آپ آف لائن ہیں
اتوار 4؍رمضان المبارک 1439ھ 20؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Todays Print

اسلام آباد(طارق بٹ) لودھراں کے ضمنی انتخاب میں پارلیمنٹ پر ’’لعنت‘‘کرنے والے کے امیدوار کو ووٹرز نے باہر پھینک دیاجبکہ ایک رہنما جس نے ووٹ کا احترام کیا اس کے امیدوار کی حمایت کی،پی پی اب بھی 2013 کے مقام پر کھڑی ہے پی پی نے صرف 3ہزار 189ووٹ ہی لیے،سابق وزیر اعظم نوازشریف28 جولائی کے فیصلے کے بعد اپنے عہدے سے جانے کے بعد دوباہ بلندی پر جارہے ہیں ان کا سیاست میں ایسے بلندی پر آنا لودھراں کے این اے 145 میں ضمنی انتخاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔انتخاب میں پاکستان تحریک انصاف کو اور پیپلز پارٹی کو بڑی شکست ہوئی اور دونوں پارٹیوں کیلئے بہت سے عوامل اور سبق باقی رہ گیا۔یہ ہمیشہ اونچی اُڑان پر رہنے والی تحریک انصاف کیلئے زبردست شکست ہے،تحریک انصاف کے ٹکٹ ہولڈر کو 67000ووٹوں کے مارجن کی شکست ہوئی اور ان کے حریف نے 27000 ووٹوں کی لیڈ لی،جہانگیر ترین کے 2015 میں ووٹوں کی برتری 40000تھی ۔نوازشریف پر چڑھائی ،ان پر کیچڑ اچھالنا اور انہیں اپریل 2016 میں مختلف سیاسی اور دیگر کی طرف سے دیوار سے لگانے کی بات کی گئی بعدازاں اعلی عدالت کی جانب سے انہیں نااہل کیا گیا،الیکٹوریٹ کا یقین اس پر تھا کہ انہیں نشانہ بنایا گیا اور یہ حمایت کے مستحق ہیں۔انہیں نشانہ بنائے جانے کا کارڈ انہوں نے بہت اچھے سے کھیلا اور اسی سے ان کی مقبولیت کی اپیل

x
Advertisement

ہوئی ۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں