آپ آف لائن ہیں
پیر 5؍رمضان المبارک 1439ھ 21؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیا ست ایک معزز پیشہ ہے ۔سیاست عوام کی بھلا ئی روزگا ر کی فر اہمی کے مو قع ،تعلیم اورعلا ج کی سہولتیں مہیا کر نے کا ذریع ہے ۔ہر کا م کو کر نے کے مختلف انداز ہو تے ہیں سیا سی جما عتیں اس کی انجام دہی اپنے اپنے فکروفلسفے کے مطا بق سر انجام دیتی ہیں ۔ان گر و ہوں میں نظریات کا اختلا ف قدرتی امر ہے ۔سیا ست امکا نات کا کھیل ہے۔ہر جما عت کو شش کر تی ہے کہ زیا دہ سے زیا دہ عوام اس کے فکر و فلسفہ سے اتفا ق کر یں اور اسے انتخابات میں اکثر یت دلوا کر حکومت بنا نے کا موقع دیں تا کہ وہ اپنے نظریات کے مطابق ریا ست کے کارو با ر کو سر انجام دے ۔الیکشن کے عمل کے ذریعے ہر ایک پارٹی کو اکثریت حا صل ہو جا تی ہے جو حکومت بنا لیتی ہے دوسری پارٹی یا پارٹیاں اس کی حلیف بن جا تی ہیں بقایا پارٹی یا پارٹیاں حزب اختلا ف کہلا تی ہیں ۔حکومت قانون سا زی کر تی ہے پارلیمنٹ میں بل پیش ہوتا ہے جس کی منظو ری کے لئے بحث و مباحثہ ہوتا ہے ۔حکومتی پارٹی کے بل پر حزب اختلا ف اعتراضات کر تی ہے اور اس بل میں تبدیلی کے لئے تجاویز پیش کر تی ہے ۔بحث و مباحثہ اور ضروری تر میم کے بعد بذریعہ رائے شما ری بل پا س ہو کر قانون کا درجہ حاصل کر لیتا ہے اس تمام عمل میں ذاتی مفاد یا انا کا عمل دخل نہیں ہوتا۔اس عمل میں دشمنی کا کو ئی عمل دخل نہیں ہو تا اور نہ ہی ہو نا

x
Advertisement

چاہئے۔ہمارے ہاں جمہو ری نظام برطا نوی دو ر سے شر وع ہوا ۔برطا نوی حکومت کے دو ر میں ہندوستان میں اسمبلیاں قانون سا زی کرسکتی تھیں انتظامی معاملا ت میں ان کا عمل دخل نہیں تھا یہ کام تاج بر طا نیہ کے نمائندے گور نر جنرل کا تھا ۔پا کستان بننے کے بعد اسمبلیاں قانون سا زی اور انتظامی امو ر کی بھی ذمہ ہو گئیں اور گورنرکا عہدہ نما ئشی رہ گیا ہے جو پریزڈنٹ کا صو با ئی نما ئندہ ہو تا ہے ۔1971ء تک اسمبلی کے ممبر اپر مڈل کلا س سے تعلق رکھنے والے ہو تے تھے ۔جو مشرقی تہذیب و تمدن کا نمونہ ہو تے تھے ۔پا کستان کے پہلے دس سالوں میں جو حکو متیں بنیں ان کے ممبر شائستہ ،وضع دار اور بقا ئے با ہمی جیو اور جینے دو کے نما ئندے تھے یہ انتہائی سنجیدہ اور با وقا ر لو گ تھے۔قا ئد ارعظم محمد علی جناح ،خان لیا قت علی خان سردا ر عبدالرب نشتر ،خان ولی خان ،خواجہ ناظم الدین ،مولوی تمیز الدین ،مولانا فضل حق ،حسین شہید سہروردی ،ایو ب کھوڑ و ،حا جی نو بہا ر شاہ وغیرہ جیسے لوگ ہوتے تھے ایو ب خان کے ما رشل لا ء کے دو ر میںبیشتر سیا سی رہنما ئوں کو ABDO ایبڈو کے ذریعے سیاست میں حصہ لینے کے لئے نا اہل قرار دے دیا گیا۔ سہروردی صاحب نے اس نا اہلی کو عدالت میں چیلنج کر دیا تھا اور جیت بھی گئے تھے ۔کو ئی بڑا لیڈر سیا سی میدان میں نہ تھا۔مغربی پا کستان میں ذولفقار علی بھٹو اور مشرقی پا کستا ن میں مجیب الرحمٰن جیسے لیڈر پیدا ہو گئے۔یحییٰ خان نے ملک میں الیکشن کر وائے ذولفقار علی بھٹو نے سیا ست میں بدکلا می اور الزام ترا شی کی سیا ست کو را ئج کیا ۔موصو ف ائیرمارشل اصغر خان کو آلو خان ،میاں ممتاز دولتا نہ کو دولے شاہ کا چوہا جیسے نا موں سے یا د فرماتے تھے ۔صنعت کا ر اور سرمایہ داران کے الزامات کا نشانہ تھے ۔اس لہجے اور طر ز خطا بت کو کپتان عمران خان نے اپنا لیا ہو اہے ۔مو صو ف بدکلا می اور جھوٹے الزامات لگا نے کے شہنشاہ ہیں ۔ موصوف کو جتنے کر د ار کشی کے نو ٹس ملے ہیں وہ ہما ری تا ریخ میں ریکا رڈ کا درجہ رکھتے ہیں ۔یہ فن انہوں نے بھٹو صاحب اور اپنے سیاسی استا د شیخ رشید سے سیکھا ہے ۔شیخ صاحب کے با رے میں لکھنا وقت ضا ئع کر نا ہے ۔آصف علی زردا ری صاحب جو بڑے دھیمے مز اج کے ما لک ہیں اس غلط فہمی کا شکا ر ہو گئے ہیں کہ الزام ترا شی اور بد کلامی ووٹ بنک میں اضا فے کا ذریعہ ہیں ۔یو م یکجہتی کشمیر کے مو قع پر مو چی گیٹ لا ہو ر میں بجا ئے کشمیر کی تا ریخ اور کشمیری بہن بھائیوں کی قربانیوں کا ذکر کر تے مو صو ف نے میاں نوا ز شر یف کو دھر تی پر بو جھ ہو نے کا الزام لگا یا اور فر ما یا کہ اگر میں انہیں معا ف کر تا ہوں تو خدا مجھے معا ف نہیں کر ے گا ۔میاں صاحب کو کر پشن اور بد انتظامی کا مجرم قرا ر دیا اور فر ما یا کہ میاں نواز شریف درندہ ہیں ۔انہوں نے کشمیر کے با رے میں ایک لفظ نہیں کہا ۔اس قسم کے الزامات جنا ب اعتزاز احسن صاحب اور قمر الزمان قائرہ صاحب نے بھی لگا ئے ہیں ان قابل عزت و احترام تینوں حضرات کے خطا ب سے چند گھنٹے پہلے میاں نوا ز شریف صاحب نے مظفر آبا د اور آزاد کشمیر سر حد کے دونوں طر ف کے کشمیری بہن بھا ئیوں سے یکجہتی کا اعادہ کرنے مقبوضہ کشمیر کے قریب تر ین شہر میں کشمیر یوں سے بحثیت پا کستان کے بڑے لیڈر اور کشمیر ی خاندان کا فرد ہو نے کے لئے گئے ہو ئے تھے اپنے خطا ب میں میاں صاحب نے فر ما یا کہ کشمیر ی بہن بھائیوں سے میرا قومی رشتے کے علاوہ خونی رشتہ بھی ہے ۔اسی قسم کے جذبات کاان کی صاحبزادی مر یم نو از نے بھی تذکرہ کیا۔آصف علی زرد اری جس عظیم الشان شہرت کے ما لک ہیں اس کا تذکرہ فضول ہے ۔زردا ری صاحب سرے محل اور فرانسیسی آبدوز ں کی خرید سے کمیشن خو ری کو بھول گئے ہیں ۔ سوئس مجسٹریٹ نے انہیں منی لاڈرنگ اور کمیشن وصول کر نے کی پا دا ش میں سزا سنا ئی تھی جسے وہ بھو ل گئے ۔ انہوں نے اپنی زبان کاٹے جانے ،نسیان کے مریض ہو نے اور یو سف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ کی قربانی دیکر مقدمہ کو TIME BAR کر وایا وہ گنس بک آف ورڈریکارڈ میں درج ہو نے کے قابل ہے ۔شیخ رشید عمران خان اور نئے کھلاڑی زرداری سے درخواست ہے کہ اپنی روش بدلیں اور سیاست کے قابل احترام پیشے کو بدنامی سے بچائیں ۔بڑے سیا سی رہنما کی شایان شان رو یہ اختیا ر فر ما ئیں اور اپنے منشو ر کی تفصیلا ت سے آگا ہ فر ما تے رہیں اپنے اپنے صو بے میں تر قیا تی اور اصلا حی کا م کر یں ۔عوام بیزا ر ہو چکے ہیں وہ کا ر کردگی کی بنیا د پر ووٹ دیں گے ۔الیکشن میں کا میا بی کے لئے اپنے کا رنا موں پر انحصا ر فرما ئیں ۔خا لی ہا تھ جا نے والوں کو ووٹ نہیں ملے گا ۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں