آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مسلم لیگ ن میں جو مفروضہ اور سازشی کہانیا ں چل رہی ہیں ان کے مطابق نواز شریف کی نااہلی کے اقدام کے بعد اس سازشی کہانی کے تمام کردار بغاوت پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ کچھ بھی وہ نہیں ہو رہا جس کے لئے کہانی لکھی گئی تھی۔ کچھ بھی وہ نہیں ہو رہا جس کے لئے یہ سب اسٹیج سجایا گیا تھا۔ کمزور کہانی کی وجہ سے نہ صرف تمام تدبیریں الٹی پڑ گئیں بلکہ بنا بنایا کھیل بھی بگڑ گیا۔ نواز شریف کی نااہلی تک سب مہرے ٹھیک ٹھیک بیٹھ رہے تھے۔ اسی لئےجے آئی ٹی بنائی گئی۔ اس متنازع جے آئی ٹی میں پسند کےلوگ جمع کئے گئے۔ ثبوت پیش کئے گئے۔ اپنی پسند کی دلیلیں دی گئیں۔ کہانی میں سسلین مافیا کہہ کر فیصلہ تیارہوا۔ کرپشن کے الزامات کی بھر مار کی گئی اور جب ثبوت کی باری آئی تو سوائے ایک اقامے کے کچھ بھی نہ ملا۔ اسی لئے تو نواز شریف کہتے ہیں کہ قصہ مختصر ایک اقامے کا بہانہ بنا کر تیسری دفعہ منتخب وزیراعظم کو کھڑے کھڑے فارغ کر دیا گیا۔ ان سازشی تھوریوں کے مطابق یہاں تک تو سب کچھ اسکرپٹ کے مطابق سوچا گیا لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ کسی کے گمان میں نہیں تھا اور ایسا اس ملک کی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہے۔
عام خیال کے مطابق سوچا یہ گیا تھا کہ جیسے ہی نواز شریف نااہل ہوں گے پارٹی میں پھوٹ پڑ جائے گی۔ نواز شریف کرپشن کے الزام لگنے کے بعد چپ چاپ

منہ چھپائے گھر چلے جائیں گے۔ مسلم لیگ ن کا ایک اور ونگ تیار کھڑا ہوگا۔ وقتی طور پر جو وزیر اعظم لگایا جائے گا سب سے پہلے وہ ہی بغاوت کر دے گا۔ پھر فصلی پرندوں کی باری آئے گی۔ ساٹھ سے ستر اراکین اسکرپٹ کے مطابق اپنی نئی تجویز کردہ راہ پر چل پڑیں گے۔ پارٹی قیادت میں بحرانی کیفیت ہو گی۔ بھائی بھائی کے مقابل آجائے گا۔ اس صورت حال کا فائدہ عمران خان کو پہنچے گا۔ تحریک انصاف ایک دم زور پکڑ جائے گی۔ عوامی رائے عامہ عمران خان کو جگہ جگہ خراج تحسین پیش کرے گی۔ کرپشن کے خلاف مہم چلانے پر اپوزیشن اچانک سے ہیرو بن جائے گی۔ اپوزیشن کے احتجاج کو ہلہ شیری دینے کے لئے مذہبی کارڈ کھیلا جائے گا۔ ملک میں بد امنی بڑھے گی تو جگہ جگہ احتجاج ہوں گے۔ ان احتجاجوں سے تنگ آ کر کئی صوبائی اسمبلیاں توڑ دی جائیں گی۔ سینیٹ کے الیکشن سے پہلے ایک آئینی اور قانونی بحران پیدا ہو جائے گا۔ جس کے نتیجے میں ایمر جنسی کی صورت حال پیدا کر کے ایک ٹیکنو کریٹس حکومت لائی جائے گی۔جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ بین الاقوامی دنیا کی جانب سے گھر صاف کرنے والے دبائوکا مقابلہ کرنے کا فریضہ، پھرسازشی کہانیوں کے کرداروں کو سونپ دیا جائے گا اور راز کی باتیں راز ہی رہ جائیں گی۔ ایک مفروضہ یہ بھی ہےکہ یہ سوچا گیا ہو گا کہ ابتدا میں اس ٹیکنو کریٹ حکومت کا ایجنڈا صرف الیکشن کروانا ہو گا لیکن حالات کے تقاضے کو سمجھتے ہوئے اس حکومت کا دورانیہ طویل ہوتا جائے گا اور تین سال تک یہ نظام ملک میں رہے گا۔ تین سال تک لوگ نواز شریف کا نام بھی بھول چکے ہوں گے۔ کئی نئی پارٹیاں مسلم لیگ ن کے بطن سے پیدا ہو چکی ہوں گی اور کہانی کا انجام مفروضے کے مطابق سازشی کرداروں کے اختیار میں ہو گا۔ وہ اپنی مرضی سے اس ملک میں کردار تخلیق کریں گے جس کو چاہیں گے ہیرو بنائیں گے اور جس کو چاہے ولن کا کردار تفویض کریں گے۔خوش قسمتی سے جوکچھ سوچاگیا تھا وہ سب کچھ نہیں ہوا۔ ہر میدان میں بساط الٹ گئی اور ہر مہرہ دغا دے گیا۔
نواز شریف نے منہ چھپا کر چپ چاپ گھر جانے کے بجائے جی ٹی روڈ سے واپسی کا فیصلہ کیا اور اس ایک فیصلے نے سارامبینہ بنا بنایا کھیل ہی بگاڑ دیا۔ اس کے بارے میں نہ کوئی نوٹس موجود تھے نہ اس صورت حال کے لئے کوئی پیش بندی کی گئی تھی۔ جی ٹی روڈ کے سفر میں راولپنڈی اور گوجر خان تک تو صورت حال قابو میں رہی مگر جہلم سے آگے پہنچ کر عوام کے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ جہلم سے آگے جہاں جہاں یہ قافلہ جمہوریت گزرتا گیا وہاں وہاں لوگوں کے خون میں مجھے کیوں نکالا کا نعرہ سماتا گیا۔ بحالی عدل تحریک زور پکڑتی گئی اور نواز شریف کا بیانیہ دلوں میں گھر کرنے لگا۔ لاہور تک پہنچتے پہنچتے نواز شریف بھی بدل چکے تھے اور اس ملک کی تاریخ بھی بدل چکی تھی۔ عوام کی قوت کسی بھی سیاسی لیڈر کو توانا رکھتی ہے اس ایک سفر نے نواز شریف کو بھرپور قوت عطا کی جس کا شاید ان کو بھی اندازہ نہیں تھا۔ عوام کی محبت کا ہی نتیجہ تھا کہ فصلی بٹیرے جو پارٹی قیا دت سے بغاوت کے لئے پر تول رہے تھے وہ سہم گئے اور پارٹی میں پھوٹ ڈالنے کاخواب تعبیر نہ ہو سکا۔ ساٹھ سے ستر ارکان تو ایک طرف ایک کونسلر تک نے استعفیٰ نہ دیا۔ جس سے مفروضہ منصوبے کی خامیوں کا بخوبی انداز ہ ہوتا ہے۔ جلدی میں منتخب کئے گئے وزیراعظم نے جیسے ہی عنان حکومت سنبھالی وہ دن رات اپنے کام میں جت گئے۔ سب منصوبے پھر اسی رفتار سے پایہ تکمیل تک پہنچنے لگے۔ اس پر طرہ یہ کہ شاہد خاقان عباسی جگہ جگہ کہہ رہے ہیں ان کا وزیراعظم نواز شریف ہے۔ اس قسم کی صورت حال کے لئے شایداسکرپٹ میں کوئی گنجائش نہیں تھی۔ شاید مفروضہ کرداروں کے ذہن میں کوئی عمران خان جیسا شخص تھا جو وزارت عظمی کی کرسی تک پہنچنے کے لئے کچھ بھی کرسکتا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نےساری امیدوں پر پانی پھیر دیا ۔
یہ مفروضہ کہ نواز شریف کی نااہلی سے عمران خان کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا جی ٹی روڈ پر ہی دم توڑ گیا اور اگر اس مفروضے کے جسد خاکی میں اگر زندگی کی کوئی رمق بھی تھی تو لاہور میں اپوزیشن کے ناکام ترین جلسے کے بعد وہ بھی ختم ہوگئی۔ تمام اپوزیشن پارٹیز کی جانب سے مشترکہ طور پر اتنا شرمناک شو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ دوسری جانب مذہب کا کارڈ پوری شدت سے کھیلا گیا پہلے خادم رضوی میدان میں تشریف لائے اور پھر سیالوی صاحب نے محاذ کھول لیا۔ خادم رضوی سڑکیں تو بند کروانے میں کامیاب ہو گئے مگر اپنی دشنام طرازی کے سبب دلوں میں گھر کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ دوسری جانب سیالوی صاحب نے تو ابتدا میں یہی تاثر دیا کہ اب وہ حکومت گرانے کے درپے ہیں مگر پھر اچانک کہانی کا کچا چھٹا چوک میں کھول دیا۔ اس صورت حال کا بھی شاید کسی کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ لاہور کے ناکام ترین جلسے میں شیخ رشید نے آخری کوشش کے طور پر اسمبلیوں سے استعفیٰ دلوانے کی ناکام کوشش کی مگر اس دفعہ بھی ناکامی مقدر ہوئی۔ ایک سازشی تھیوری کے مطابق اس تمام ہزیمت سے گزرنے کے بعد مبینہ سازشی کرداروں پر منکشف ہو گیا تھا کہ اب سینیٹ کے الیکشن نہیں رک سکتے تو بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد لا کر معاملہ تلپٹ کرنے کا سوچا گیا اور اس دفعہ محمود خان اچکزئی نے اس سارے منصوبے کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
اب صورت حال یہ ہے سینیٹ کے الیکشن ہونے کا امکان ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ ن کی سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کا امکان ہوگیا ہے۔ عام انتخابات ہونے کا امکان ہوگیا ہے۔ اب نااہل ہو کر نواز شریف، وزیراعظم سے کہیں زیادہ طاقتور ہو گئے ہیں۔ ان کا بیانیہ روز بروز مقبول ہو رہا ہے۔ عوامی پذیرائی ان کو حاصل ہے۔ ان کے بیانیے کے مقابلے میں کوئی بیانیہ باقی نہیں رہا۔ 2018 کے انتخابات کے نتائج اب نوشتہ دیوار ہیں۔ لیکن ناکام اور نامرادکچھ لوگ ابھی بھی اپنے کام میں لگے ہوئے ہیں۔ انتخابات تک ابھی کہانی میں ایک ہزار موڑ آئیں گے۔ لیکن عوام کی قوت کا ابھی تک کوئی علاج تجویز نہیں کیا گیا۔ اس حد تک غلط منصوبہ بندی پر سوچ و بچار کر لینی چاہئے جو کہ ان کے لئے پھانسی سے بھی بڑی سزا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں