آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سوات میں فوجی یونٹ کے اسپورٹس ایریا میں یوم یکجہتی کشمیر سے دو روز قبل 3فروری کو خودکش حملہ اس کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوستان پاکستان میں کھلم کھلا مداخلت کر رہا ہے۔ اس سے قبل بھی بلوچستان سمیت ملک کے دیگر علاقوں سے انڈین ایجنٹ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ بھارتی نیوی کے افسر کلبھوشن یادیو نے تو سب کچا چٹھہ بیان کردیا ہے۔ ہندوستان کی پاکستان دشمنی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ سوات حملے میں 11سیکورٹی اہلکار شہید اور 13زخمی ہوئے تاہم وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس افسوسناک واقعہ کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ایسے بزدلانہ حملے دہشتگردی کے خلاف ہمارا عزم کمزور نہیں کرسکتے۔ سوات حملہ انتہائی افسوسناک اور ہمارے ارباب اقتدار کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ حملہ آور حساس علاقہ ہونے کے باوجود آخر کیسے فوجی یونٹ تک پہنچا؟ ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اور خفیہ ایجنسیوں نے سیکورٹی کے قبل از وقت فول پروف اقدامات کیوں نہیں کئے؟ اس کی راستے میں تلاشی کیوں نہیں لی گئی؟ ان سوالات کا جواب یہ ہے کہ ہمارے سیکورٹی نظام میں کئی خرابیاں ہیں جن کو دور کرنا ازحد ضروری ہے۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ سوات حملے کی کڑیاں بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے ملتی ہیں۔ افغانستان میں امریکہ کی سرپرستی میں افغان

انٹیلی جنس بھارتی خفیہ تنظیم سے مل کر پاکستان میں دہشت گردی کی وارداتیں کروا رہی ہیں۔ ماضی میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں ہندوستان کے ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت حکومت پاکستان اقوام متحدہ اور امریکہ کو پیش کئے گئے تھے مگر اقوام متحدہ اور امریکہ دونوں نے اس حوالے سے سخت مایوس کیا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں جنوبی ایشیا میں امن نہیں چاہتے۔ اقوام عالم کاعالمی ادارہ مغربی ممالک کے حقوق کا محافظ بن چکا ہے اُسے مسلمانوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جارہی ہے۔ کوئی روکنے والا نہیں؟ اقوام متحدہ اور یورپی یونین سے بھلا خیر کی توقع کیسے کی جاسکتی ہے؟ البتہ اسلامی سربراہی کانفرنس بھی امت مسلمہ کے مسائل حل کرانے میں عملاً ناکام ہوچکی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ او آئی سی کو جو کردار ادا کرنا چاہئے تھا وہ اُس نے ادانہیں کیا۔ 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے دن ایک نجی ٹیلی وژن پر 2گھنٹے کی لائیو نشریات میں ون آن ون گفتگو کرتے ہوئے میں نے عرض کیا کہ کشمیر اور فلسطین کے دیرینہ معاملات اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر موجود ہیں۔ یو این او کی سلامتی کونسل میں قراردادیں تو ان ایشوز پر پیش ہوجاتی ہیں مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ ان پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور اقوام متحدہ کے چیپٹر 6میں مسئلہ کشمیر موجود ہے اس اہم معاملے کو ہمیں عالمی ادارے کے چیپٹر 7میں لانا چاہئے کیونکہ چیپٹر 7میں آنے والے ایشو پر عمل درآمد کے لئے بین الاقوامی فورسز کو بھجوایا جاتا ہے جبکہ چیپٹر 6میں محض قراردادوں پر ہی گزارا کیا جاتا ہے۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کو جب تک زیادہ متحرک اور فعال نہیں بنایا جائے گا اُس وقت تک اسلامی ممالک کے بڑے ایشوز حل نہیں ہوسکتے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ تقسیم ہند کی رو سے جموں و کشمیر پاکستان کا حصہ بنتا ہے مگر ہندوستان نے بدنیتی سے انگریز سامراج سے سازباز کرکے 1947ء میں جموں وکشمیر میں اپنی فوجیں داخل کردی تھیں۔ 1948میں پاکستان کے قبائلی عوام اور مجاہدین نے جو علاقے بزور بازو انڈیا سے واپس لئے آج اُسے ہم آزاد کشمیر کاخطہ کہتے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ اگر اُن قبائلی مجاہدین کو واپس نہ بلایا جاتا تو آج سری نگر ہندوستان کے پاس نہ ہوتا۔ قائداعظمؒ نے جموں و کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ہے اور ہماری شہ رگ گزشتہ 70سالوں سے بھارت کے قبضے میں ہے۔ انڈیا نے ہمیشہ مذاکرات کا ڈھونگ رچایا ہے۔ ہندوستان کو سب سے پہلے مقبوضہ کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کرنا ہوگا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینا ہوگا بصورت دیگر جموں وکشمیر کا معاملہ حل نہیں ہوسکے گا۔5 فروری کا دن اس بار بھی حسب روایت یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر پاکستان اور عالمی سطح پر بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ لاہور سمیت ملک بھر میں بھارتی ظلم و بربریت کے خلاف احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں منعقد کی گئیں۔ آج سے 27سال قبل 5فروری 1990کو پہلی پہیہ جام ملک گیر ہڑتال سابق امیر جماعت اسلامی اور مجاہد ملت قاضی حسین احمد کی اپیل پر کی گئی تھی۔ بلاشبہ ان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا اور کشمیری قیادت کو اکھٹا کیا۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور ہماری زندگی و موت کا مسئلہ ہے۔ اس سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔ اسی تناظر میں گزشتہ ہفتے الحمرا ہال لاہور میں جماعت اسلامی پنجاب کے زیراہتمام عظیم الشان قومی سیمینار تحریک آزادیٔ کشمیر اور قاضی حسین احمد کے عنوان سے منعقد ہوا۔ سیمینار کی صدارت امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے کی جبکہ اس موقع پر مقبوضہ کشمیر سے حریت رہنما سید علی گیلانی اور صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان کاخطاب ویڈیو لنک کے ذریعے براہ راست بھی سنایا گیا۔
قومی سیمینار میں عبدالرشید ترابی، میاں مقصود احمد، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ اوردیگر اہم رہنما شریک ہوئے جبکہ بیگم کلثوم قاضی اور قاضی حسین احمد کی صاحبزادی سمیحہ راحیل قاضی نے بھی اس سیمینار میں خصوصی شرکت کی۔ چیرمین جموں و کشمیر رابطہ کونسل عبدالرشید ترابی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے نوجوان اس بات پر متفق ہوچکے ہیں کہ کشمیر کو آزادی مذاکرات سے نہیں ملے گی، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جہاد کا راستہ اختیار کیا ہے۔ قاضی حسین احمد اخوان مجاہدین اور کشمیری مجاہدین کے پشتیبان تھے۔ کشمیری قوم ان کی گراں قدر خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد یوں گویا ہوئے کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی حکمرانوں کا رویہ ناقابل فہم اور قابل مذمت ہے۔ کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ 70سالوں سے بھارت کشمیریوں کی حق خودارادیت کی آواز کو دبا نہیں سکا۔ قاضی حسین احمد کا کردار اس حوالے سے لازوال ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم وبربریت کی انتہا کرچکا ہے۔ اس موقع پر آصف لقمان قاضی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قاضی حسین احمد نے امت کا خواب دیکھا اور اس حوالے سے اپنی جدوجہد کو منظم کیا۔ قاضی صاحب کشمیر سے لے کر آذربائیجان تک کے مظلوم مسلمانوں کو آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔ مقبوضہ کشمیر سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے سید علی گیلانی نے کہا کہ کشمیری قوم دنیا کی بڑی طاقت کے ساتھ نبردآزما ہے۔ پاکستان ہماری وکالت کرتا ہے، ہم اس پر مشکور ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے کردار کو مزید بڑھائے اور دنیا میں قائم اپنے سفارتخانوں کو خصوصی ٹاسک دے۔ صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قاضی حسین احمد کی کشمیر پر کاوشوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور طاقتور اقوام مسئلہ کشمیر کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ آزادی کشمیریوں کا حق ہے۔ ہم مسلسل اپنی سیاسی و سفارتی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ فرید احمد پراچہ کا بھی کہنا تھا کہ یوم یکجہتی کشمیر قاضی حسین احمد کا صدقہ جاریہ ہے۔ برہان مظفر وانی کے جنازے میں آٹھ لاکھ کشمیریوں نے شرکت کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ بھارت کے غاصبانہ قبضے سے نجات چاہتے ہیں۔ قومی سیمینار سے پیر غلام رسول اویسی اور دیگر اہم قومی شخصیات نے بھی خطاب کیا اور تحریک آزادیٔ کشمیر کے حوالے سے قاضی حسین احمد کی گراں قدر خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں