آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہر داغ کے پیچھے ہویا نہ ہو ہر جرم کے پیچھے ایک کہانی ضرور ہوتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں یہ کہانی اکثر ان کہی رہ جاتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں ایسے اچھے اور سچے کہانی کار میسر نہیں ہیں کہ جو کرداروں کی ذاتی، نفسیاتی الجھنوں اور لغزشوں سے ماحول کے تعلق کو سمجھ سکیں۔ یوں بھی ہمیں واقعات اور حادثات کا تجزیہ کرنے کی مہلت نہیں ملتی ۔ اس فلمی گیت کا مصرع پھر یاد آگیا کہ ’’ آدمی ٹھیک سے دیکھ پاتا نہیں اور پردے پر منظر بدل جاتا ہے‘‘۔ ایک اور مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں قانون کے نفاذ اور عدل کے نظام میں ہیر پھیر کی کافی گنجائش موجود رہتی ہے۔ اور اس طرح جرم اور مجرم صاف چھپتے بھی نہیں اور سامنے یعنی انصاف کے کٹہرے میں آتے بھی نہیں۔ ایسا کم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا جرم ملک کے ضمیر کو جھنجھوڑ دے اور ایک نیم خوابیدہ نظام کو جگا دے ۔ ان دنوں ہم ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہیں۔ قصور کی معصوم زینب کے قاتل کی گرفتاری اور اس کے دل دہلانے والے اعترافات نے ہم سب کو حیران اور پریشان کردیا ہے۔ کتنی ایسی باتیں ہیں جو سمجھ میں نہیں آتیں۔ اب ہمیں بتایا جارہا ہے کہ ملزم سات ایسے ہی جرائم میں ملوث تھا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ایک محدود علاقے میں ایک کے بعد ایک چھوٹی بچی کے اغوا اور اس کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کے لرزہ خیز

واقعات کو کسی حد تک خاموشی کے ساتھ برداشت کرچکے ہیں۔ لیکن کیوں؟ اگر ہم واقعی بے حس ہیں یا ہم اپنے گناہوں اور اپنی ذلتوں سے چھپے رہنے کے عادی بن چکے ہیں تو پھر اس غیظ وغضب کا کیا جواز ہے جس کا ان دنوں اظہار کیا جارہا ہے؟ جذبات واقعی بپھرے ہوتے ہیں۔ ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ قاتل کو سرعام پھانسی دی جائے ۔ اس شور میں پارلیمنٹ کے چند ممبران بھی شامل ہیں اور قوانین میں تبدیلی کی بات ہورہی ہے۔ جوش انتقام میں کوئی نہ کوئی سنگساری کاذکر بھی کرتا ہے۔ عبرتناک سزائوں اور جرائم کے ارتکاب میں کیا رشتہ ہے یہ ایک الگ بات ہے۔ یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ ان دنوں دوسرے کئی جرائم بھی سرخیوں میں ہیں۔ جو جرائم پہلے ہوتے رہے ہیں ان کا ہونا اب حکمرانوں کوبھی پریشان کررہا ہے۔ شاید معاشرے کامزاج تبدیل ہورہا ہے۔ شاید سیاسی کشمکش سے پیدا ہونے والی بے چینی اور مستقبل کے بارے میں بے یقینی اپنا اثر دکھارہی ہے۔ کچھ بھی ہو، ہمارے معاشرے میں جس قسم کے جرائم ہورہے ہیں ان کی روشنی میں سماجی تبدیلی کے عمل کو سمجھنے کی ایک سنجیدہ اور عالمانہ کاوش ضروری ہے۔ یہ کام کوئی کیسے کرے گا کہ جب بہت سی باتیں کھل کرکہی بھی نہیں جاسکتیں۔
اس سارے پس منظر میں مجھے ایک کتاب یا دآگئی کہ جسے ناول تو کہا جاسکتا ہے لیکن جوایک بڑے جرم کے سچے واقعات پر مبنی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے’’ ان کولڈبلڈ‘‘ یعنی دانستہ اور بے رحمی کے ساتھ۔ ہوا یہ کہ1959میں امریکہ کی ریاست کینساس کی ایک چھوٹی ’’ دیہی آبادی میں ایک خاندان کے چار افراد کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا گیا اور یہ سمجھنا مشکل ہوگیا کہ یہ جرم کس نے اور کیوں کیا ہے۔ امریکہ کے صف اول کے ناول نگار ٹرومن کپوٹی نے فیصلہ کیا کہ وہ اس جرم کو اپنی تخلیق کا موضوع بنائیں گے ۔ اپنی ریسرچ کے لئے وہ اس آبادی میں منتقل ہوگئے۔ مقتول خاندان کے ماضی کو کھنگالا اور ان کے پڑوسیوں کے ساتھ وقت گزارا۔ اس عرصے میں پولیس کی تفتیش بھی جاری رہی اور پھر دوقاتل گرفتار بھی ہوگئے ۔ ٹرومن کپوٹی نے ان قاتلوں کی پھانسی تک اس کہانی کا تعاقب کیا ۔ اس کے بعد کا مرحلہ یعنی ناول کا تحریر کیا جانا بالکل آسان نہ تھا ۔ اتنا وقت لگا کہ کتاب کی اشاعت1966کی جنوری میں ممکن ہوسکی۔ لیکن اس حقیقی افسانے نے ایک تہلکہ سا مچا دیا ۔ ایک سال بعد، اس پر ہالی وڈ کی ایک فلم بھی بنی۔ ’’ ان کولڈ بلڈ‘‘ کا شمار امریکی ادب کے شاہکاروں میں کیا جاتا ہے۔ اس ناول میں جنگ کے بعد کے امریکہ کے معاشرے کی ایک جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ یہ ایک جرم کی ہی نہیں بلکہ ایک شہر کی کہانی بھی ہے۔ یہ بات بھی بتانے کی ہے کہ اس ناول کے بعد ٹرومن کپوٹی نے کوئی بڑا کام نہیں کیا ۔ گویا پھر وہ کسی کام کے نہ رہے۔ اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ’’ کوئی نہیں جان سکتا کہ اس ناول نے کیسے مجھے نچوڑ کررکھ دیا ۔ اس نے تو تقریباً مجھے مار دیا ۔ بلکہ ایک طرح سے تو میں واقعی مرگیا۔‘‘
’’ ان کولڈ بلڈ‘‘ کا حوالہ میں نے صرف یہ بتانے کے لئے دیا کہ جو کچھ سطح پر ہوتا دکھائی دیتا ہے اس کی گہرائی میں جانا ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ ہم تو سطح پر رونما ہونے والے واقعات کوبھی غور سے نہیں دیکھتے ۔ ہاں کبھی کبھی ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں کہ جب ہم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھتے ہیں اور پریشان ہوجاتے ہیں کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ گو اس وقت ہماری زیادہ توجہ زینب کے قتل اور اس کے قاتل کی گرفتاری پر ہے لیکن کئی دوسری خبریں بھی ہماری زندگی کےتاریک گوشوں کو اجاگر کررہی ہیں۔ ہر طرف سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ہمارا معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور اس میں قانون کی حکمرانی بہت کمزور ہے۔ کئی خبریں ایسی ہیں جو الگ الگ ایک تفصیلی مطالعے کاتقاضا کرتی ہیں۔ ان میں سے چند کا میں سرسری تذکرہ کرناچاہتا ہوں۔ اور زینب کے قتل کی طرح یہاں بھی سب کچھ بالکل واضح نہیں ہے جو کچھ ہوا ہے اس کا کوئی نہ کوئی تعلق پاکستان کے بنیادی مسائل سے بھی بنتا ہے۔ بہرحال، اگر ہم پورے منظر پر نظر ڈالیں تو معاشرے کی شکستگی کی تو گواہی دینے والی کئی کہانیاں چھوٹی بڑی قسطوں میں ہمارے میڈیا میں چل رہی ہیں اور ان کہانیوں کے اہم کردار وہ ہیں جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ اب آپ ایک نوجوان کے چہرے کو اپنی آنکھیں بند کرکے اپنی یادداشت کے البم سے نکال کردیکھیں۔ نام اس کا تھا نقیب اللہ محسود۔ ایک حسین نوجوان کہ جو کسی فلم یا ڈرامے کا ہیروبن سکے ۔ اور یہ کیسا اتفاق ہے کہ اس کی ہلاکت بھی ایک طرح کے ڈرامے میں ہوئی جس کی ہدایت کاری کے فرائض ایک ولن جیسے پولیس آفیسر رائو انوار نے ادا کئے ۔ پولیس کے جعلی مقابلوں میں ایسے افراد قتل ہوتے رہے ہیں کہ جن کی شناخت ایک دہشت گرد، قاتل یا ڈاکو کی حیثیت سے کی جاتی ہے۔ رائوانوار اس میدان کے شہسوار مانے جاتے ہیں۔ لیکن اب ثابت ہوچکا ہے کہ نقیب اللہ ایک بے گناہ شخص تھا ۔ راو انوار اپنی ٹیم کے ساتھ روپوش ہوگئے اور ان کے بارے میں حیرت انگیز انکشافات کاسلسلہ جاری ہے۔ ظاہر ہے کہ اس ڈرامے میں کسی بھی وقت ایک نیا موڑ آسکتا ہے۔ ہمارے ملک میں لوگوں کے اٹھالئے جانے کے واقعات بھی ہوتے رہتے ہیں۔ واپس آجانے والے اکثر اپنی گمشدگی کی داستان بھی سنانے کی ہمت نہیں کرتے۔
ایک بالکل دوسری نوعیت کا قتل اس ہفتے چارسدہ کی تحصیل شبقدر میں ہوا ۔ نجی کالج کے طالب علم نے فائرنگ کرکے اپنے حافظ قرآن پرنسپل کو قتل کردیا اور اسے توہین رسالت پر اللہ کی راہ میں قتل قرار د۔یتے ہوئے الزام قبول کرلیا۔ خبروں میں بتایا گیا کہ ملزم نے گزشتہ دنوں تحریک لبیک کے فیض آباد کے دھرنے میں شرکت کی تھی ۔ جس پر کالج میں اسے غیر حاضر قرار دیاگیا اور اس وجہ سے ملزم اور مقتول میں کوئی تکرار بھی ہوئی تھی۔ شبقدر کایہ نوجوان جس دنیا میں جی رہا تھا اس سے بالکل مختلف دنیا میں کراچی کا نوجوان انتظار احمد زندہ تھا۔ وہ ڈیفنس میں اپنی ایک خاتون دوست کے ساتھ کار میں جارہا تھا کہ جب سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس والوں نے اس لئے اس پرگولی چلادی کہ اس نے اشارے کے باوجود اپنی کار روکی نہیں تھی ۔ اب انتظار کی ہلاکت بھی ایک معمہ بن گئی ہے اور نئے انکشافات متوقع ہیں۔ یہ سب کچھ ہے لیکن کوئی ٹرومن کپوٹی دکھائی نہیں دیتا جوہمیں ہماری اپنی کہانی سناسکے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں