آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کے موضوع پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے زیر اہتمام اگلے روز کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں سیمینار منعقد ہوا ، جس سے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا ۔ اگرچہ سیمینار کے مقررین اس بات پر متفق تھے کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے اور اس وجہ سے پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل تابناک ہے لیکن جمہوریت اور جمہوری عمل کو اس وقت بھی درپیش خطرات کی سب نے نشاندہی کی ۔ ان خطرات کی نشاندہی اس وقت کی گئی ، جب جمہوری حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کرنے والی ہیں ۔ میاں محمد نواز شریف کا کہنا یہ تھا کہ جمہوری حکومت کے دو تین ماہ باقی رہ گئے ہیں ، جس کے بعد عام انتخابات ہونے والے ہیں ۔ اس کے باوجود سیاسی مطلع صاف نہیں ہے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ ملک میں جمہوریت کا مستقبل سوالیہ نشان کیوں بنا ہوا ہے ؟ اس سیمینار کا اہتمام مسلم لیگ (ن) کے رہنما سید شاہ محمد شاہ نے کیا تھا ، جو ترقی پسندانہ اور قوم پرستانہ سوچ کے حامل دانشور ہیں ۔ وہ سیاسی حلقوں کو ایسے مباحث میں ملوث کرتے رہتے ہیں ۔
یہ اور بات ہے کہ ’’ پاکستان میں جمہوریت کا مستقبل ‘‘ ایک ایسا موضوع ہے ، جس پر کافی عرصے سے بحث ہو رہی ہے مگر اس پر مزید بحث کی آج بھی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے ۔ پاکستان پیپلز

پارٹی کی قیادت بارہا یہ کہہ چکی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ صرف شریف خاندان کے سیاسی مستقبل کو خطرہ ہے ۔ مسلم لیگ (ن) اسے جمہوریت کو خطرے سے تعبیر کر رہی ہے ۔ پیپلز پارٹی کے قائدین کے اس طرح کے بیانات سے بھی یہ بحث ختم نہیں ہوئی ہے کیونکہ پیپلز پارٹی کے کچھ رہنما ایسے بھی ہیں ، جو آج بھی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت کو خطرات تاحال موجود ہیں ۔ کراچی میں منعقد ہونے والے مسلم لیگ (ن) کے سیمینار میں محمود خان اچکزئی ، میر حاصل خان بزنجو ، مہتاب اکبر راشدی ، سید غلام شاہ ، آئی اے رحمن اور دیگر نے بھی خطاب کیا ۔ ہر ایک مقرر نے جمہوریت کو درپیش خطرات کے الگ الگ اسباب بیان کیے لیکن زیادہ تر مقررین اس بات پر متفق تھے کہ آئین پر عمل درآمد نہ ہونے سے جمہوریت پنپ نہیں سکی اور عدلیہ نے آمروں کے اقدامات پر اپنے فیصلوں کو مہر ثبت کی ۔ ماضی کے حوالے سے یہ بات درست ہے کہ عدلیہ نے آمروں کے غیر آئینی اقدامات کر درست قرار دیا مگر آج جو کچھ عدلیہ کر رہی ہے ، اسے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف جیسی سیاسی جماعتیں اس لیے درست قرار دے رہی ہیں کہ عدلیہ کے فیصلوں سے میاں نواز شریف ، ان کے اہل خانہ اور ساتھی متاثر ہو رہے ہیں ۔ پاکستانی فوج اور موجودہ عدلیہ کی جانب سے بھی بار بار یہ یقین دہانی کرائی جا رہی ہے کہ جمہوریت کو پٹری سے نہیں اترنے دیا جائے گا ۔ اس لیے جمہوریت کو درپیش خطرات کے حوالے سے دیگر سیاسی جماعتیں مسلم لیگ کی تشویش میں شریک نہیں ہیں اور وہ بظاہر کسی حد تک مطمئن ہیں کہ جمہوریت کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔
مذکورہ سیمینار میں وفاقی وزیر اور نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل خان بزنجو نے خطاب کرتے ہوئے ایک ایسی بات کہی ہے ، جسے صرف مسلم لیگ (ن) کی تشویش قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ اس پر ان تمام حلقوں کو تشویش ہے ، جو پاکستان میں جمہوریت کے لیے جدوجہد کرتے رہے ہیں ۔ میر حاصل بزنجو کا کہنا یہ تھا کہ کچھ قوتیں 18 ویں آئینی ترمیم سے خوف زدہ ہیں اور وہ اس ترمیم کو ختم کرنا چاہتی ہیں ۔ یہی بات پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی بھی بار بار کہتے رہے ہیں اور وہ مسلسل اس حوالے سے سیاسی اور جمہوری قوتوں کو خبر دار کر رہے ہیں ۔ میر حاصل بزنجو اور میاں رضا ربانی کی اس بات کو سنجیدگی سے لینا چاہئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اگر جمہوریت پر حملہ نہیں ہوا تو اس کا بنیادی سبب 18 ویں آئینی ترمیم ہے ۔ یہ ترمیم نہ صرف فوجی مداخلت کے لیے رکاوٹ ہے بلکہ عدلیہ بھی اب اس ترمیم کی وجہ سے ماضی کی طرح فیصلے نہیں دے سکتی ۔ اب نظریہ ضرورت کے تحت فیصلوں کی گنجائش نہیں رہی ۔ یہ ٹھیک ہے کہ جمہوری حکومتیں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی ہیں اور یہ بات بھی کسی حد تک درست ہے کہ لوگوں کی جمہوری حکومتوں سے توقعات پوری نہیں ہوئی ہیں ، اس کے باوجود دوسری جمہوری حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے جا رہی ہے ۔ اس کا سبب بھی 18 ویں آئینی ترمیم ہے ۔ پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر 18 آئینی ترمیم جیسا دفاع موجود ہے تو پھر جمہوریت کو کس بات کا خطرہ ہے ؟ مسلم لیگ (ن) والوں کا کہنا یہ ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے پہلے اگر 18 ویں ترمیم کی حامی سیاسی لیڈر شپ سیاست سے باہر ہو گئی اور 18 ویں آئینی ترمیم کی سیاسی جماعتیں آئندہ عام انتخابات میں اکثریت حاصل نہ کر سکیں تو پھر 18 ویں ترمیم خطرے میں پڑ جائے گی اور پھر وہیں سے نہ صرف جمہوریت بلکہ پارلیمانی جمہوری نظام کو لپیٹنے کے حالات پیدا ہو جائیں گے ۔ اگر 18 ویں ترمیم نہ رہی تو پاکستان جیسے وفاق میں کوئی دوسرا جمہوری نظام چلانا بہت مشکل ہو گا ۔ یہ ٹھیک ہے کہ 18 ویں آئینی ترمیم کی وجہ سے فی الحال جمہوریت کو خطرات نہیں ہیں لیکن عام انتخابات کے بعد 18 ویں ترمیم کے لیے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں ۔ یہ ایک اندازہ ہے لیکن بہت ہی خطرناک اندازہ ہے ، جسے فی الحال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں