آپ آف لائن ہیں
منگل6؍رمضان المبارک 1439ھ 22؍ مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Todays Print

لاہور (نمائندہ جنگ / نیوز ایجنسیز) محکوم طبقوں کی آوازعاصمہ جہانگیر کو لاہور میں سپردخاک کردیا گیا۔ مرحومہ کی رسم قل آج 3 بجے ہوگی ، نماز جنازہ قذافی اسٹیڈیم میں سید ابوالاعلیٰ مودودی کے صاحبزادے حیدر فاروق مودودی نے پڑھائی۔جس میں ملک بھر سے سیاستدانوں،وفاقی و صوبائی وزراء،ججز صاحبان، وکلا، ارکان پارلیمنٹ،سماجی شخصیات، دانشور، صحافی، تاجر، انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں، عام شہریوں کے علاوہ خواتین کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی ۔قذافی اسٹیڈیم کے باہر تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ عاصمہ جہانگیر کی میت صبح مقامی اسپتال کے سرد خانہ سے ایمبولینس کے ذریعے ان کی گلبرگ میں واقع رہائش گاہ پہنچائی گئی۔ نماز جنازہ کیلئے قذافی اسٹیڈیم کے باہر انتظام کیا گیا تھا۔ اس مقصد کیلئےسیکورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے۔جنازہ میں شرکت کیلئے لوگوں کی بڑی تعداد وقت سے پہلے ہی اسٹیڈیم پہنچ گئی تھی جبکہ پنجاب حکومت کی طرف سے اسٹیڈیم کے باہر عاصمہ جہانگیر کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے فلیکسز لگائے گئے تھے۔ عاصمہ جہانگیر کے گھر صبح ہی سے اہم شخصیات کی آمد شروع ہو گئی تھی۔ نماز جنازہ کیلئے مقررہ وقت سے کچھ دیر قبل عاصمہ جہانگیر کی میت کو قذافی اسٹیڈیم ایمبولینس میں رکھ کر لے جایا گیا۔ سینئر وکلا، دانشور، صحافی

x
Advertisement

،انسانی حقوق کی تنظیموں کے عہدیدار اور کارکن احتراماً ایمبولینس کے آگئے اور ساتھ ساتھ چلتے رہے جبکہ پولیس کے جوانوں نے ایمبولینس کو اسکارٹ کیا۔ حالی روڈ سے قذافی سٹیڈیم تک خواتین سمیت تمام شخصیات ایمبولینس کے ساتھ پیدل چلتی رہیں۔ ایمبولینس میں مرحومہ کے شوہر اور بیٹا بھی موجود تھے۔ نماز جنازہ میں لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس یاور علی،سینئر ترین جج جسٹس انوار الحق کے علاوہ جج صاحبان،اٹارنی جنرل پاکستان اشتر اوصاف علی،جسٹس( ر) خلیل رمدے، چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی، بیرسٹر اعتزاز احسن،سابق گورنر شاہدحامد، سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری،چیئرمین سینٹ رضا ربانی، وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق،سابق وفاقی وزیر پرویز رشید، مشاہد حسین سید ، قمر زمان کائرہ،صدر سپریم کورٹ بار پیر کلیم احمد خورشید ، سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد، اے این پی کے رہنما میاں افتخار،صلاح الدین غازی،سہیل ملک،گلوکار جواد احمد،عابد حسن منٹو،قیصر بنگالی،مطیع اللہ جان، احمد نورانی،حامد میر، انجم رشید،صوبائی وزیر طاہر خلیل سندھو، آئی اے رحمٰن،امتیاز عالم، جسٹس (ر) زاہد بخاری،آفتاب باجوہ، اعظم نذیر تارڑ،احسن بھون،عابد ساقی، جگنو محسن، منظوروٹو، عائشہ صدیقہ،صبا پرویز سمیت اہم سماجی قانونی شخصیات اور شہریوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی ۔نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مرحومہ کی مغفرت کے لئے دعا کی گئی جس کے بعد ان کی میت کو آخری آرام گاہ کی جانب بذریعہ ایمبولنس روانہ کردیا گیا۔عاصمہ جہانگیر کی وصیت کے مطابق تدفین لاہور کے علاقے بیدیاں روڈ پر واقع ان کے فارم ہاؤس میں کی گئی۔مختلف شخصیات کی جانب سے انکی قبر پر پھولوں کی چادریں بھی چڑھائی گئیں۔مرحومہ کی رسم قل آج بروز بدھ 3بجے 121ای حالی روڈ پر واقع ان کی رہائشگاہ پر ادا کی جائے گی ۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں