آپ آف لائن ہیں
اتوار 4؍رمضان المبارک 1439ھ 20؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Todays Print

لاہور (تجزیہ /پرویز بشیر ) لودھراں این اے 154میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کو سیاسی و عوامی حلقے نواز شریف کے بیانیے کی کامیابی قرار دے ر ہے ہیں۔ چند ماہ کے عرصے میں اس بیانیے نے کافی مقبولیت حاصل کی اور عوام نے اس کو پذیرائی بخشی۔ یہ کامیابی کوٹ مومن کے جلسے کے بعد شروع ہوئی جس کے بعد چکوال کے ضمنی انتخاب میں کامیابی۔ پھر ہزارہ، پشاور اور جڑانوالہ کے بڑے بڑے جلسوں سے ثابت ہوا کہ عوام میں نواز شریف کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور کے طاہرالقادری اور اپوزیشن کے جلسے کی ناکامی نے ہر ایک کو چونکا دیا۔ لودھراں میں تحریک انصاف کے گڑھ میں کامیابی نے آئندہ عام انتخاب میں نقشہ واضح کر دیا۔ لودھراں میں جہانگیر ترین کی ناکامی کی ایک وجہ عمران خان کی پالیسیاں ہیں۔ لاہور جلسے سے پہلے آصف زرداری کی قربت نے ان کے ووٹروں کو ان سے متنفر کر دیا۔ اس کے علاوہ عام لوگ مسلسل سازش ، دھرنوں اور احتجاجی سیاست سے بیزار اور تنگ آ گئے تھے۔ پھر عمران خان کی یہ تضاد بیانی کہ وہ پھر موروثی سیاست سے نفرت کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس انہوں نے عدالت سےنااہل قرار پانے والے جہانگیر ترین کے بیٹے کو امیدوار بنا کر زبردست یوٹرن لیا۔ اس سے بھی بڑھ کر عمران خاں نے جہانگیر ترین کی اس سزا کو جو کہ عدالت نے انہیں دی اس کو عمران خاں نے تسلیم

x
Advertisement

نہیں کیا اوران کی خرابیوں خامیوں کا دفاع کیا۔ یہ بھی ان کا بڑا تضاد تھا وہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی ذرہ برابر کوتاہی کو بہت بڑا جرم بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ووٹر ان کی اس بات کو سمجھ چکے ہیں ، اب عمران خان کے الزامات کو وہ سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ لودھراں میں کامیابی کا ایک بڑا پہلو یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا کوئی بڑا رہنما لودھراں کے ضمنی انتخاب کیلئے وہاں نہیں گیا جبکہ عمران خاں نے الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں جلسے کا اہتمام کیا لیکن ان کو پھر بھی ناکامی ملی۔ 

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں