آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج دو شخصیات کی باتیں ہیں۔ ایک وہ جن سے میں خوب واقف ہوں لیکن ان پر کوئی افتاد پڑی ہے جس کی تفصیل سے بے خبر ہوں۔ وہ ہیں اردو زبان اور ادب کے سرکردہ عالم سحر انصاری۔ اور دوسری شخصیت کراچی کی ایک لڑکی ہے جس سے میں واقف نہیں ۔ اس نے نادار ، بھوکے اور ترسے ہوئے بچّوں کے لئے فٹ پاتھوں پر مفت اسکول کھول دئیے ہیں مگر کچھ علم کے بد خواہوں نے لڑکی کا جینا حرام کر رکھا ہے ، وہ اس کے مدرسوں کو اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں اور اس معاملے کی تفصیل سے باخبر ہوں۔ وہ ہے شہر کی ایک گمنام مگر دلیر اور جرات مند لڑکی انفاس زیدی۔
پروفیسر سحر انصاری کا قصہ یوں ہے کہ اس برس کراچی آرٹس کونسل کی دسویں عالمی اردو کانفرنس میں سب ہی موجود تھے، نہ تھے تو سحر انصاری۔ بعض معاملوںکو کریدنا اچھا نہیںلگتا۔ کسی سے کچھ نہ پوچھا۔کسی نے خود ہی بتایا کہ شہر کی سرگرم خواتین نے ان کا سوشل بائیکاٹ کردیا ہے اور احتجاجی تحریک چلا کر نہ صرف آرٹس کونسل میں بلکہ کراچی یونیورسٹی میں بھی ،جہاں انہیں استاد کادرجہ حاصل ہے،ان کا داخلہ بند کرادیا ہے۔سبب؟ بس اتنا بتایا گیا کہ انہوں نے کسی طالبہ کے شانے پر ہاتھ رکھ دیا تھا ۔ ان خاتون نے شور مچا دیا۔ فیس بُک پر ذرا تفصیل پڑھی تو وہ یہ تھی کہ سحر انصاری نے کسی طالبہ کو ہراساں کیا تھا، آسان لفظوں میں یوں کہئے

کہ لڑکی پر دست درازی کی تھی۔ اس پر شدید احتجاج ہوا، تحقیق ہوئی اور پروفیسر صاحب قصور وار پائے گئے ۔ جن لوگوں نے انہیںدیکھا ہے ، اچھی طرح جانتے ہیں کہ علم اور ہنر کی ذمہ داریاں اٹھاتے اٹھاتے ان کی کمر جھک گئی ہے۔شانے ڈھلک گئے ہیں، سر کے بال دراز ہیں اس لئے سفیدی چھپ رہی ہے لیکن جو چیز پوشیدہ نہیںوہ ان کی عمر ہے ۔اپنے اوپر کلاسیکی شاعری اتنی لاد لی ہے کہ بے دھڑک مبالغہ کرتے ہیں۔ لاکھ کم کرکے بتائیں لیکن پچاسی سے کم نہیں۔ پھر حضورِ علم کا یہ عالم کہ ادب یا زبان کا کوئی بھی معاملہ ہو، ان کے سامنے کھلی کتاب کی طرح حاضر رہتا ہے۔نہایت عمدہ شعر کہتے اور بے مثال گفتگو کرتے ہیں۔ یہ سارے ہنر یوں ہی نہیں آجاتے۔ اس کے لئے علم سے عشق کرنا پڑتا ہے اور عشق میں ایک بات طے ہے کہ جمال پرستی اور کچھ کرے یا نہ کرے، انسان کے مزاج میں ودیعت ضرور کرتی ہے ۔ اس عمر میں انسان کے اندر کا خوف جاتا رہتا ہے اور اپنی باقی رہ جانے والی سانسوں کی گنتی کے خیال سے وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ اسے کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ہماری دنیائے ادب میں دو چار نہیں، کتنے ہی اکابرین نے اپنی ضعیفی کے دنوں میں لکشمن ریکھا پار کی اوربارہا عشق میں ڈوبے مگر جب نکلے تو خشک ہی نکلے۔ مشتاق احمد یوسفی صاحب کی بات پر ذرا سا پردہ ڈال کر کہہ سکتا ہوں کہ سپاہی کا مومن ہونا ضروری ہے، بے تیغ ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ سحر انصاری کو جتنا میں جانتا ہوں، اور ان کی ہونہار بیٹی سے جتنا میں واقف ہوں، کہہ سکتا ہوں کہ اس کے والد سب کچھ کرسکتے ہیں، عورتوں پر دست درازی نہیں کرسکتے۔ ادھر پڑھے لکھے لوگوں کا چل چلاؤ کچھ زیادہ ہی تیز ہوگیا ہے۔ یہ جو تھوڑے بہت چھڑی ٹیکتے ہوئے آجاتے ہیں، ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے طوفان اٹھانا کوئی اچھی بات نہیں۔ ان کے علم کے دھارے سے ہم اوکھ ہی سے سہی جو تھوڑا بہت فیض پالیتے ہیں،لوگ ہمیں پیاسا دیکھ کر دنیا کا کون سا حظ اٹھانا چاہتے ہیں؟ بعض معاملوں میں ذرا دیر کو نظر پھیر لینے سے کوئی قیامت نہیں آجاتی۔لوگو، ان کی قدر کرو۔ایسے لوگ پھر نہیں آنے کے۔
اب بات ایک سر پھری لڑکی کی۔ خدا جانے اسے بیٹھے بٹھائے کیا سوجھی۔ اس نے غریب اور نادار بچّوں کے لئے خالی پڑے ہوئے فٹ پاتھوں پر مفت اسکول کھول دئیے۔ اس کے کام کو شہرت ہوئی، نام کو نہیں ہوئی اس لئے انفاس علی کم سے کم میرے لئے بالکل اجنبی ہے۔تین سال ہوئے جب اس نے کچرا چننے والے بھوکے ننگے بچوں کو فٹ پاتھ پر پڑھانا شروع کیا۔ انفاس نے ان کو نہلایا ، دھلایا، کپڑے، جوتے اور کھانا دیا اور ان کے ہاتھ میں پہلی بار کتاب تھمائی۔
اس کے ساتھ ہی ان کے بچپن کا بھولپن بھی لوٹ آیا اور ان کے اندر چھپی فطری خوبیاں باہر آنے لگیں۔ آخری خبریں آنے تک انفاس علی نے فٹ پاتھوں پر اپنے اسکول کی سات شاخیں قائم کردیں جہاں دو ہزار سے زیادہ نادار بچے مفت تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ پھر وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ ایک بات تو ہمارے مقدر میں لکھی گئی ہے کہ جوں ہی کوئی شخص نیکی اور بھلائی کا کام شروع کرے، کہیں نہ کہیں سے کوئی نہ کوئی بدخواہ اٹھ کھڑا ہوگا اور اس کام میں اڑنگے ڈالنا شروع کردے گا۔ کراچی میں یہی ہوا۔مثال کے طور پر کلفٹن کے علاقے میں ایک ایسا ہی اسکول یوں اکھاڑ پھینکا جارہا ہے کہ وہیں ایک شاندار عمارت بنی ہے جس کے سامنے غریبوں کے بچے فٹ پاتھ پر بیٹھ کر پڑھتے ہوئے اچھے نہیں لگیں گے۔ مگر یہ بااختیار حکام کے کلیجے میں کیسا درد اٹھا کہ وہ بھی یہ اسکول اجاڑنے پر تل گئے۔ سنا ہے کہ کسی بڑے حاکم کی بیٹی نے انفاس علی کو اپنے دفتر میں بلا کر دھمکی دی کہ دو دن میں یہ اپنا بوریا بسترا لپیٹو ورنہ یہ سارا تام جھام اٹھا کر بھاڑ میں جھونک دیا جائے گا۔ کوئی ان سے پوچھے کہ بھلا کیوں؟ تو ایک جواب یہ دیا جارہا ہے کہ کھلے ہوئے فٹ پاتھوں پر بچوں کو یوں بٹھانا ان کے لئے خطرناک ہو سکتا ہے۔ اب کوئی ان سے پوچھے کہ یہی بچے جب بدن پر چیتھڑے لگائے گلی کوچوں میں کچرا چنتے پھر رہے تھے اور جب اوباش ندیدے دانت نکوسے ان کو گھور رہے تھے تو کیا اُس وقت یہ محفوظ و مامون تھے؟
صوبہ سندھ کو تو جیسے تعلیم سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ سنا ہے چھ ہزار اسکول بند پڑے ہیں۔ ان کی کھنڈر جیسی عمارتیں میں اپنی آنکھوں سے دیکھ آیا ہوں۔ ہزاروں گھوسٹ اساتذہ کہیں آسمانوں میں بیٹھے بڑی بڑی تنخواہیں لے رہے ہیں۔اب رہ گئے بچّے، وہ گلیوں میں رُل رہے ہیں۔ اس طرح کی خواری کے بعد مجھے تو نہیں لگتا کہ اب کوئی نئی انفاس پیدا ہوگی۔ کسی اور کی نہیں،ہماری انفاس علی شاہ زیدی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں