آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اچھا ہوا کہ ترجمان تحریک انصاف نعیم الحق نے لاہور چیئرنگ کراس کا کثیرالجماعتی شو فلاپ ہونے کی تصدیق اور ذمہ داری خود قبول کرلی ورنہ خان صاحب نے اس ناکامی کا سہرا اور الزام بھی جیو/ جنگ گروپ پر دھر دینا تھا، جمہوری نظام کو قربان کرنے کے درپے ’’جمہوری چھاتا بردار‘‘ عظیم الجثہ اسٹیج پر الگ الگ کرتب دکھانے پر مصر تھے، زمانہ نیا اور اسکرپٹ پرانا اور پھر سامعین و حاضرین بھی تو ہر روز ایک سا تماشا اور سیاسی اداکاری کے رنگ دیکھ دیکھ کر تنگ آچکے، پس ’’اسٹیج‘‘ کھچا کھچ بھرا تھا اور پنڈال خالی، حد یہ ہے کہ استعفیٰ لینےکی بجائے دینا پڑگیا۔
بقول غالب؎
تھی خبر گرم کہ غالب کے اڑیں گے پرزے
دیکھنے ہم بھی گئے تھے پر تماشہ نہ ہوا
مرتا کیا نہ کرتا، ٹھنڈ میں عوام کے ٹھنڈے رسپانس پرلعن طعن کردی گئی، اسی پارلیمنٹ پر جس کے قائد ایوان بننے کا خواب برسوں سے دل و دماغ کو بےسکون و بےکیف کئے ہوئے ہے۔ شریف سرکار کے دشمن اورایک دوسرے کےمتعلق انتہائی ذلت آمیز الزامات لگانے والوں نے نئے فن کے مظاہرے کے لئے ایک ہی اسٹیج کا انتخاب کیا، غیرملکی کزن میزبان تھے، کیسی ’’رحمت‘‘ کی گھڑی تھی کہ خان صاحب کو کچھ سیاسی طور پر عطا ہوا یا نہیں، اپنے ہم راز کا استعفیٰ اور زرداری صاحب کی صورت ایک اور مقامی کزن ضرور مل گیا۔

کہا جا رہا ہے کہ شو فلاپ ہوجانے کے بعد بظاہر غبارے سے ہوا نکل چکی ہے لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ ’’ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں‘‘۔ ایک اندازہ ہے کہ کھلاڑی کچھ دن آرام اور پھر وارم اپ ہوکر اپنی ہی نیندیں حرام کرنے کے لئے کمربستہ ہو رہے ہیں، کھیل آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے، نیب کیسز کی تفتیش کا نتیجہ دینے کی تاریخ یعنی 28 جنوری آنے کو ہے، خان صاحب اپنے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے استعفے بغل میں دبائے ’’امپائر‘‘ کی ’’سیٹی‘‘ کا انتظار کر رہے ہیں، راقم کی نظر میں خان صاحب ہرصورت میچ جیتنے کی خواہش اور پریشانی میں نظرانداز کر رہےہیں کہ نئی حرکت سے چار سال اور اس سے پہلے کی کمائی، ہاتھ کے میل کی طرح تیزی سے اتر رہی ہے، وہ جس کرپشن کے خاتمے کے نعرے پر اپنی اقتدار کی عمارت کھڑی کرنا چاہتے ہیں اس کی تعمیر میں ان ہاتھوں کو شامل کرلیا ہے جو آپ کے بقول قومی دولت لوٹنے اور ملکی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔ آپ ’’مقبول رہ نما‘‘ ہونے کے باوجود اس در پرجا پہنچےہیں جو خود ’’بانجھ‘‘ ہے، آپ جلد بازی میں وہ راستہ اختیار کر رہے ہیں جو منزل کی بجائے نئی بھول بھلیوں کی غلام گردش ہے، آپ وہ زبان استعمال کررہے ہیں جو عوام کی نہیں ’’غیرمنتخب خواص‘‘ کی ہرزہ سرائی قرار دی جاتی ہے، آپ اپنا دوست بننے کی بجائے خود سے دشمنی پر تل چکے ہیں۔ آپ اپنا بیانیہ کہیں رکھ کر بھول چکے ہیں، رات کے اندھیرے میں حملے کے بعد آج آپ کی زبان سے وہ پارلیمنٹ معتوب ہے جسے ریاستی اداروں پر فضیلت اور جمہوریت کی ماں کا درجہ حاصل ہے، آپ پارلیمنٹ کے قائد ایوان بننے کے شدت سے خواہش مند ہیں، قومی اسمبلی کا ریکارڈ منہ چڑھا رہا ہے کہ آپ 443 اجلاسوں میں سے تو صرف20 مرتبہ تکلیف کرکے ایوان آئے تاہم عوام کے ٹیکسوں سےاپنی57 لاکھ سے زائد تنخواہ لینا نہ بھولے، جہاز جہانگیر ترین کا استعمال کیا لیکن ٹریول وائوچرز کی مد میں8 لاکھ40 ہزار سرکاری خزانہ سے وصول کرنا اپنا حق سمجھا، آپ کی لعن طعن کے باوجود ایوان کا رخ کرنے والے آپ کی جماعت کےارکان سرکار کو32 کروڑ میں پڑے، آپ اپنے سیاسی دشمن کو اقتدار سے نکالنے اور خود کو ’’صادق امین‘‘ قرار دلوانے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن طاقت کا سرچشمہ عوام سے خود کو دور کرنے کی راہ تلاش کرلی، آپ عوامی جلسوں اور اجتماعات سمیت ضمنی انتخابات کے نتائج ملاحظہ فرمائیں، نظر آجائے گا کہ چار سال پہلے آپ کہاں کھڑے تھے اور اب آپ کی مقبولیت کا گراف کیا ہے؟ دیکھا جائے تو 28 جولائی کے بعد آپ کو واحد بااعتماد، محب وطن اور کامیاب لیڈر ہونا چاہئے تھا، اعلیٰ عدلیہ کا ’’بےداغی‘‘ ہونے کا تمغہ عطا ہونے کے بعد عوامی پذیرائی عروج پر ہونی چاہئے تھی لیکن شاید آپ تو ’’ہیٹرک‘‘ کو ہی اپنی بڑی اور حقیقی کامیابی سمجھ بیٹھے ہیں، حقیقت عیاں ہےکہ آپ نےخود یا اپنی پارٹی کی صفوں کو سیدھا تک نہیں کیا، ذاتی کامیابیوں کا بوجھ پارٹی کے سرتھوپ کر اس کے قد کاٹھ میں اضافے کی بجائے اس کی کامیابی کو بوجھل کر دیا ہے جو کامیابی نہیں ناکامی کا زینہ کہلاتا ہے۔فادھرسپریم کورٹ سے ’’نااہل‘‘ قرار دیئے جانیوالے سابق وزیراعظم نواز شریف ’’مجھےکیوں نکالا‘‘ کا بیانیہ منوانے کےمشن کو کامیابی اور ثابت قدمی سےجاری رکھے ہوئے ہیں، اداروں پر دشنام طرازی کیساتھ ساتھ، اپنا پیغام عوام تک پہنچانے میں بھی کامیاب ہورہے ہیں، اقتدار سے بےدخلی کے بعد ’’ڈیل‘‘ کے حوالے سے دشمنوں کے اندازے نہ صرف غلط ثابت کر رہے بلکہ عدالتوں میں پیش ہوکر کٹہرے کے باہر اپنی صفائی پیش کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کررہے، منظم انداز میں حلیفوں پرکڑی تنقید اور انہیں ’’لاڈلا‘‘ قرار دینے کے ہدف میں پذیرائی بھی حاصل کررہے ہیں، اپنی جماعت میں صاحبزادی کی مخالفت اور انہیں ’’طفل مکتب‘‘ قرار دیئے جانے کے باوجود اپنی سیاسی جانشینی کےانتخاب کو ابھی تک تبدیل نہیں کیا، اب زبان پر وہ نالا آہی گیا ہے کہ ’’ججز اپنا فیصلہ واپس لیں‘‘ گو یہ درخواست ابھی قابل قبول نہیں لیکن مستقبل میں اس درخواست پر ’’غور‘‘ کیا بھی جاسکتا ہے، میاں صاحب کو ادراک ہے کہ جس ووٹ کےتقدس اور پارلیمنٹ کی حرمت کی بات جس انداز میں وہ کر رہے ہیں، عوام اس سے متفق و مطمئن ہورہے ہیں، میاں صاحب نے اپنی بحالی اور جماعت کی انتخابی مہم بھرپور انداز میں چلانے کا مشن جاری رکھا ہوا ہے انہیں یقین کامل ہے کہ غیرسنجیدہ اور ناعاقبت اندیش سیاسی و دیگر مشیر ہی معمر ’’کھلاڑی‘‘ کو ’’انجام‘‘ سے دوچار کرنے کیلئے کافی ہیں۔سیاسی میدان میں رسہ کشی کے جاری کھیل میں دھماچوکڑی مچانے کا سامان تیار ہے، ایک اہم حکومتی اتحادی اپنا کنٹریکٹ پورا کرکے اپنا قبلہ کعبہ بدل چکے ہیں جبکہ ایک سے زائد نئے دینی و مذہبی اتحاد بننے کے مراحل میں ہیں جو مشرف دور کی یاد تازہ کریں گے، ن لیگ کے متحد رہنے کے دعوئوں کے درمیان نادیدہ قوتیں اپنی کامیابی کا راگ الاپنے کو ہیں، کیونکہ بعض ن لیگی دھڑے موجودہ سیاسی ابتری میں اچھے آپشن موجود نہ ہونے کی مشکل سے دوچار ہیں اور بات نہ بنی تو حکمران جماعت کی ایک خاصی تعداد آزاد انتخاب لڑنےکا آپشن استعمال کرنے کو ترجیح دےگی۔ طویل عرصے کی شبانہ روز محنت کا پھل نہ ملنے کے باوجود نئے پرانے ’’فنکار‘‘ پرعزم ہیں، عوام میں پذیرائی نہ ملنے کا طوق گلے میں ہے لیکن امید اب بھی قائم ہے۔ عالمی تناظر میں بیرونی محاذوں پرحالات سخت ہیں لیکن طاقتوروں کا اندرونی نظام پر کنٹرول بھی اتنا ہی سخت ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ بےیقینی کی مکدور فضا کا سامان پیدا کرنے کے سوا کوئی راستہ بھی نہیں، واقف حال کہتےہیں کہ مشن ناکام ہوتے رہتے ہیں حوصلہ نہیں ہارنا چاہئے، جب سیاستدان خود سیاست کی قبر کھودنے پر آمادہ و مصر ہوں، خود پر لعن طعن واشگاف کرکے بدزبانی پر فخر کریں تو انہیں جمہوری نظام تباہ کرنے کے مشن میں ’’کامیابی‘‘ سے بھلا کون روک سکتا ہے، پھر کون سے عوام، کیسی اصولی سیاست، کون سی جموریت، کیسا ووٹ کا تقدس اور کون سا بالادست ادارہ پارلیمان، کس کی عزت اور کیسی توقیر، حقیقت یہی ہے کہ جب سب مفاد کے سامنے ہاتھ باندھ کر سرنگوں ہوں تو محض ایک شو فلاپ ہونے سے خطرات نہیں ٹلا کرتے، 28جنوری کو ہفتہ وار تعطیل ضرور ہے لیکن ’’چھٹی‘‘ کا اعلان تو کسی بھی روز ہوسکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں