدد کی وجہ سے عمومی طور پر سیاحت خاص کر بین الاقوامی سیاحوں کی آمد میں کمی واقع ہوئی ہے مگر اس کے باوجود گزشتہ سال باسٹھ لاکھ افراد تاج محل دیکھنے آئے، یوں تاج محل بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی جانب سے تسلیم شدہ ثقافتی مقامات میں لوگوں کی حاضری کی وجہ سے دوسرے نمبر پر رہا،مگر یہ سب کچھ ہندو شدت پسندوں کیلئے چنداں معنی نہیں رکھتا بلکہ اس سے ان کی نفرت کو مزید اشتہا ملتی ہے۔ حکومت کی جانب سے تاج محل کو نظر انداز کرنے کے بارے میں جب بھارتی میڈیا میں ہلکے پھلکے انداز میں تھوڑا ذکر ہوا تو حکمراں جماعت کے ایک ممبر صوبائی اسمبلی سوم دت چیخ اٹھے اور انہوں نے تاج محل کو بھارت کی تاریخ اور ثقافت کیلئے ایک دھبہ قرار دیا،اور تاج محل کو تعمیر کرانے والے مغل بادشاہ شاہجہان پر یہ الزام بھی لگایا کہ وہ ہندوؤں کا قتل عام کروانا چاہتے تھے،’’اگر یہ تاریخ ہے تو یہ بہت افسوسناک ہے ۔میں آپ سےمکمل گارنٹی کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم یہ تاریخ بدل دیں گے‘‘۔
پس نوشت:
تاج محل کے ساتھ جڑی ہوئی یادوں میں ہمارے بچپن کا ایک یادگار دور ہے جب گھر کے سب لوگ سردیوں میں بھارت کی سیاحت کیلئے نکلتے تھے مگر اب حالات واقعی بہت گھمبیرہوگئےہیں، ہندوستان میں زہریلے پروپیگنڈے کے ذریعے ایک متبادل تاریخ بنائی جا رہی ہے جس میں تاج محل کا زیادہ دیر تک ایستادہ رہنا شاید اب ممکن نہ رہے۔