آپ آف لائن ہیں
منگل6؍رمضان المبارک 1439ھ 22؍ مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
لندن(پی اے)بے ہوش کئے بغیر ذبح کی جانے والی بھیڑوں کی تعداد گزشتہ چھ سال میں دوگنی ہوکر 33لاکھ تک پہنچ گئی۔ یہ انکشاف سرکاری اعداد و شمار سے ہوا۔ رائل کالج آف ویٹرنری سرجنز کے سابق صدرلارڈ ٹریز نے نشاندہی کی ہے کہ جانوروں کے گلے ہوش میں کاٹے جارہے ہیں اور ملک جانوروں کی بہبود کے اس شعبے میں پسماندہ ہے حکومت نے کہا ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ جانوروں کو بے ہوش کرکے ذبح کیا جائے۔ منسٹرز نے جانوروں کی بہبود کو بہتر بنانے کی مہم کے حصے کے طور پرتمام مذبح خانوں میں سی سی ٹی وی متعارف کرانے کے منصوبے کی نشاندہی کی ہے۔ انہوں نے بغیر بے ہوش کئے جانوروں کے مذبح میں اضافے کا ذمہ دارمسلم کمیونٹی کو دیا ہے جو بھیڑ کا زیادہ گوشت کھا رہی ہے فوڈ سٹینڈرڈز ایجنسی کے تازہ ترین اعداد و شمار کو اجاگر کرتے ہوئے انڈیپنڈنٹ کراس بنچر لارڈ ٹریز نے کہا کہ آیا منسٹر ان سے اتفاق کریں گے کہ جانورں کی بہبود کے حوالے سے ہم پسماندہ ہوتے جارہے ہیں۔ ماحولیات کے منسٹر لارڈ گارڈینر آف کمبلے نے کہا کہ حکومت اس بات کو ترحیح دے گی کہ ذبح کرنے سے قبل تمام جانوروں کوبے ہوش کیا جائے تاہم ہم گوشت کویہودیوں اور مسلم کمیونٹیز کے مذہبی عقائد کے مطابق بنانے کے لئے ان کے مذہبی شعار کا احترام کرتے ہیں۔ لیبر کے ماحولیات کے سابق منسٹر لارڈ روکر نے نشاندہی

x
Advertisement

کی کہ اس ملک میں آنے والی نیوزی لینڈ کی بھیڑوں کا گوشت حلال ہے حالانکہ انہیں ذبح کئے جانے سے قبل بے ہوش کیاجاتا ہے جب نیوزی لینڈ کے گوشت کو حلال کا درجہ دیا جاتا ہے تو ہم مقامی گوشت پرفیصلہ کیوں نافذ نہیں کرتے جو بین الاقوامی ضابطہ نہیں ہے۔ مسلم کمیونٹی کے حوالے سے ہم نیوزی لینڈ کی پریکٹس اختیار کیوں نہیں کرتے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں