آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ 16ستمبر 1998کی بات ہے ترک بری فوج کے سربراہ جنرل اتیلا آتش نے ترکی اور شام سے ملحقہ سرحدی علاقے حطائے کا دورہ کرتے ہوئے اس وقت شام میں مقیم دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ کے سرغنہ عبداللہ اوجالان، جو ترکی کے اندر دہشت گرد کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے تھا، کو متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے اور شام کے اندر اس دہشت گرد کے خلاف کارروائی کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ کار باقی نہیں بچا ہے۔ ترک بری فوج کے کمانڈر انچیف کی دھمکی نے فوراً اپنا اثر دکھایا اور شام نے چند روز کے اندر اندر اوجالان کو مجبوری کے تحت ملک سے نکال باہر کیا اور ترکی نے شام پر چڑھائی کرنے کا جو فیصلہ کیا تھا اس کو ملتوی کردیا، تاہم شام پر اس کی دھاک بیٹھ گئی۔ اس دوران امریکہ نے ترکی کے راستے اپنے فوجی دستے عراق بھجوانے اور ترکی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے اس دہشت گرد کو کینیا سے گرفتار کرواتے ہوئے ترکی کے حوالے کردیا۔ اس وقت کی ایجوت حکومت نے دہشت گردوں کے سرغنہ کی گرفتاری کو کیش کرواتے ہوئے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کروایا اور اس کے بعد ہونے والے عام انتخابات میں غیر متوقع طور پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کا اقتدار ایک بار پھر حاصل کرلیا۔ شام کے اس وقت کے صدر حافظ الاسد کی وفات کے بعد بشار الاسد نے

عنانِ اقتدار حاصل کیا اور پہلی بار ترکی اور شام کے تعلقات میں بڑی گرمجوشی دیکھی گئی جس کا سلسلہ تین چار سال تک جاری رہا لیکن سن 2011ء میں مشرقِ وسطیٰ میں ’’عرب بہار‘‘ کے نام سے شروع ہونے والی تحریک نے شام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اگرچہ اس وقت کے ترکی کے وزیراعظم اور موجودہ صدر ایردوان نے بشار الاسد سے اپنی دوستی اور برادرانہ تعلقات ہونے کی وجہ سے شام میں بھی جمہوری اصلاحات متعارف کروانے اور عوام میں اپنی مقبولیت کے ذریعے اقتدار جاری رکھنے کا مشورہ دیا لیکن شام کے اس ڈکٹیٹر، جس کی جڑیں ڈکٹیٹرشپ ہی سے سینچی گئی تھیں، کسی بھی صورت ملک میں ڈیمو کریسی اور جمہوری اقدار کو متعارف کروانے پر راضی نہ ہوئے جس پر ملک کے اندر ان کے خلاف نفرت پھیلتی چلی گئی اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہوگیا اور اس وقت سے اب تک اس ملک میں امن قائم ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔ اس کی وجہ ایران اور روس کا اس ملک میں قدم جمانا ہے۔ ایران اس طریقے سے سعودی عرب پر اپنا دبائو رکھتے ہوئے مستقل بنیادوں پر اس ملک میں رہنا چاہتا ہے جبکہ روس جس کا مشرقِ وسطیٰ میں کبھی اثرو رسوخ نہیں رہا، اب پہلی بار شام کے ذریعے نہ صرف اپنا فوجی اڈہ قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے بلکہ شام کے صدر بشار الاسد کے اقتدار کو بچاتے ہوئے اور انہیں نئی زندگی بخشتے ہوئے اس ملک پر اپنی گرفت قائم کرچکا ہے۔
ترکی اور امریکہ جو ہمیشہ ہی ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں اور اب بھی اگرچہ اتحادی ہیں لیکن 15 جولائی 2016ء کی دہشت گرد تنظیم ’’فیتو‘‘ کی ناکام بغاوت کے بعد اس اتحاد میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور دونوں ممالک کے تعلقات نہ صرف سردمہری کا شکار ہیں بلکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کو اب شک و شبہات کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ترکی جو کہ کچھ عرصہ قبل تک امریکہ کے تیار کردہ ’’عظیم تر مشرقِ وسطیٰ‘‘ پلان کی مکمل حمایت کرتا چلا آیا ہے اب اس پلان سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کرچکا ہے۔ امریکہ کو جب ترکی سے مشرقِ وسطیٰ سے متعلق اپنی باتیں منوانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تو اس نے دہشت گرد تنظیم ’’پی کے کے‘‘ اور اس کی شام میں موجود ایکسٹینشن ’’پی وائی ڈی اور وائی پی جی‘‘ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا شروع کردیا اور شام میں ان کی ٹریننگ کا بندوبست کرتے ہوئے تیس ہزار کرد فوجیوں پر مشتمل ’’ایس ڈی ایف‘‘ فورس تشکیل دینے کا بیڑا اٹھایا جس پر ترکی نے کئی بار امریکہ کو اس قسم کی فورس تشکیل دینے سے بازرہنے سے متعلق متنبہ بھی کیا لیکن امریکہ نے ترکی کی ایک نہ سنی اور اپنے پلان پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھا۔ ترک صدر ایردوان نے امریکہ کی اس ہٹ دھرمی کی پروا کیے بغیر شام کے علاقے عفرین میں موجود دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے اور اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانے کے لیے ’’شاخِ زیتون‘‘ کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا جس کے چند ہی روز بعد امریکی صدر ٹرمپ نے ترک صدر کو ٹیلی فون کرتے ہوئے فوجی آپریشن جلدازجلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا جس پر ترک صدر ایردوان جو ’’جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ‘‘ پارٹی کے چیئرمین بھی ہیں، نے پارٹی کے مرکزی دفتر میں خطاب کرتے ہوئےامریکی صدر کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم اپنے اہداف حاصل کیے بغیر اور علاقے میں دہشت گردوں کا مکمل صفایا کیے بغیر فوجی آپریشن ختم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے ہیں۔ ابھی فوجی کارروائی شروع ہوئے صرف چند دن ہوئے ہیں۔ ایسی بھی کیا جلدی ہے؟ میں صدر ٹرمپ سے پوچھتا ہوں، انہوں نے کتنی جلد افغانستان میں فوجی آپریشن مکمل کیا؟ وہ افغانستان میں بیس سال سے اور عراق میں اٹھارہ سال سے فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں اور جب ترکی اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے فوجی کارروائی کررہا ہے تو اس کو جلد از جلد ختم کرنے کو کہا جا رہا ہے۔‘‘ ترکی اپنے اس موقف پر سختی سے کاربند ہے اور اس نے عفرین کے قریب اسٹرٹیجک لحاظ سے بڑی اہمیت کے علاقے ’’جبلِ برصایا‘‘ پر قبضہ کرتے ہوئے اپنی پیش قدمی تیز تر کردی ہے۔ امریکہ نے ترکی کو مزید آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے ترک حکام کو شام میں موجود دہشت گرد تنظیم ’’وائی پی جی اور پی وائی ڈی‘‘ کو مزید اسلحہ فراہم نہ کر نے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس سلسلے میں امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میک ماسٹر نے ترکی کے صدارتی ترجمان ابراہیم قالن سے ٹیلی فون پر بات چیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ علاقے میں برسرپیکار کرد دہشت گرد تنظیموں کو مزید اسلحہ فراہم نہیں کیا جائے گا لیکن ترکی نے ایک بار پھر امریکہ پر واضح کردیا ہے کہ وہ اس وقت تک فوجی کارروائی جاری رکھے گا جب تک علاقے میں ایک بھی دہشت گرد موجود ہے۔ ترک فوجی دستوں نے 557دہشت گردوں کا صفایا کردیا ہے۔ ترکی نے ’’شاخِ زیتون‘‘ فوجی آپریشن کے ذریعے اب تک کئی ایک مقاصد حاصل کیے ہیں۔ ترکی نے شام اور عراق سے ملنے والی اپنی سرحدوں کو مستقبل کے لیے بھی محفوظ بنالیا ہے۔ دوسرا مقصد بین الاقوامی طور پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حاصل حقوق اور سلامتی کونسل کی 2005ء کی قرارداد نمبر1624اور 2014ء کی قرارداد نمبر 2170اور2178کے تحت، جس میں تمام ممالک کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہر ممکنہ اقدامات کرنے کے حقوق عطا کیے گئے ہیں، کے تحت فوجی آپریشن کرتے ہوئے بین الاقوامی رائے عامہ کی بھی ہمدردیاں حاصل کرلی ہیں اور بین الاقوامی قوانین ہی کے تحت اس فوجی آپریشن کو جاری رکھا ہوا ہے اور اسے اب تک علاقے میں پیش قدمی کرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں