آپ آف لائن ہیں
اتوار 4؍رمضان المبارک 1439ھ 20؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ممبئی ( مانیٹرنگ ڈیسک)بولی وڈ ’کوئین‘ کنگنا رناوت نے اپنی فلم ’مانی کارنیکا: دی کوئین آف جھانسی‘ کے خلاف تنازع کھڑا کرنے والے برہمن انتہاپسندوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فلم میں کوئی بھی نامناسب منظر نہیں۔خیال رہے کہ کنگنا رناوت کی آنے والی فلم ’مانی کارنیکا: دی کوئین آف جھانسی‘ پر3 دن قبل ریاست راجستھان کا برہمن گروپ ’سروا برہمن مہاسابھا‘ نے احتجاج کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ فلم میں ان کی رانی یعنی ’جھانسی کی رانی‘ کے نامناسب سین ہیں۔برہمن گروپ کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ انہیں اپنے ذرائع سے خبر ملی ہے کہ حال ہی میں فلم میں ’جھانسی کی رانی‘ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے برٹش انگریز عہدیدار کے درمیان رومانوی مناظر پر مبنی گانے کی شوٹنگ کی گئی ہے‘۔تاہم اب برہمن انتہاپسندوں کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کنگنا رناوت نے کہا ہے کہ ان کی فلم کے خلاف وہ لوگ ہی تنازع کھڑا کر رہے ہیں جو ایسے واقعات سے شہرت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔این ڈی ٹی وی کے مطابق نشریاتی ادارے ’آئی ای این ایس‘ کو کنگنا رناوت نے بتایا کہ ان کی فلم میں کوئی بھی نامناسب سین نہیں،ان کی فلم ہندوستان کی خاتون کی جانب سے انگریزوں سے جنگ آزادی پر مبنی ہے۔اداکارہ نے واضح کیا کہ فلم میں کوئی بھی رومانوی سین نہیں، اور نہ ہی

x
Advertisement

فلم رومانٹک ہے۔جودھپور ایئرپورٹ پر نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے اداکارہ نے کہا کہ برہمن انتہاپسند ایسی خواتین کے خلاف جھوٹے تنازعات پیدا کرنے میں مصروف ہیں، جنہوں نے وطن کی آزادی کے لیے انگریزوں سے جنگ لڑی۔خیال رہے کہ ’مانی کارنیکا: دی کوئین آف جھانسی‘ فلم کی کہانی ’جھانسی کی رانی‘ یعنی لکشمی بائی کے گرد گھومتی ہے۔’جھانسی کی رانی‘ نے 1857 میں انگریزوں کے خلاف لڑی جانے والی جنگ آزادی میں بہادری سے انگریزوں کا مقابلہ کیا۔ان سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ جنگ کے دوران زخمی ہونے کے بعد میدان سے نکل گئیں، اور ایک صحرا میں ایک فقیر کے پاس گئیں، جن سے انہوں نے کہا کہ وہ انہیں اس طرح جلادیں کہ ان کے وجود کی خاک بھی انگریزوں کو نہ ملے۔کہا جاتا ہے کہ ’جھانسی کی رانی‘ اس عمل سے انگریزوں کو پیغام دینا چاہتی تھیں کہ وہ اسے نہ تو زندہ پکڑ سکتے ہیں اور نہ ہی مری ہوئی حالت میں اسے دیکھ سکتے ہیں۔’جھانسی کی رانی‘ کی زندگی پر بننے والی فلم میں اداکارہ کنگنا رانی کے روپ میں نظر آئیں گی۔دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر کمال جین نے بھی برہمن گروپ کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔علاوہ ازیں بھارتی میڈیا میں یہ خبریں بھی شائع ہوئی ہیں کہ ممکنہ طور پر فلم کی نمائش بھی مؤخر کی جائے گی۔ڈائریکٹر کرش کی اس فلم کو رواں برس اپریل میں ریلیز کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے فلم کی ٹیم نے واضح طور پر کوئی اعلان نہیں کیا۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں